فاٹا کی میڈیا کوریج

فاٹا کی میڈیا کوریج
فاٹا کی میڈیا کوریج

  

چند روز پہلے فاٹا (شمالی وزیرستان) میں دو ایسے واقعات رونما ہوئے ،جن کی مثال گزشتہ دس بارہ برسوں میں شاذ ہی دیکھنے کو ملی ہوگی! ان میں سے ایک واقعہ تو میرن شاہ کے گردونواح میں پاک فضائیہ کا وہ حملہ تھا،جس میں 80دہشت گرد مارے گئے تھے اور دوسرا حملہ وہ تھا جو شمالی وزیرستان ہی میں پاک افغان سرحد کے نزدیک کسی مقام پر کیا گیا۔یہ موخرالذکر حملہ 21مئی کو کیا گیا تھا اور اس میں مارے جانے والے دہشت گردوں میں بیرونی ممالک سے آئے ہوئے وہ پانچ دہشت گرد بھی تھے، جن کو خودکش حملوں کے ماسٹر مائنڈ بتایا جاتا ہے۔ان حملوں کے بارے میں چند باتیں قابل غور ہیں، جو پاکستان کے گزشتہ دس بارہ سالوں کے معمولات سے ہٹ کر تھیں۔

پہلی بات ان حملوں میں ناگہانیت (Surprise) کا عنصر تھا کہ یہ دونوں حملے اچانک کئے گئے۔ان میں پاک فضائیہ نے غالب حصہ لیا اور ان میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔میرن شاہ والے حملے کے بعد اگلے روز دہشت گردوں نے ایک حملے میں پاک فوج کے ایک میجر اور چار دوسرے رینکس کو شہید کردیا ۔اس کے جواب ہی میں دوسرا فضائی حملہ کیا گیا، جس میں پانچ شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری بات ان حملوں میں جدید اسلحہ (Weaponary)کا استعمال تھا کہ ان میں پہلی بار پاکستان ساختہ ڈرونوں سے کام لیا گیا....پاکستان ایک عرصے سے ڈرون سازی کررہا ہے۔گلوبل ڈیفنس پروڈکشن پر نظر رکھنے والوں کے علم میں ہے کہ چین بڑی تیزی سے ڈرون سازی کی صنعت میں پیش رفت کررہا ہے۔غیر مسلح ڈرون جو ریکی وغیرہ کے لئے استعمال ہوتے ہیں، وہ تو پاکستان کے پاس پہلے ہی تھے اور ان کو استعمال بھی کیا جا رہا تھا، لیکن مسلح ڈرونوں کی ٹیکنالوجی حالیہ برسوں میں چین سے حاصل کی گئی ہے اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان، مستقبل کے میدان جنگ کی یہ موثر ترین مشین خود بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ہو سکتا ہے ہم امریکہ کے Predatorوغیرہ کا مقابلہ نہ کر سکیں، لیکن ان کی ہمیں فی الحال ضرورت بھی نہیں۔معلوم ہوتا ہے پاک فضائیہ اور پاک آرمی نے باہمی شراکت سے ایسے ڈرون بنا لئے ہیں جو اہداف کی ریکی کرکے بمبار طیاروں کو ٹارگٹ کے کوآرڈی نیٹس فراہم کر دیتے ہیں،جن کی مدد سے اہداف پر درست نشانہ لگایا جا سکتا ہے۔ان حملوں میں کسی غیر ملکی ماسٹر مائنڈ کا مارا جانا اور پھر ISPRکی طرف سے اس کے نام (صابر) کا انکشاف اور مارے جانے والے دوسرے شدت پسندوں کے ناموں کی تفصیلات بتانے کے عمل میں آرمی اور ائر فورس کی شراکت شامل ہے....اور یہ امر حد درجہ باعثِ اطمینان ہے۔

اگلے روز سرگودھا کی مصحف بیس پر اردن کی رائل فضائیہ سے خریدے گئے ایف۔ 16 کی تقریب میں آرمی اور ائر چیف دونوں شامل تھے۔ آرمی چیف بطور مہمان خصوصی وہاں گئے تھے۔انہوں نے اپنی مختصر تقریر میں جہاں رائل اردن ائر فورس کے تعاون کا شکریہ ادا کیا، وہاں مستقبل کی جنگوں میں فضائی قوت کی اہمیت بھی یاد دلائی اور یہ خوشخبری بھی سنائی کہ پاک فضائیہ میں بہت جلد ایسے جدید طیارے انڈکٹ کئے جا رہے ہیں جو اس سروس کی قوتِ ضرب میں اضافہ کا باعث ہوں گے۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اگرچہ آرمی کو ایک محدود بجٹ ملتا ہے، لیکن آرمی نے ان F-16 طیاروں کی خریداری میں خصوصی دلچسپی لے کر اپنے حصے کے ڈیفنس بجٹ میں سے سسٹر سروس(پاک فضائیہ) کو مالی معاونت فراہم کی۔ان کے اس انکشاف پر حاضرین دیر تک تالیاں بجاتے اور خوشی کا اظہار کرتے رہے۔یہ تقریب دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ دہشت گردوں کی سرکوبی میں پاک آرمی اور پاک فضائیہ کس حد تک ایک ہی صفحہ پر آ چکے ہیں۔ دو روز پہلے حکومت کی طرف سے یہ بیان بھی آیا تھا کہ اگرچہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے گئے تاہم ضرورت پڑنے پر دہشت گردوں کے خلاف ”محدود کارروائی“ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے....یہ دونوں فضائی کارروائیاں جن کا ذکر سطوربالا میں کیا گیا، یہ وہی محدود کارروائیاں تھیں جو اب مذاکرات کے ”شانہ بشانہ“ چلتی رہیں گی۔

تیسری نئی بات میڈیا کا Embedded استعمال تھا کہ ہمارے میڈیا نے پہلی بار ان فضائی حملوں کی تشہیر میں ضرورت سے زیادہ ”سرگرمی“ نہیں دکھائی۔خبر کوصرف خبر تک ہی محدود رکھا گیا.... اب تک یہ ہوتا آیا تھا کہ جونہی فاٹا میں کسی جگہ ڈرون حملہ ہوا، فوراً ہی ”بریکنگ نیوز“ کا چوکٹھا سامنے ٹی وی سکرین پر نمودار ہوگیا۔ساتھ ہی ڈرون حملے کی تجسیم (Animation) بھی چلنے لگی۔خبر کے پانچ جملوں کو بیس بیس بار دہرایا جاتا تھا اور ہر بار بات اس فقرے سے شروع کی جاتی تھی: ”ہم آپ کو تازہ ترین خبر دیتے چلیں کہ....“ ایسی خبریں پڑھنے والی ”بیبیاں اور بیبے“ بطور خاص چینل انتظامیہ کی طرف سے منتخب کئے جاتے ہیں۔ اب بھی ہر چینل کے پاس اس قسم کے نیوز بریکرز کی کھیپ موجود ہے جن کی آواز کی گھن گرج یا نسوانی چیخ و پکار اور چرب زبانی قابل غور ہوتی ہے۔ وہ ”نیوز بریک“ کے متن کو اس انداز میں قرات فرماتے ہیں کہ گویا یہ کسی ہائی کلاس ڈرامہ کا نقطہ ءعروج (Culmination Point) ہو بلکہ وہ بھی اس کے سامنے ہیچ نظر آنے لگتا ہے....لیکن ان فضائی حملوں کی ”نیوز بریکنگ“ اول تو کی ہی نہیں گئی اور جب کی گئی تو اس میں وہ انداز نہ تھا جو قبل ازیں ہوا کرتا تھا۔

چوتھی بات آپ نے یہ بھی ملاحظہ کی ہوگی کہ قبل ازیں جونہی کوئی اس قسم کی نیوز بریک کی جاتی تھی تو فوراً ہر نیوز چینل اپنے نمائندے سے جائے وقوعہ کی تفصیلات کے لئے رابطہ کرتا تھا اور سوال کیا کرتا تھا : ”بتایئے اس خبر کی تفصیلات کیا ہیں؟“.... وہ ”خبر بریکر“ (پرنٹ میڈیا کی اصطلاح میں نامہ نگار خصوصی) عین اس لمحے سکرین پر نمودار ہوتا اور فرفر وہ تمام تفصیلات سامعین و ناظرین کے گوش گزار کر دیتا تھا جو ہر سامع اور ہر ناظر کو انگشت بدنداں کر دیتی تھیں اور وہ ناظر/سامع نیوز چینل کے اس ”چٹک پن“ پر حیران ہو جاتا تھا۔لیکن ناظر جو بات سوچتا نہیں تھا، وہ یہ تھی کہ وہ ”خبر بریکر“ منٹوں سیکنڈوں میں جائے وقوعہ پر کیسے پہنچ جاتا تھا۔پھر وہ اکیلا تو نہیں ہوتا تھا اس کے ساتھ کم از کم ایک دو کیمرہ بردار اور ایک روشنی بردار ضرور ہوگا اور ویڈیو لنک کا سازوسامان بھی تو کوئی اٹھاتا ہوگا!

 ناظر یہ بات بھی نہیں سوچتا تھا کہ ”چار فنکاروں“ پر مشتمل اس ٹی وی کوریج ٹیم کی رہائش کا کیا بندوبست ہوتا تھا۔چلو کھانے پینے اور دوسری اشیائے ضروریہ کا انتظام تو متعلقہ نیوز چینل کر دیتا ہوگا، لیکن کیا کسی ناظر/سامع کے ذہن میں یہ حقیقت بھی آئی کہ فاٹا کے اس علاقے میں کوئی بھی ”ٹی وی ٹیم“ اس وقت تک قیام نہیں کرسکتی جب تک وابستہ مفادات کی پناہ اور آشیرباد اس کو حاصل نہ ہو؟سوال یہ ہے کہ ان وابستہ مفادات کا رابطہ متعلقہ ٹی وی چینلوں سے کیسے ہوتا تھا اور ساری تفصیلات کیسے طے کی جاتی تھیں۔ اس کے لئے ذرا ذہن پر زور دیجئے، معلومات کی تمام پرتیں خود بخود آپ پر آئینہ ہوتی جائیں گی۔

زیر بحث دونوں فضائی حملوں کی کوئی روائتی بریکنگ نیوز کسی چینل سے نشر نہیں کی گئی(اور اگر کی بھی گئی تو کافی دیر کے بعد اس وقت کہ جب وابستہ مفادات نے موبائل فونوں سے رابطہ کرکے یہ تفصیلات بتائیں اور پھر نیوز چینل نے نشر کیں) حملوں میں تباہ شدہ مکانوں اور وہاں کے مکینوں کی آہ و بکا دکھانے اور سنوانے کا بھی کوئی سین نہ دکھایا گیا اور نہ ہی ان دہشت گردوں کی تصاویر دکھائی گئیں جو ان حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

اگر میری اس بات میں کسی کو شک ہوتو وہ پاکستان کے سب سے بڑے اور سب سے موقر انگریزی روزنامے ”ڈان“ (لاہور ایڈیشن) کی 26مئی 2014ءکی اشاعت اٹھا کر دیکھ لے۔اس کے صفحہ اول پر جو چار کالمی اکلوتی رنگین تصویر پرنٹ کی گئی ہے، اس میں فاٹا میں کچے مکانوں کا ملبہ دکھایا گیا ہے۔کچی اینٹوں کا ڈھیر سامنے پڑا ہے....سارے کچے جھونپڑے زمین بوس ہیں....ان کے دومکین حسرت و یاس کی تصویر بنے اس خانماں برباد منظر کو دیکھ رہے ہیں.... تین چا رپائیاں بھی ملبے کا حصہ ہیں جو زبانِ حال سے مکینوں کی غربت و افلاس پر نوحہ خواں ہیں.... کسی اور گاﺅں کے دو راہگیر بھی ملبے کے سامنے حیران و پریشان کھڑے ہیں۔ایک سائیکل پر سوار ہے اور دوسرا موٹرسائیکل سے اتر کر کفِ افسوس مل رہا ہے.... آٹھ سال کا ایک بچہ بھی دور کھڑا نظر آ رہا ہے۔

اور اس تصویر کے نیچے جو عنوان (Caption) لکھا ہے اس کا اردو ترجمہ ہے: ”ہفتہ کے روز میرم شاہ کے قبائلی اپنے تباہ شدہ مکانوں کے نزدیک کھڑے ہیں جن کو فوجیوں کے فضائی حملوں نے طالبان کے مشکوک ٹھکانے سمجھ کر برباد کردیا ہے....AFP)

یہ AFPایک مغربی خبررساں ایجنسی ہے جس کا پورا نام ”ایجنسی فرانس پریس“ ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تصویر اخبار ڈان کے کسی فوٹوگرافر نے نہیں اتاری، بلکہ انٹرنیٹ سے لی گئی ہے اور اسے AFPکے کسی اہلکار نے نیٹ پر چڑھایا ہے۔اس قسم کی سینکڑوں تصاویر ہر روز پرنٹ میڈیا میں استعمال ہوتی ہیں۔

قارئین محترم! مجھے فرانس والوں کی اس تصویر کشی کے مفہوم و مقاصد کے بارے میں کوئی شک نہیں، نہ ہی اس تصویر کے عنوان کی عبارت پر کوئی شک ہے، جس میں ”مشکوک طالبان ٹھکانوں“ کا ٹکڑا درج کرکے ”پاکستانی ائر سٹرائیک“ کے برحق یا ناحق ہونے کے سلسلے میں قاری کے ذہن کو سلگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مجھے تو اپنے اخبار ”ڈان“ پر حیرت ہے کہ جس نے بطور خاص اس تصویر کو منتخب کیا، چار کالموں میں لگایا، صفحہ ءاول پر لگایا اور اس کے علاوہ کوئی دوسری تصویر نہ لگائی گئی۔قارئین خود وہ تصویر دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ اس میں پوشیدہ پیغام کیا ہے، کس کی طرفداری کی گئی ہے اور کس کو نشانہ بنایا گیا ہے؟

بیاں میں نکتہ ءتوحید آ تو سکتا ہے

ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہئے؟

پاک آرمی اور پاک فضائیہ نے شائد مل کر جو نئی سٹرٹیجی مرتب کی ہے،لگتا ہے اس کے خدوخال یہ ہیں:

1۔ حملہ اچانک کیا جائے۔

2۔اس کی کوئی خبر (رئیل ٹائم) میڈیا پر نہ آنے دی جائے۔

3۔کسی صحافی کو جائے حملہ/ وقوعہ پر جانے کی اجازت نہ ہو۔

4۔ میڈیا وہی کچھ رپورٹ کرے جو اسے عسکری ترجمانوں کی طرف سے بتایا جائے۔اگر امریکہ اور NATOوالے اپنے صحافیوں کو Embeddedکرتے ہیں تو پاکستان نے اپنے صحافیوں کو کھلی آزادی کیوں دی ہوئی ہے؟ کیا پاکستان، ایسی کھلی آزادیءصحافت کا بار اٹھانے کا متمل ہے؟

قارئین کرام! آنے والا وقت بتائے گا کہ ہماری مسلح افواج نے اپنے ماضی کی دھنائی (Bashing) سے کوئی سبق سیکھا ہے یا نہیں سیکھا!

مزید : کالم