فیصل آباد انڈسٹریل پارک :معاشی انقلاب کا آغاز

فیصل آباد انڈسٹریل پارک :معاشی انقلاب کا آغاز
فیصل آباد انڈسٹریل پارک :معاشی انقلاب کا آغاز

  

شاہ فیصل مرحوم سے منسوب دریائے چناب کے کنارے فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا میٹروپولیٹن سٹی ہے۔ فیصل آباد کی زرخیز مٹی سے بہت سی نابغہ روزگار شخصیات نے جنم لیا جو دنیا بھر میں وطن عزیز کے فخر اور پہچان کا باعث بھی بنے۔ کرکٹ‘ ہاکی‘ ویٹ لفٹنگ‘ فٹ بال‘ کبڈی‘ ٹیبل ٹینس‘ بلیئرڈ‘ سنوکر‘ شکواش اور ہارس ریسنگ اور والی بال‘ باسکٹ بال کے مقابلوں میں فیصل آباد کے ہونہر کھلاڑیوں نے وطن عزیز کا نام روشن کیا۔ کپاس‘ گندم‘ گنا‘مکئی‘ سبزیات‘ پھل اور ان سے پیدا ہونے والی مصنوعات پاکستان کی برآمدات کا تقریباً نصف سے زائد ہے۔ ایم-2‘ ایم-3‘ ایم-4 اور جی ٹی روڈ کے ذریعے فیصل آباد‘ لاہور‘ اسلام آباد‘ پشاور ‘ کراچی اور دیگر شہروں سے منسلک ہے۔ 1896ءمیں فیصل آباد ریلوے سٹیشن قائم کیا گیا۔ مرکزی ریلوے لائن اور موٹر وے سے منسلک ہونے کی وجہ سے فیصل آباد میں کاٹن اور ریشم‘ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے علاوہ صنعتی کیمیکلز‘ ہوزری‘ اپیرل (بیرونی ملبوسات) ‘ پیپر‘ پرنٹنگ‘ زرعی آلات اور گھی فیصل آباد کی اہم صنعت میں شامل ہے۔ فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کا قیام 1909ءمیں عمل میں لایا گیا‘ جب یہ شہر لائل پور کے نام سے مشہور تھا۔

پنجاب کے شمال مشرقی شہر فیصل آباد کو پاکستان کا مانچسٹر بھی کہا جاتا ہے۔ جس کا رقبہ 12ہزار 30 مربع کلومیٹر ہے۔ پرائس واٹر ہاﺅس کاپر سٹڈی کے مطابق جی ڈی پی کے لحاظ سے بھی فیصل آباد کا شمار دنیا کے چند نمایاں شہروں میں کیا جا سکتا ہے۔ لاہور اور کراچی کے بعد فیصل آباد جی ڈی پی کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے۔ 2025ءمیں فیصل آباد جی ڈی پی گروتھ لاہور اور کراچی سے بڑھ کر 87 بلین ڈالر ہونے کا امکان ہے۔ جبکہ ملکی برآمدات میں فیصل آباد کا تناسب 40 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ 8 ٹاﺅنز پر مشتمل فیصل آباد شہر کے گھنٹہ گھر کو 8 بازاروں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔مشرقی پنجاب اور ہریانہ سے آنے والے مسلمان ہنرمندوں نے فیصل آباد کے صنعتی فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا۔

صنعتی شہر ہونے کی وجہ سے فیصل آباد وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ محمد شہبازشریف کی کاوش سے چینی صوبے شین ڈونگ کا سب سے بڑا ٹیکسٹائل گروپ شین ڈونگ روژی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کمپنی لمیٹڈ‘ فیصل آباد میں انڈسٹری اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کے اشتراک سے جدید ترین انڈسٹریل پارک بنانے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ جس پر ابتدائی لاگت کا تخمینہ ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ روژی گروپ کا کاروبار کاٹن اور اون کی سپننگ‘ نٹنگ‘ پرنٹنگ‘ ڈائنگ‘ فیبریکیشن اور ملبوسات کی تیاری کا سلسلہ آسٹریلیا‘ جاپان سے یورپ تک پھیلا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی انڈسٹریل پارک کے لئے روژی گروپ سے اشتراک کو بہتر جانا۔ پراجیکٹ دو فیز پر مشتمل ہے۔

پہلے فیز میں سپننگ‘ ویونگ‘ کلاتھنگ‘ ویئر ہاﺅس اور تیار مال کی لاجسٹک سپلائی چین کو موثر بنانے کے لئے 18 سے 24 ماہ کے دورانیے پر محیط فیز 1 میں 500 ایکڑ رقبے پر انڈسٹریل پارک قائم کرے گی۔ تقریباً ایک ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری سے 25 ہزار ملازمتیں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اس میں 530000 سپنڈلز کا سپننگ یونٹ‘ 10 کروڑ ہیٹرڈینم اور اینم یونٹ‘ 10 کروڑ میٹر پروسیسنگ یونٹ قائم ہوں گے بلکہ 135 میگاواٹ کے 2 پاور پلانٹس بھی نصب ہوں گے۔ فیصل آباد میں سوئی گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ٹیکسٹائل یونٹ میں بائی پراڈکٹ کے طور پر پیدا ہونے والی سٹیم دیگر ٹیکسٹائل یونٹس کو فروخت کی جائے گی اور سوشل ویلفیئر کے لئے کمبائن ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی قائم ہو گا۔24 ماہ کے بعد فیز 2 میں چینی کمپنی روژی گروپ فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے لئے 500 ایکڑ اضافی اراضی حاصل کرے گا جس کے لئے مزید ایک ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ چینی کمپنی ٹیکسٹائل صنعت کی نقل و حمل کو آسان بنانے کے لئے خصوصی سپلائی چین سسٹم قائم کرے گا اور موجودہ سپننگ یونٹس میں توسیع کی جائے گی۔

فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی سے نہ صرف براہ راست سرمایہ کاری کے فوائد حاصل ہوں گے بلکہ یہ ٹیکسٹائل کے فروغ کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہو گا اور ٹیکنالوجی کو کول پاور پلانٹس پر منتقل کرنے سے نیشنل ٹرانسمشن گرڈ پر لوڈ کم کرنے کے لئے 135 میگاواٹ کے 2 پاور پلانٹس اہم کردار ادا کریں گے۔ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لئے سٹیم کی اضافی فراہمی‘ سوئی گیس کی ڈیمانڈ پورا کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔ انڈسٹریل پارک کے ذریعے پاک چین دوستی کی عظیم اور روشن مثال قائم ہو گی۔ چینی ادارہ سکل ڈویلپمنٹ اینڈ کپیسٹی بلڈنگ کے ذریعے پاکستانی ہنرمندوں کے فن کو جلا بخشے گا۔ بلکہ وینڈرانڈسٹری‘ سپلائی چین‘ لاجسٹ ڈویلپمنٹ (ذرائع نقل و حمل) کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ انٹرنیشنل برانڈ ڈویلپمنٹ میڈ ان پاکستان کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ اور جی ڈی پی میں اضافہ تو ہو گا ہی‘ مقامی سطح پر مسابقت کا رحجان پیدا ہونے سے انڈسٹری مزید ترقی کرے گی۔ اس پراجیکٹ سے جی ایس پی پلس سٹیٹس کے بروقت اور زیادہ سے زیادہ فوائد اور استعمال ممکن ہے۔ ایک ارب یا اس سے زائد کی سرمایہ کاری کرنے والوں کے لئے انڈسٹریل پارک ایک بہترین موقعہ فراہم کرے گا۔

3سال میں 2 ارب روپے کی بیرو نی سرمایہ کاری جو کہ پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔ جس سے چین اور دیگر ممالک کے مزید سرمایہ کاری کے حصول میں مدد ملے گی۔ایک لاکھ خاندانوں کے لئے روزگار کے مواقع (35ہزار ڈائریکٹ ملازمت ‘ 60ہزار بلاواسطہ ملازمتیں)حاصل ہوں گے۔سکلز ڈویلپمنٹ اینڈ کپیسٹی بلڈنگ کے لئے اداروں کا قیام خوش آئند ہے۔ چینی گروپ روژی کی جانگ سے محنت کشوں کی لئے اپارٹمنٹس تعمیر کرے گا۔270 میگاواٹ کے پاور پلانٹس قائم ہوں گے(جس میں سے90میگاواٹ دوسری صنعتوں کے لئے میسر ہو گی)۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لئے بجلی کی پیداوار کے دوران سٹیم کی اضافی پیداوار جو سوئی گیس کا بوجھ کم کرے گی۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مرکز فیصل آباد میں بجلی اور گیس کی کمی کو پورا کرنے میں معاونت ملے گی۔ وینڈر(نقل و حمل)انڈسٹری سپلائی چین اور لاجسٹک کی ترقی سے پاکستان ریلوے کو کوئلے اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی نقل و حمل میں قیمتی ریونیو حاصل ہو گا۔جی ایس پی پلس سٹیٹس کے بروقت استعمال سے ایکسپورٹس اور جی ڈی پی میں اضافہ ہو گا۔فیصل آباد ٹیکسٹائل ہب کا استحکام اور ترقی خوش آئند ہے۔یہ پراجیکٹ ٹیکسٹائل سیکٹر میں اہم سنگ میل ہو گا جس سے میڈ ان پاکستان اور میڈ ان فیصل آباد برانڈ کی عالمی سطح پر رونمائی ہو گی۔مئی میں پاکستان ایٹمی طاقت بنا اور عین اسی ماہ ہم معاشی طاقت بننے جا رہے ہیں۔

مزید : کالم