رسول رحمت کے معجزات

رسول رحمت کے معجزات
رسول رحمت کے معجزات

  

کفر واسلام کی پہلی جنگ غزوہ¿ بدر تھی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو شاندار کامیابی عطا فرمائی اور کفر کی جڑ کاٹ دی۔ کافروں کے لئے بہت بڑا صدمہ تھا اور وہ مکہ میں بیٹھے تلملارہے تھے۔ ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ عمیربن وہب الحمجی جنگ بدر کے کچھ عرصہ بعد صفوان بن امیہ کے ساتھ مکہ میں بیٹھا تھا۔ عمیربن وہب قریش کے ان لوگوں میں سے تھا جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو ایذا پہنچانے میں پیش پیش ہوتے تھے۔ اس کا بیٹا وہب بن عمیر بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوکر قیدی بن گیا تھا۔

عمیر نے جنگ بدر کے حالات پر اظہار افسوس کیا اور مسلمانوں کے بارے میں برے الفاظ استعمال کئے۔ صفوان نے سن کر کہا: ”خدا کی قسم! جو لوگ بدر میں مارے گئے، ان کے بعد زندگی کا کوئی لطف باقی نہیں رہا“۔ عمیر نے کہا: ”بخدا تم نے سچ کہا۔ خدا کی قسم اگر میرے اوپر قرض کا بوجھ نہ ہوتا اور اہل وعیال کی فکر دامن گیر نہ ہوتی، جن کا میری عدم موجودگی میں ضائع ہوجانے کا خطرہ ہے تو میں ضرور مدینہ جاکر محمد کو قتل کردیتا (نعوذباللہ)۔ مدینہ جانے میں میرے لئے یہ بہانہ بھی ہے کہ میرا بیٹا ان لوگوں کے ہاتھوں میں قید ہے اور مَیں کہہ سکتا ہوں کہ اس سے ملنے آیا ہوں“۔صفوان نے موقع کو غنیمت جانا اور کہنے لگا: ”تمہارا قرض مَیں اپنے ذمے لیتا ہوں اور تیرے اہل وعیال کو میں اپنے اہل عیال کی طرح سے اپنی سرپرستی میں رکھوں گا۔“

عمیر نے اس سے کہا: ”بس اس معاملے کو کسی پر ظاہر نہ کرنا“۔ اس نے کہا: ”مَیں کسی کو نہیں بتا¶ں گا“۔ اس کے بعد عمیر نے اپنی تلوار خوب تیز کی اور اسے زہر میں بجھا دیا۔ پھر وہ مدینہ کی طرف چل پڑا۔ مدینہ پہنچ کر اس نے حضرت عمربن خطابؓ کو مسلمانوں کی ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ اس وقت وہ لوگ جنگ بدر کا تذکرہ کررہے تھے۔ اس جنگ کی وجہ سے اللہ نے انہیں جو عزت بخشی تھی اور ان کے دشمنوں کو جس عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس پر تبادلہ ¿ خےال کررہے تھے۔ حضرت عمربن خطابؓ نے عمیر بن وہب کو دیکھا کہ وہ تلوار سے مسلح تھا اور اپنا اونٹ مسجد کے دروازے پر بٹھا رہا تھا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”یہ دشمن خدا عمیر بن وہب ہے۔ خدا کی قسم! یہ کسی شرارت کے لئے آیا ہے۔ یہی ہے جس نے بدر کے میدان میں دشمنوں کو ہمارے اوپر چڑھائی کے لئے آمادہ کیا اور ہماری تعداد کا اندازہ اسی نے بتایا تھا“۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! یہ دشمن خدا عمیر بن وہب اپنی تلوار لے کر آیا ہے اور اس کا ارادہ ٹھیک نہیں ہے“۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے آﺅ“۔ حضرت عمرؓ اس کے پاس گئے اور اسے کھینچتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ اپنے انصاری ساتھیوں سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ جائیں اور اس خبیث پر نظر رکھیں کیونکہ اس کی نیت ٹھیک نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ عمرؓ اسے پکڑے ہوئے لارہے ہیں تو فرمایا: ”عمرؓ اسے چھوڑدو۔ پھر عمیرؓ سے کہا: ”اے عمیر یہاں میرے پاس آ¶“۔ عمیر آپ کے پاس پہنچا اور اپنے جاہلانہ طریقے کے مطابق سلام کیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہمیں سلام دعا کا بہتر طریقہ سکھایا ہے اور یہ اہل جنت کا طریقہ ہے جس میں سلامتی اور رحمت کی دعا دی جاتی ہے“۔ عمیر نے کہا: ”اے محمد! بخدا تم جانتے ہوکہ یہ طریقہ زیادہ پرانا نہیں، اس لئے مجھے معاف کیجیے، میں اس سے بے خبر ہوں۔“

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے عمیر! کس ارادے سے آئے ہو“؟ اس نے جواب دیا: ”میرا قیدی تمھارے پاس ہے۔ مَیں اسی کے لئے آیا ہوں۔ میرے ساتھ نیکی کرو اور اسے چھوڑ دو“۔ آپ نے فرمایا: ”یہ تیرے گلے میں جو تلوار لٹک رہی ہے اس کا کیا معاملہ ہے“؟ اس نے جواب دیا: ”اللہ تعالیٰ نے ہماری تلواروں کو غارت کردیا۔ کیا ان تلواروں نے (بدر میں) ہماری کوئی مدد کی“؟ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سچ سچ بتادو کہ تم کس کام کے لئے آئے ہو“؟ اس نے جواب دیا: ”میں تو اسی کام کے لئے آیا ہوں جس کا میں ذکر کرچکا ہوں“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے جھوٹ بولا، تم صفوان بن امیہ کے ساتھ حجرِ اسود کے قریب بیٹھے تھے پھر تم نے قریش کے مقتولین کا آپس میں ذکر کیا تو تم نے صفوان سے کہا، اگر میرے اوپر قرض کا بوجھ اور اہل وعیال کی ذمہ داری نہ ہوتی تو مَیں جا کر محمد کا کام تمام کردیتا۔ تمہاری بات سن کر صفوان نے تمہارا قرض بھی اپنے ذمے لے لیا اور تمہارے اہل وعیال کی دیکھ بھال کا وعدہ بھی کیا۔ تم مجھے قتل کرنے کے لئے آئے ہو، مگر میرے اور تمہارے ارادے کے درمیان اللہ تعالیٰ حائل ہے“۔

عمیر نے کہا: ”مَیں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں“۔ پھر کہا: ”یارسول اللہ! آپ ہمیں جو آسمان کی خبریں بتایا کرتے تھے اور آپ پر جو وحی نازل ہوا کرتی تھی ہم اسے جھٹلاتے تھے۔ اب یہ معاملہ جس کی آپ مجھے خبر دے رہے ہیں، اس کا علم میرے اور صفوان کے سوا کسی کو نہیں تھا۔ خدا کی قسم مَیں اچھی طرح جان گیا ہوں کہ اس کی خبر سوائے اللہ کے آپ کو کسی نے نہیں دی۔ پس حمد وثنا اس اللہ کی جس نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت دی اور مجھے چلا کر یہاں تک پہنچایا اور حقیقت حال میرے اوپر واضح ہوگئی“.... اس کے بعد عمیر نے کلمہ ¿ شہادت پڑھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قبول اسلام پر خوش ہوئے اور آپ نے صحابہؓ سے کہا: ”اپنے بھائی کو دین سمجھا¶ اور اسے قرآن مجید پڑھا¶۔ نیز اس کے قیدی کو آزاد کردو۔“ صحابہؓ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کی۔

اس کے بعد حضرت عمیرؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مَیں حالت کفر میں اللہ کے بندوں کو شدید تکلیفیں پہنچایا کرتا تھا اور اللہ کی روشنی کو بجھانے میں کوشاں تھا۔ آپ مجھے اجازت دیں کہ مَیں مکہ جا¶ں اور اہل مکہ کو اللہ اور اس کے رسول اور دینِ حق کی طرف دعوت دوں، شاید اللہ انہیں ہدایت دے دے۔ اگر انہوںنے اسلام قبول نہ کیا تو جس طرح مَیں اہل حق کو تکلیفیں پہنچایا کرتا تھا، اسی طرح دشمنانِ حق کو بھی ایذا پہنچا¶ں گا“۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمیرؓ کو اجازت دے دی اور وہ مکہ چلے گئے۔ حضرت عمیرؓ کے مدینہ کی طرف روانہ ہونے کے بعد صفوان بن امیہ امید لگائے بیٹھا تھا کہ عمیر جلد ہی کوئی خوش خبری لائے گا۔ وہ اہل مکہ کو ہر روز بتاتا کہ عنقریب تمہیں ایک خوش خبری سنا¶ں گا، جس کے بعد تم بدر کے غم کو بھول جا¶ گے۔ صفوان ہر قافلے سے حضرت عمیرؓ کے بارے میں پوچھتا رہتا تھا۔ ایک دن ایک سوار آیا اور اس نے صفوان کو بتایا کہ عمیر مسلمان ہوگیا ہے۔ صفوان کو بڑا افسوس ہوا اور اس نے قسم کھائی کہ وہ نہ تو عمیر سے کبھی کلام کرے گا اور نہ اسے کوئی نفع پہنچائے گا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت عمیر جب مکہ پہنچے تو لوگوں کو کھلے عام اسلام کی دعوت دینے لگے۔ اگر کوئی آپؓ کی مخالفت کرتا تو آپؓ اسے آڑے ہاتھوں لیتے۔ آپؓ کو کسی کا ڈر خوف نہیں تھا۔ آپؓ کے ہاتھ پر کثیر تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا۔

مزید : کالم