زہرہ شاہد کے قتل کے بعد

زہرہ شاہد کے قتل کے بعد
زہرہ شاہد کے قتل کے بعد

  

کراچی کے حلقہ این اے 250کی صورت حال کا نوٹس چونکہ ملک بھر نے لے لیا تھا لہٰذا الیکشن کمیشن کی جانب سے یہاں 43پولنگ اسٹیشنزپر فوجی نگرانی میں ازسرنو پولنگ کرانے کا فیصلہ بھی فوراً آگیا۔ دھاندلی اور جبر کے واقعات تمام کراچی، حیدرآباد، بلکہ سندھ بھر میں کہاں نہیں ہوئے؟.... مگر چونکہ کراچی پاکستان کا دل ہے،جبکہ ڈیفنس کلفٹن کو کراچی کا دل کہا جاتا ہے اور بہت تعلیم یافتہ بااثر متمول لوگوں کا علاقہ ہونے کے ناطے اس کی آواز جلد سنی جا تی ہے، لہٰذا الیکشن کمیشن نے یہاں اپنی ساکھ فوراً بحال کرنا ضروری سمجھا، لیکن ازسرنو پولنگ سے ایک روز قبل اسی حلقہ انتخاب کی رہائشی ایک مہذب تعلیم یافتہ خاتون زہرہ شاہد حسین کو جو پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی نائب صدر تھیں، بے رحمی سے گھر کے دروازے پر قتل کر دیا گیا۔ یہ بہت بھاری خراج تھا ،جو عمران خان کی پارٹی نے ادا کیا ،یا ان سے وصول کیا گیا۔

اگرچہ قبل ازیں 14مئی کو اولڈ سٹی ایریا موسیٰ لین میں مسجد سے نماز پڑھ کر نکلنے والے جماعت اسلامی کے کارکن محمد یونس کو بھی فائرنگ کر کے قتل کیا جا چکا تھا، پھر 16مئی کو اسی طرح ناظم آباد میں جماعت اسلامی کے سابق یوسی ناظم عابد الیاس کو کار پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا، مگر 18مئی کو ڈیفنس میں زہرہ شاہد حسین کا قتل ایم کیو ایم کے لئے آفت بن گیا۔

عمران خان کا دوٹوک انداز میں براہِ راست الطاف حسین کو زہرہ شاہد کے قتل کا ذمہ دار قرار دینا ....اور الطاف حسین کے رد عمل پر ایم کیو ایم میں مہینوں برسوں سے موجود اندرونی خلفشار کا بھونچال بن جانا، کیا کسی آفت سے کم ہے۔!

کہا جاتا تھاکہ ایم کیو ایم کسی کمیونسٹ پارٹی کی طرح تنظیمی نظم و ضبط رکھنے والی جماعت ہے اور اس کا تنظیمی نیٹ ورک بہت مضبوط ہے۔ کسی زمانے میں جماعت اسلامی کے نظم و ضبط کی مثال دی جاتی تھی، مگر پھر ایم کیو ایم کے نظم و ضبط کو اس سے زیادہ مثالی قرار دیاجانے لگا، تاہم یہ بات برسبیل تذکرہ یا محض ایک مفروضہ تھی.... اور بس دیر اتنی تھی کہ کسی الیکشن کے نتائج پر ایم کیو ایم کے حریفوں کی جانب سے غیر معمولی رد عمل کے جواب میں ایم کیو ایم کا اپنا رد عمل اس طرح سامنے آئے کہ اس کے نظم و ضبط کو مفروضے کی طرح بہا کر لے جائے۔

چنانچہ اہم بات یہ نہیں کہ ایم کیو ایم انتخابات کے بھنور میں پھنس کر”فاتح“ کہلانے کے باوجود ”شکست خوردہ“ نظر آئی۔

اسے بھی اہم بات نہیں کہہ سکتے کہ الطاف حسین نے انتخابات کے نتائج پر مسلم لیگ (ن) کو ”پنجابیوں کی نمائندہ جماعت“ کہہ کر”آرے بیل مجھے مار“ قسم کی طنزیہ مبارکباد کا بیان دینے والے پہلے سیاستدان کا اعزاز حاصل کرنا کیوں ضروری سمجھا؟

پھر نواز شریف کو ”پنجابیوں کا مستند لیڈر“کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے اگلے روز ہی 12مئی کو الطاف حسین نے اپنی تقریر میں کراچی کو پاکستان سے الگ کرنے کی جو بات کی، وہ بھی بہت اہم ہونے کے باوجود اس لےے اہم نہیں کہ مختلف انداز سے بار بار کی گئی ہے اور اس وجہ سے اپنی اہمیت پہلے ہی کھو چکی ہے۔

الطاف حسین کی 12مئی کی تقریر میں اس بات کو بھی اہم نہیں سمجھنا چاہےے کہ عدم تشدد کے حوالے سے غفار خان کو اپنا فکری لیڈر ماننے والے الطاف حسین نے تین تلوار چوک کلفٹن پر دھرنا دینے والوں کے بارے میں کہا کہ” اگر مَیں کارکنوں کو حکم دے دوں تو انہیں تلواروں سے چھلنی کر دیں“ ....یا....” مخالفت بند نہ ہوئی تو ساتھیوں کو مٹّھیاں کھولنے کا کہہ دوں گا۔“ کیونکہ 25سال سے الطاف حسین کے فلسفہ ”عدم تشدد “کا انداز یہی رہا ہے ۔

اسے بھی غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیں کہ 12مئی کی تقریر کے اگلے روز ہی الطاف حسین نے یہ وضاحتی بیان کیوں دیا کہ انہوں نے کراچی کو ملک سے علیحدہ کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، جبکہ تیسرے روز الطاف حسین کو ”طبیعت کی ناسازی “کے سبب ”ڈاکٹروں“ نے آرام کرنے کا مشورہ دے دیا۔ بس یہ جاننا چاہےے کہ یہ ڈاکٹر برطانیہ کے بجائے پاکستان کے ڈاکٹر عشرت العباد ،ڈاکٹر فاروق ستار اور ”ڈاکٹر“ رحمن ملک تو نہیں تھے؟

اہم بات یہ بھی نہیں کہ حلقہ این اے 250اور اس حلقے کی دو صوبائی نشستوںپر متوقع طور پر ازسر نو پولنگ میں ایم کیو ایم کے مخالف جیت گئے،کیونکہ یہی تو 11مئی کو ہونے جا رہا تھا جسے روکا گیا۔

اہم بات تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم کی کشتی کے ”ناخدا“ کہلانے والے بے عزتی کے بعد بوجھ قرار دے کر اس طرح بیچ دریا میں اُتار دیئے گئے کہ بہت مال و دولت اور بڑا منصب (پارلیمانی اور حکومتی)بھی انہیں شاید عزت و سلامتی سے کنارے لگا سکے!

کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ زہرہ شاہد کا خون ٹپکے گا تو اس طرح جم جائے گا، زہرہ شاہد کے لہو نے جو خراج لیا وہ بہت منفرد ہے۔

 15مئی کو پاکستان میں متعین برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن کی صحافیوں سے گفتگو بھی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ ایک ذمہ دار غیر ملکی شخص نے جہاں حکومت پاکستان کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ”الطاف حسین کے کراچی سے متعلق بیان کو حکومت پاکستان کو سنجیدگی سے لینا چاہےے“........ وہیں یہ بتا دیا ہے کہ ”برطانوی پولیس کے پاس الطاف حسین کے سلسلے میں بے تحاشا شکایات موجود ہیں۔“

 پھر اسی روز الطاف حسین کا اپنے بیان میں یہ کہنا کہ ”این اے 250کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر فوج کی نگرانی میں دوبارہ پولنگ کرائی جائے، جو نتیجہ آئے گا مان لیں گے، ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے اور بات چیت کے ذریعہ ہر مسئلہ کا حل چاہتے ہیں“ ان کے بدلے بدلے لہجے کا غماز تھا۔

لیکن” ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے“ کا پیغام دینے والے الطاف حسین ،زہرہ شاہد کے قتل پر عمران خان کی جانب سے براہ راست الزام پر ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے اور کارکنوں کے ذریعہ رابطہ کمیٹی کے ارکان پر اس طرح تمام غصہ اُتار دیاکہ ایک جہاں حیرت زدہ اور ششد ر رہ گیا۔ حتیٰ کہ ایم کیو ایم کے پُرانے باغی آفاق احمد کو ترس آگیا اور انہیں کہنا پڑا کہ ”رابطہ کمیٹی کے ارکان پر تشدد اور انہیں مرغا بنانا شرمناک ہے۔“

حالانکہ الطاف حسین نے اپنی محبت میں رابطہ کمیٹی کے ارکان پر تشدد کرنے والے کارکنوں کو تحریری معافی نامے دینے کی ہدایت کی، مگر دوسری طرف 21مئی کو انہوں نے کارکنوں کی شکایت پر نہ صرف ایم کیو ایم کی کراچی تنظیمی کمیٹی تحلیل کردی، بلکہ 23مئی کو پاکستان اور لندن کی رابطہ کمیٹیاں بھی تحلیل کر دی گئیں۔

بڑے بڑے ہیرو اچانک زیرو ہوگئے۔ پہلے کسی تقریب میں ایم کیو ایم کے یہ ”ہیرو“ آتے تھے ،جو دو عشروں میں صرف الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی بدولت بے پناہ دولت اور اختیارات کے مالک بن گئے ہیں، تو آوازیں لگتی تھیں ”ہٹو ہٹو....بھائی آگئے“ مگر اب سرگوشی ہوا کرے گی”بچو بچو....بھائی آرہے ہیں“۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے الطاف حسین کے متنازعہ بیان پر دائر درخواست کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ ”حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے الطاف حسین کی تقریر کا نوٹس لیں“ جبکہ برطانیہ کے اخبارات میں الطاف حسین کے سیاسی مستقبل پر تبصرے ہونے لگے ہیں، مگر شاید ابھی یہ ممکن نہیں ہے کہ ایم کیو ایم پر الطاف حسین کی گرفت پہلے جیسی نہ رہے۔

برطانوی اخبار ”گارجین “ کے مطابق تو الطاف حسین طوفان میں گھرے ہوئے ہیں، مگر امکان ہے کہ وہ خود کو اس طوفان سے نکال لے جائیں گے، بشرطیکہ ....   ٭

مزید :

کالم -