سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی  فیسیں۔۔۔لمحہ فکریہ 

 سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی  فیسیں۔۔۔لمحہ فکریہ 
 سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی  فیسیں۔۔۔لمحہ فکریہ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 میڈیکل سائنس کے کسی بھی طالب علم سے پوچھا جائے کہ تم ڈاکٹر کیوں بننا چاہتے ہوتووہ فوراً کہہ دے گا کہ میں دکھی انسانیت کی خدمت کرنا چاہتا  ہوں۔وہ غریب اور پریشان حال جو جیب میں پیسے نہ ہونے کی وجہ سے علاج نہیں کروا سکتے۔ میں ان کی دِل جوئی اور علاج کے لئے ہر ممکن کوشش کروں گا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک صحافی کسی کام کے سلسلے میں امریکہ گیا تو وہاں اسے کسی بیماری نے پریشان کردیا تھا،جس شہر میں اس کا قیام تھا اس شہر میں ایک پاکستانی ڈاکٹر کی بہت دھوم تھی۔وہ صحافی بھی اس کے کلینک جا پہنچا۔اس نے کلینک کے عملے کو اپنے تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں اور بیمار ہوں، مجھے آپ کے علاج کی ضرورت ہے۔ صحافی نے جس شخص سے بات کی تھی وہ سنتے ہی ڈاکٹر کے کمرے میں گیا اور انہیں پاکستان سے آنے والے کا تعارف کروایا اور بتایا کہ اسے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔یہ سنتے ہی پاکستانی ڈاکٹر سب مریضوں کوچھوڑ کر اپنے کمرے سے باہر آیا اوراس پاکستانی صحافی کو ساتھ لے کر اپنے کمرے میں چلاگیا۔ ڈاکٹر نے اسی وقت کھانے کا اہتمام کیا اور کھانے کے بعد پوچھا اب بتائیں آپ کو کیا مسئلہ ہے۔پاکستانی صحافی، ڈاکٹر کے خوشدلانہ رویے سے بہت متاثر ہوا۔جب اس کا چیک اپ ہو گیا اور ادویات مفت بھی مل گئیں تو اس نے ڈاکٹر سے اس خوشدلانہ رویے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ میں جب ڈاکٹر بن رہا تھا تو میرے والد مجھے اکثرکہا کرتے تھے کہ بیٹا جب تم مکمل ڈاکٹر بن جاؤ گے تو کوئی ایسا پاکستانی مریض تمہارے کلینک سے  اس لئے واپس نہیں جانا چاہیے کہ اس کی جیب میں تمہاری فیس دینے کے پیسے نہ ہوں۔

جب ڈاکٹر گفتگو کررہا تھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اس نے مزید بتایا بیشک یہ بات کہہ کر میرے والد اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں لیکن آج بھی جب کوئی،مفلوک الحال پاکستانی میرے کلینک پر آتا ہے تو مجھے اپنے سامنے والد کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ بیٹا کوئی پاکستانی مریض پیسے نہ ہونے کی وجہ سے تمہارے کلینک سے واپس نہ چلا جائے۔ڈاکٹر نے پاکستانی صحافی کو مخاطب کرکے بتایا کہ میں نے آپ کا علاج کرکے اور مفت دوائی دے کر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ میں نے اپنے مرحوم والد سے کیاہوا وعدہ پورا کیا ہے۔یہ تو اس پاکستانی ڈاکٹر کی بات تھی جو امریکہ میں جا بسا اور وہاں کی کمیونٹی میں اپنے خوشدلانہ رویے کی وجہ سے بہت مقبول ہوگیا۔ لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے پاکستان میں جتنے بھی ڈاکٹر مختلف شعبوں میں سپیشلائز کرتے ہیں۔وہ انسانیت کی خدمت کو بھول کر صرف اور صرف پیسہ کمانے کی مشین بن جاتے ہیں۔ میں نے ایک گھٹنے کا آپریشن ایک پرائیویٹ ہسپتال سے کروایا تھا اس وقت میں،بنک آف پنجاب میں ملازم تھا۔ آپریشن اور ہسپتال کے اخراجات بنک نے ادا کردیئے۔ چند سال بعد ایک بار پھر میرے دونوں گھٹنوں میں اتنی شدید تکلیف شروع ہوگئی کہ گھر میں بغیر سہارے کے چلنا پھرنا مشکل ہو گیا تھا تو میں اسی آرتھوپیڈک ڈاکٹر کے پاس گیا جس نے آپریشن کیا تھا۔اس  کے معاون نے پہلے تین ہزار روپے فیس وصول کی جو مجھے اپنی جیب سے ادا کرنی پڑی۔ ڈاکٹر صاحب سے میں نے مزید کہا میرا بائیں گھٹنا بھی چلنے کے قابل نہیں ہے اس کا بھی کچھ کردیں۔

یہ سنتے ہی ڈاکٹر نے ایک انجکشن لکھ کر اس کی پرچی میرے بیٹے کو تھما دی جو ہسپتال کی فارمیسی سے خرید لایا۔وہ انجکشن ڈاکٹر نے میرے بائیں گھٹنے میں لگا تو دیا لیکن جب میں کمرے سے باہر نکل رہا تھا تو ڈاکٹر کے معاون نے میرے قریب آکر کہا مزید دو ہزار روپے کی ادائیگی کر دیں۔یہ فیس ڈاکٹر صاحب کے انجکشن لگانے کی ہے۔ یہ سن کر میں ہکا بکا رہ گیا کہ بڑے ڈاکٹر کہلانے والے با ت کرنے کے بھی پیسے مانگتے ہیں۔  مجبوراً مجھے مزید دو ہزار کی ادائیگی بیٹے سے لے کر کرنی پڑی۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے ایک پیسہ بھی پنشن نہیں ملتی اور مزید کوئی ذریعہ نہیں جہاں سے پیسے آنے کی امید رکھی جائے۔ابھی پچھلے ہفتے کی بات ہے کہ میری داڑھ میں کچھ عجیب سا احساس ہونے لگا تو میں محلے کے ایک ڈینٹسٹ کے پاس چلا گیا۔اس نے میرے  داڑھ کا معائنہ کیا اور ایک روئی کا پھاہا دوائی میں ڈبوکر اس جگہ پر رکھ دیا جہاں سے کچھ درد کا احسا س ہورہا تھا۔میں جیسے ہی گھر پہنچا تو پہلے سے زیادہ درد ہونے لگا بلکہ اس جانب سے چہرہ بھی اچھا خاصا سوجھ گیا۔دو دن تو پیناڈول ایکسٹرا سے کام چلا یا لیکن جیسے ہی پیناڈول کا اثر ختم ہوتا ایک بار پھر درد اور تکلیف عروج پر ہوتی۔ میں تین ہزار روپے بیگم سے اس کے ماہانہ اخراجات میں سے لے کردانتوں کے ایک ڈاکٹر کے پرائیویٹ کلینک جا پہنچا اس نے چیک کر کے ادویات لکھ دیں جب میں واپس آنے لگا تو میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں تو اس نے کہا پانچ ہزار روپے دے دیں۔یہ سنتے ہی میری ہوائیاں اڑ گئیں میں حیرت سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا کہ پانچ ہزاراور وہ بھی ایک عمررسیدہ اور ریٹائر  شخص کے پاس کہاں سے آئیں گے۔یہ سن کر مجھے وہ امریکہ والا پاکستانی ڈاکٹر بہت یاد آیا جس کے باپ نے کہا تھاکہ بیٹا خیال رکھنا تمہارے کلینک سے کوئی غریب پاکستانی تمہاری فیس نہ دینے کی وجہ سے واپس نہ چلا جائے۔بمشکل  وہ ڈاکٹر تین ہزار روپے لینے پر آمادہ ہوا،حالانکہ وہ ایک سرکاری ہسپتال میں ملازم تھااور اس کو اچھی خاصی تنخواہ بھی ملتی ہو گی،لیکن کسی نے کیا خوب کہا ہے انسان کی ہوس کبھی ختم نہیں ہوتی۔صرف قبرکی مٹی ہی انسان کا پیٹ بھرسکتی ہے۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی فیسوں کو کم کرانے کی نہ حکومت کو فرصت ہے اور نہ ایف بی آر کی اس جانب توجہ ہے۔ پنشن بھی صرف سرکاری محکموں سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ملتی ہے بقیہ 80فیصد عمررسیدہ لوگ  در بدر ٹھوکریں کھانے کے لئے رہ جاتے ہیں یا اپنی اولاد پر بوجھ  بن جاتے ہیں۔یہ صرف میری کہانی ہے مجھ جیسے لاکھوں عمر رسیدہ لوگ ادویات اور علاج  معالجے کے لئے دھکے کھاتے پھر رہے ہیں کسی کو ان پر ترس نہیں آتا۔

مزید :

رائے -کالم -