عبدالصبور خان خواجہ خیرالدین سے باتیں کرتے کرتے انتقال کر گئے

عبدالصبور خان خواجہ خیرالدین سے باتیں کرتے کرتے انتقال کر گئے
 عبدالصبور خان خواجہ خیرالدین سے باتیں کرتے کرتے انتقال کر گئے

  

خواجہ خیرالدین صاحب ایک عظیم بنگالی مسلمان تھے۔جنہوں نے 1970ءمیں متحدہ پاکستان کے آخری الیکشن میں ڈھاکہ سے شیخ مجیب الرحمن کا مقابلہ کیا اور اس زمانہ میں جب بنگالی مسلمان جذبات کی رو میں ایک سازش کے تحت بہا جا رہا تھا۔ صرف چند ہزار ووٹوں سے شکست کھائی۔ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران قید ہو کر کافی عرصہ کیمپ جیل لاہورمیں مقیم رہے،وہاں پر ان سے گپ شب چلتی رہتی تھی۔ ایک دن مہربانی کرکے اپنی زندگی کے ایک خاص حصہ کی کہانی سنائی جو پیش خدمت ہے۔بقول ان کے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران وہ ڈھاکہ امن کمیٹی کے چیئرمین تھے۔سقوطِ ڈھاکہ کے بعد وہ گرفتار کرکے ڈھاکہ جیل میں رکھے گئے۔انہیں اس وقت بنگلہ دیش کا میڈیا غداراعظم کے نام سے پکارتا تھا۔ڈھاکہ جیل میں ان کے ساتھ والے سیل میں عبدالصبور خان (ایوب خان کے سینئر وزیر) قید تھے۔اس عرصے میں وہ ایک دن رات کے وقت آپس میں گپ شپ میں مصروف تھے۔ہمارے درمیان سیل کی دیوار تھی اور ہم دونوں کے سامنے اپنے اپنے سیل کی سلاخیں تھیں۔باتوں کے دوران ہم ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھ سکتے تھے، کیونکہ ہمارے درمیان سیل کی دیوار تھی۔اس دوران عبدالصبور خان صاحب اچانک خاموش ہو گئے۔ مَیں نے پریشان ہو کر سامنے ڈیوٹی پر قیدی نمبردار کو آواز دی۔اس نے خان صاحب کو دیکھا اور بھاگ کر تمام جیل کی روشنی بند کردی۔مَیں بہت حیران ہوا کہ کیا ہوا ہے۔بعد میں پتہ چلا کہ خان صاحب میرے ساتھ باتیں کرتے اچانک حرکت قلب بند ہونے سے جاں بحق ہو گئے۔

خان صاحب کی نماز جنازہ پلٹن میدان ڈھاکہ میں ادا کی گئی۔بغیر کسی باقاعدہ اعلان کے ان کے جنازہ میں کم از کم ایک لاکھ مسلمان بنگالی شریک ہوئے، حالانکہ ابھی نیانیا بنگلہ دیش بنا تھا اور پاکستان کے خلاف میڈیا میں نفرت کا طوفان عروج پر تھا۔اتنی بڑی تعداد میں عوام کا خان صاحب کے جنازہ میں شریک ہونا ظاہر کرتا ہے کہ بنگالیوں کے دلوں میں نفرت کا طوفان پیدا کرنا ایک سازش تھی اور یہ سازش بے نقاب ہو رہی تھی، اس کے چند سال بعد مَیں نے ایک ہاکی میچ جو کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان ہو رہا تھا ، لائیو ٹی وی پر دیکھا کہ جب انڈیا کی ٹیم پاکستان کے خلاف گول کرتی تھی تو تماشائیوں میں کوئی جوش دکھائی نہ دیتا اور جب پاکستانی ٹیم انڈیا کے خلاف گول کرتی تو بنگلہ دیشی عوام جوش سے کھڑے ہو جاتے۔تماشائیوں کے اس جوش سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ انڈیا کے مقابلہ پر وہاں کے تماشائی پاکستان کے حق میں بہت پرجوش تھے اور نعرے بازی کررہے تھے۔اب بھی ورلڈ ٹی ٹونٹی کرکٹ میچ میں جو میچ انڈیا اور پاکستان کے دوران ہوا ، اس میں بھی پاکستان کے حق میں تماشائیوں کا جوش دیدنی تھا اور اسی لمحے حسینہ واجد کو یہ پابندی لگانا پڑی کہ کوئی بنگلہ دیشی کسی غیر ملکی جھنڈا کو لے کر میدان میں داخل نہ ہو۔

خواجہ صاحب کہتے ہیں کہ خان صاحب کی وفات کے بعد مجھے جیل سے نکال کر شیخ مجیب کے پاس لے جایا گیا۔شیخ صاحب نے اپنا ایلچی بنا کر مجھے پاکستان میں بھٹو صاحب کے پاس بھیجا اور پیغام دیا کہ میں بھٹو صاحب کو کہوں کہ انڈیا اور روس نے بنگلہ دیش پر بہت پریشر بڑھایا ہوا ہے۔انہوں نے بھٹو صاحب کو درخواست کی تھی ۔او آئی سی کی مدد سے بنگلہ دیش پر انڈیا اور روس کا پریشر کم کیا جائے۔میں اسلام آباد آیا اور سٹیٹ گیسٹ ہاﺅس میں ٹھہرا اور بھٹو صاحب کو شیخ مجیب کا پیغام دیا۔ چند دن بعد وزارت خارجہ کے ایک بہت سینئر افسر نے مجھے بتایا کہ میں کچھ عرصہ کے لئے انڈر گراﺅنڈ چلا جاﺅں۔مَیں نے حیران ہو کر پوچھا کہ ایسا کیوں ،جبکہ مَیں مسلمان برادر ملک کا ایلچی بن کر آیا ہوں تو اس افسر نے مجھے کہا کہ جو پیغام آپ لے کر آئے ہیں، اس کی اطلاع انڈیا اور روس کے سفارت خانے کو دے دی گئی ہے۔پھر مجھے انڈر گراﺅنڈ ہونا پڑے۔

ایک اور دلچسپ بات خواجہ صاحب نے مجھے بتائی کہ جب ضیاءالحق نے پاکستان مسلم لیگ کی صدارت پیر پگارہ کے سپرد کردی تو مجھے بہت دکھ ہوا کہ وہ مسلم لیگ جس کی قیادت قائداعظمؒ کیا کرتے تھے اب اس کی صدارت پیر پگارہ کریں گے۔مَیں نے اس سلسلے میں ضیاءالحق سے ملاقات کا وقت لیا۔مجھے 30منٹ ملاقات کا وقت دیا گیا۔میرا خیال تھا کہ مَیں مسلم لیگی ہونے کے ناطے سے ضیاءالحق سے احتجاج کروں گا۔ملاقات کے دوران ضیاءالحق صاحب میری کیک پیسٹری سے تواضع میںمصروف رہے اور مجھے 30منٹ کے دوران اصل معاملہ پر بات کرنے کا موقع تک نہ دیا گیا۔ اس ملاقات کے بعد ضیاءالحق صاحب مجھے الوداع کہنے کے لئے باہر تک تشریف لائے۔واپس جب گھر آیا تو بیگم نے پوچھا کہ سنائیں کیسی ملاقات رہی تو مَیں نے کہا کہ ملاقات تو بہت اچھی رہی۔خاطر مدارت بھی بہت ہوئی باہر تک چھوڑنے کے لئے بھی آئے، لیکن اصل بات کرنے کا موقع نہ ملا۔سننے میں آیا ہے خواجہ صاحب نے کہا کہ جب بھٹو کو سزائے موت کا فیصلہ سنانے سے پہلے جب بھی مولوی مشتاق حسین چیف جسٹس صاحب جب بھی ضیاءالحق کو ملنے آتے تو جرنیل صاحب جج صاحب کی کارکا دروازہ خود کھول کر ان کو خوش آمدید کہا کرتے تھے۔جرنیل صاحب دشمنوں سے بہت سخت تھے اور دوستوں پر ضرورت سے زیادہ مہربان۔

مزید : کالم