اُجڑنالاہور ریس کلب کا ؟

اُجڑنالاہور ریس کلب کا ؟
اُجڑنالاہور ریس کلب کا ؟

  

مارچ 1977ءمیں سینٹرل سپیرئر سروس جوائن کرنے اور تین سال تک مختلف تربیتی کورسز سے گزرنے کے بعدمارچ 1980ءمیں میری پہلی باقاعدہ تعیناتی لاہور میں بطور اے ایس پی ہیڈ کوارٹرز کینٹ ڈویژن ہوئی ۔اُن دنوں ایس پی کینٹ چوہدری بشیر بھدر اور ڈی آئی جی لاہور جنا ب جہانزیب برکی تھے ۔ سی سی پی او لاہو ر کا موجودہ دفتر اُن دنوں ایس پی کینٹ کا دفتر ہو ا کرتا تھااور تھانہ سوِل لائنز بھی اسی عمارت میں واقع تھا ۔ موجودہ تھانہ ریس کورس اُن دنوں تھانہ سوِل لائنز کی چوکی ہوا کرتا تھا ۔ تھانہ سوِل لائنز اور چوکی ریس کورس کی حدود میں جیل روڈ پر سروسز ہسپتال کے عین سامنے لاہور ریس کلب واقع تھی اور موجودہ ریس کورس پارک اِس کلب کا گُھڑدوڑ کا میدان تھا ۔

1977ءمیں پاکستان قومی اتحادکی تحریک ِنظام ِمصطفی کے دباﺅ کے تحت وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شراب اور قمار بازی پر پابندی لگا دی تھی ۔ لاہور ریس کلب قمار بازی کا بہت بڑا اڈہ تھا ۔یہاں ہفتہ میں چار دن گھوڑوں کی دوڑیں منعقد ہوتیں اور ہر دن سات آٹھ دوڑیں ہوتیں اور دوڑنے والے گھوڑوں پر لاکھوں کی شرطیں لگتیں ۔ کچھ لوگوں کو عوام سے شرطیں لگانے کی باقاعدہ اجازت دی گئی تھی ، جنہیں "بُکی"کہاجاتا تھا ۔بُکیوں کے لئے ریس کلب کے اندر کاﺅنٹر اور کیبن بنے ہوئے تھے جہاں شائقین اُن سے شرطیں لگاتے اور دوڑوں کے اختتام پر یہیںآکرہار جیت کے مطابق لین دین کرتے ۔ریس کلب کی داخلہ فیس 42روپے فی کس تھی اوریہ بُکیوں سے حاصل ہونے والی سالانہ فیس کے ساتھ ساتھ لاہور ریس کلب کی آمدنی کا بڑاذریعہ تھا ۔ ریس والے دن اوسطاً چار ہزار شائقین ریس دیکھنے اور شرطیں لگا نے آتے تھے ۔قمار بازی پر پابندی لگنے کے بعد بظاہر بُکیوں کے اجازت نامے منسوخ کردیئے گئے ، اُ ن کے کاﺅنٹر اور کیبن ہٹا دیئے گئے اور کہنے اور دکھانے کی حد تک دوڑیں بغیر شرط اور جوئے کے ہوتی تھیں۔لیکن حقیقت میں تمام سلسلہ اُسی طرح جاری تھا ۔

ا ب شرطوں اور پیسوںکا لین دین کاﺅنٹر اور کیبن کی بجائے تماشائیوں کی بھیڑ کے اندر اُنہی بُکیوںکے ذریعے کھلے عام ہوتا تھا ۔ حکومت کے قمار بازی کی ممانعت کے احکامات کی تعمیل کے لئے ایک مجسٹریٹ ، ایس ایچ او تھانہ سوِل لائنزاور انچارج چوکی ریس کورس،اور کبھی کبھار ڈی ایس پی سول لائنز، ہر ریس والے دن ریس کلب پہنچ جاتے اور بظاہر قمار بازی کی روک تھا م کرتے ۔ایک ادھ لاوارث سے تماشائی کو کسی سے شرط لگاتے اور پیسوں کا لین دین کرتے پکڑ لیتے ، وہیںکھڑے کھڑے پولیس کا کوئی افسر استغاثہ لکھ کر ملزم کو موقع پر ہی موجود مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر دیتا ، مجسٹریٹ وہیںکھڑے کھڑے سمری ٹرائل کر کے اُسے سو پچا س روپے جرمانہ کر دیتا ، تماشائی وہیں کھڑے کھڑے جُرمانہ ادا کر دیتا اور بھیڑ میں گم ہوجاتا اور دوبارہ اپنی اُنہی سرگرمیوں میں مشغول ہو جاتا ۔ مجسٹریٹ اور تھانے کی کارکردگی بن جاتی اورریس کلب کے کاروبار کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ اور یہ سب کچھ "بقائے باہمی" کے جذبہ کے تحت انتہائی "عمدگی"کے ساتھ گزشتہ تین سال سے جاری تھا ۔ لیکن یہ سب کچھ مجھے اُس وقت معلوم ہو ا جب ریس کلب والوں کی شامت اعمال سے انسداد ِ قمار بازی کی یہ ڈیوٹی میر ے سپر د ہوگئی ۔

ہو ا یوں کہ ایک روز چوکی انچارج نے اپنی جگہ ایک دوسرے سب انسپکٹر کو ریس کلب بھیج دیا لیکن اُسے ڈیوٹی کے بارے میں کچھ"بریف "نہ کیا ۔ سب انسپکٹر نے جب کھلے بندوں شرطیں لگتیں اور پیسوں کا لین دین ہوتے دیکھا تو ایک جگہ جھپٹ پڑا ۔ اُس نے دو بندوں کو پیسوں سمیت پکڑ لیا ۔ تماشائیوں کو یہ بہت عجیب لگا ۔ اُنہوں نے مزاحمت کی، سب انسپکٹر سے گتھم گتھا ہو گئے ، اُس کی وردی پھاڑ دی، بندے چھین لئے اور اسے زدوکو ب کرنا شرو ع کر دیا۔ سب انسپکٹر نے بدحواس ہو کر حفاظت ِ خود اختیاری اورمجمع کو ڈرانے کی غرض سے اپنا سرکاری ریوالور نکال لیا۔مجمع نے اُس سے ریوالور چھیننا چاہا ۔اس کھینچا تانی میں ریوالور سے گولی چل گئی اور ایک شخص موقعہ پر ہی ہلاک ہوگیا ۔تماشائیوں اورریس کلب والوں نے ہنگامہ بر پا کردیا ۔ سب انسپکٹر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج لیا گیا اور اُسے گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا ۔پولیس دباﺅ میں آگئی اور کلب انتظامیہ کے حوصلے بڑھ گئے ۔معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے تھانے اور چوکی کے انچارج اور ڈی ایس پی سول لائنزکو ریس کلب جانے سے روک دیا گیا اور اُن کی بجائے میری ڈیوٹی لگ گئی ۔ اب پولیس کی ایک ریزرو کی ڈیوٹی بھی لگ گئی تاکہ آئندہ کسی ناخوشگوار صورت حال سے بچا جا سکے ۔

ڈیوٹی والے دن میں اپنے ہیڈ کانسٹیبل ریڈر کے ہمراہ ریس کلب پہنچا ۔یہ میراریس کلب میں قدم رکھنے کا پہلا دن تھا۔ایک اَدھ ہفتہ میں ریس کلب کے اندر کے نظام اور صورت حال کو خاموشی سے دیکھتا اور سمجھتا رہا ۔ میں نے دیکھا کہ ہر ریس سے پہلے اُس ریس میں حصہ لینے والے گھوڑوں کو ریس کلب کے اندر ایک مخصوص جگہ چھوٹے سے دائر ے کے اندر گھمایاجاتا اور تمام شائقین اُس کے گرِداگر د کھڑے ہو کر اُن کو دیکھتے ۔ ان شائقین میں بُکی یا اُن کے نمائندے بھی موجود ہوتے ۔ بظاہر اس کا مقصد اگلی دوڑ میں حصہ لینے والے گھوڑوں کی رونمائی ہوتا تھا۔اس رونمائی کے دوران شائقین بُکیوںسے یا آپس میں اپنی اپنی پسند کے گھوڑوں پر شرطیں لگا لیتے اور شرط کی مکمل یا ٹوکن رقم کالین دین بھی کر لیتے ۔پانچ دس منٹ کے بعد گھوڑوں کو یہاں سے نکال کر اُس جگہ پہنچا دیا جاتا جہاں سے اُنہیں ریس کا آغاز کرنا ہوتا تھااور تماشائی سٹیڈیم کی طرز پر بنی ہوئی اُن سیڑھیوں پر آبیٹھتے جہاں ریس کا اختتام ہوتا تھا ۔

ریس کے اختتام پر فریقین ہار جیت کے مطابق ایک دوسرے سے حساب کتاب برابر کر لیتے ۔میں نے سمجھ لیا کہ جب گھوڑوں کو دائرے میں گھمایا جاتا ہے وہی وہ وقت ہے جب شرطیں لگتی ہیں اوراگر کسی طرح وہ پانچ دس منٹ خراب کردیئے جائیں تو شرطیں لگنے لگانے کا سلسلہ کم ہوسکتا ہے ۔چنانچہ میں اپنے ریڈر اور ایک دو کانسٹیبلان کے ساتھ مجمع کے قریب چلا جاتا اور بغیر کسی کو ایک لفظ بھی کہے یا گُھورے یا تنبیہ کئے خاموشی سے اُن کے اندر گھومنا شروع کر دیتا ۔جہاں جہاں میں جاتا تماشائی چھٹ جاتے اور اُن کا شرطیں لگانے کا عمل معطل ہو جاتا ۔ آہستہ آہستہ میں اپنے کام میں اتنا طاق ہو گیاکہ میں اُن کے یہ پانچ دس منٹ بر باد کر دیتا اور شرطیں نہ لگ پاتیں۔اس کے علاوہ بھی میں اورمیرا عملہ تماشائیوں پر نظر رکھتا اور جہاں کہیں ہمیں کوئی دو شخص آپس میں پیسوں کا لین دین کرتے نظر آجاتے ہم اُنہیں پکڑ لیتے اورہمیشہ صحیح جواری پکڑے جاتے۔ میں نے ایک کام اور کیا کہ اگر کوئی شرط لگاتا یا پیسوںکا لین دین کرتاپکڑ ا جاتا تو بجائے اس کے کہ اُسے وہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے میں اُس کو اپنی جیپ یا پولیس ریزو کے ساتھ آئے ہوئے ٹرک کے ذریعے فوراً تھانے بھجوادیتا جہاں میں نے حکم دے رکھا تھا کہ اُس کے خلاف فوراً پرچہ درج کر کے حوالات میں بند کر دیاجائے ،کوئی پولیس افسر ان کی ضمانت نہ لے اور اگلے دن انہیں عدالت کے سامنے پیش کرکے جزا و سزا عدالت پر چھوڑ دی جائے ۔

میرے اس طریق ِکار سے ریس کلب میں تھرتھلی مچ گئی ۔خاص طور پر پکڑے جانے والوں کو رات بھر حوالات میںرکھنے اور صبح عدالت میں پیش کرنے سے وہ خاندان اور معاشرے میں ننگے ہونے لگے ۔ شائقین ریس ڈر گئے ۔ اُن کی حاضری تیزی سے کم ہونے لگی ۔بُکیوںکا کاروبارتباہ ہونا شروع ہو گیا اور ساتھ ہی ریس کلب کا ۔ کلب انتظامیہ نے ڈیوٹی مجسٹریٹ جس کے ساتھ اُن کے معاملات طے تھے کو مجھے رام کرنے کے لئے کہا ۔ مجسٹریٹ صاحب نے کوشش شروع کردی۔ مئی جون کی آگ برساتی سہ پہر کو جب میں ریس کلب آتا تو وہ میرا استقبال کرتا اور کوشش کرتا کہ میں تماشائیوں کی طرف نہ جاﺅں بلکہ اُس کے ساتھ کلب کے کسی یخ بستہ کمرے میں بیٹھ جاﺅں، چائے پیوں اور گپ شپ کروں ،لیکن میں اُس کے ہاتھ نہ آیا ۔ایک دن مجسٹریٹ صاحب نے ایک اور پانسہ پھینکا اور باتوں باتوں میںپوچھا آپ کی تنخواہ کتنی ہے ؟میں فوراً بات کی تہہ تک پہنچ گیا اورکہا آٹھ سو روپے ۔اُس نے پتہ پھینکا کہ آپ کی نئی نئی شادی ہوئی ہے ،کیا آپ کا اس تنخواہ میں گزارا ہو جاتا ہے ؟میں نے کہا ہاں ! بہت شاندار طریقے سے ۔اور ساتھ یہ بھی کہا کہ میرے دوست !گزارا ہو یا نہ ہو ، میری تنخواہ بس یہی ہے اور مجھے اسی میں گزارا کرنا ہے ۔میں نے اپنا کام جاری رکھا اور کسی کے ساتھ کسی بھی قسم کی معمولی سی تلخی یا بدمزگی کے بغیرمیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتا چلا گیا اور ریس کلب میں قمار بازی کا کاروبار ماند پڑتا چلا گیا۔

 جب حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہوگئے اورشائقین کی آمد چار ہزار سے کم ہو کر ہزار تک رہ گئی تو ایک دن میرے دفتر میں تعلیم یافتہ اورنفیس شخصیت کا مالک ایک شخص مجھے ملنے آیا ۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ ایک بڑی ایڈورٹائزنگ کمپنی کا مالک اور چیف ایگزیکٹو اور لاہور ریس کلب کی انتظامی کمیٹی کا ایک ممبر تھا ۔ انتہائی شستہ لب و لہجے میں رسمی دریافت ِ حال احوال کے بعد حرف ِ مدعا زبان پر لاتے ہوئے اُس نے کہا کہ گُھڑ دوڑ امراء، ر ﺅساء،راجوں مہاراجوں اور بادشاہوں کا کھیل ہے، لیکن آپ نے اسے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔اس طرح کی بات چیت کے بعد اُس نے نہایت عاجزی سے کہا کہ ہم کلب انتظامیہ کی طرف سے مجسٹریٹ کو دو ہزار روپے اورایس ایچ او اور چوکی انچارج کو ایک ایک ہزار روپے روزانہ ادا کرتے ہیں ،جس کے بدلے وہ ہم سے تعاون کرتے ہیں ۔ہم آپ کو ہر ریس والے دن دس ہزار روپے ادا کریں گے ، آپ ہمارے اُوپر نظر ِکرم کریں۔اُس وقت میری ماہانہ تنخواہ آٹھ سور وپے تھی ۔ہر ریس ڈے پر دس ہزار کی پیش کش کا مطلب مہینے کا ڈیڑھ لاکھ روپیہ تھا ۔ میں نے اُسے کہا کہ یہ روپے پیسے کا معاملہ نہیں ۔ یہ میرے ایمان ، وقار اور فرض کا تقاضہ ہے، جومیں نے ہر حال میں پورا کرنا ہے ۔میں نے کہا آپ دیکھ رہے ہیں ناںکہ میرے دفتر میں داخل ہونے کا ایک ہی دروازہ ہے ۔میری آمدنی کا بھی ایک ہی دروازہ ہے اوریہ وہ ہے جو سر کار مجھے میری خدمات کے عوض دیتی ہے ۔مجھے خدا نے جوبھی دینا ہے اسی راستے سے دینا ہے ۔دوسرا ہر دروازہ میں نے بند کر کے اُس پر بڑا سا تالہ لگا دیا ہے ۔وہ صاحب مایوس ہو کر چلے گئے ۔

اس حربے کے ناکام رہنے پر کلب انتظامیہ نے ایک دوسرا پلان تیار کیا ۔ انہوں نے مجسٹریٹ سے کہا کہ ہم تمہیں ہر روز کس بات کے پیسے دیں جبکہ تم اے ایس پی کونہیں سنبھال سکے ۔ہمارا کاروبار تباہ ہو گیا ہے ۔ اُسے اچھی طرح دباﺅ میں لانے کے بعد انہوں نے اُس کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ ہم اپنے کسی بندے کو شرط لگاتے اور پیسوں کا لین دین کرتے خود پکڑوا دیتے ہیں ۔وہ شخص شور ڈالے گا کہ مجھ سے درحقیقت اتنے پیسے برآمد ہوئے تھے لیکن اے ایس پی کے ریڈر نے صرف اتنے پیسوں کی برآمدگی ڈالی ہے اور باقی پیسے اے ایس پی اور اس کے ریڈر نے اپنی جیبوں میں ڈال لئے ہیں ۔تم موقعہ پر موجود ڈیوٹی مجسٹریٹ کے طورپر نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر اے ایس پی اور اُ س کے عملے کے خلاف کرپشن کا مقدمہ درج کروادینا،ہم اینٹی کرپشن والوں کو پہلے سے بلوا رکھےں گے ،اور اس طرح ہمیں اُس سے نجات مل جائے گی ۔مجسٹریٹ فطرتاً ایک شریف آدمی تھا ۔ اُس نے سختی کے ساتھ اس منصوبے کو رد کر دیا اور ساتھ ہی اُن کو واشگاف الفاظ میں متنبہ کیا کہ اگر تم نے اس قسم کی کوئی حرکت میرے بغیر بھی کرنے کی کوشش کی تو میں تمہارا سارا بھانڈا پھوڑ دوں گا اوراے ایس پی کے شانہ بشانہ کھڑا ہو جاﺅں گا اور اُس کے حق میں گواہی دوں گا ۔

اے ایس پی ایک شریف اور ایماندار افسر اور ابھی اپنی سروس کے آغاز پر ہے ۔ اگر تم اُس کا ایمان نہیں خرید سکے تو ایسی گھٹیا حرکت کرنے کا سوچنا بھی ناں۔میں اپنے اُس مجسٹریٹ دوست کا ہمیشہ مشکور رہونگا کہ جس نے گو شروع میںخود مجھے اُن کے کہنے پر ورغلانے کی کوشش کی لیکن یہاں اُس نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حق اور سچ کا ساتھ دیا اور مجھے ملازمت کی شروعات میں ہی کسی پریشانی میں گرفتار ہونے سے بچا لیا ۔کلب انتظامیہ اس کے بعد بھی مجھ سے نجات پانے کے لئے مختلف آپشنز پر غور کر تی رہی ۔ ایک بار اُنہوں نے میرے سینئر افسران سے میری شکایت کرنے کا بھی سوچا۔ لیکن اُنہی صاحب نے جو مجھے میرے دفتر ملنے آئے تھے انتظامیہ سے کہا کہ اے ایس پی کسی سے بد تمیزی نہیں کرتا ، آج تک خواص تو کیا وہ کسی عام تماشائی سے بھی اُونچی اور سخت زبان سے نہیں بولا ، کسی کو دھمکی نہیں دیتا ، کسی کو ناجائزنہیں پکڑتا ، کسی سے پانی کا گلاس تک نہیں پیتا ، ایسے شخص کے خلاف آپ اس کے سینئر کو کیا شکایت کریں گے ؟ کیایہ کہ وہ کلب میںجُوانہیں ہونے دیتا ؟ اس پر خاموشی چھا گئی اور یہ منصوبہ بھی ترک کردیا گیا ۔

 وقت گزرتا چلا گیا اور میرے ایک لفظ بھی سخت بولے اور ہاتھ کی چھڑی کو اونچا کئے اور کسی کے ساتھ کچھ ناجائز کئے بغیر لاہور ریس کلب سے قماربازی کا قلع قمع ہو گیا ۔ ریسیں جوپہلے ہفتے میں چار دن ہوتی تھیں وہ ہفتے میں ایک دن پر آگئیں۔پہلے ہر ریس والے دن سات آٹھ دوڑیں ہوتی تھیں جو ایک دو پر آگئیں ،اور وہ بھی تماشائیوں کی کمی کی وجہ سے اکثر وبیشتر منسوخ کر دی جاتیں کیونکہ تماشائیوں کی تعداد چار ہزار سے کم ہوکر سوپچا س تک آگئی تھی۔اورپھرایک دن انتظامیہ نے ریس کلب بند کر دیا ۔اور اپنے اس عمل سے اس امر پر مہر ِ تصدیق ثبت کر دی کہ ریس کلب محض قما ربازی کا اڈہ تھا۔ یہ سب کچھ تین ماہ کے اندر اندر ہو گیا۔ لیکن حاشا و کلا ،نہ میرایہ مقصد تھا اور نہ میں نے کبھی یہ سوچا تھا کہ یوںبھی ہوسکتا ہے یا ہو جائے گا۔ میرا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ اگر یہاں پولیس کی ڈیوٹی کا مقصد قمار بازی کو روکنا ہے تو پھر قماری بازی رُکنی چاہئے ۔ اور یہی میں نے کرنے کی کوشش کی ،اور بس۔ بطور اے ایس پی ہیڈ کوارٹرز کینٹ ڈویژن یہ میری اکلوتی فیلڈ ڈیوٹی تھی ۔ اس کے دو تین ماہ بعد میرا تبادلہ بطور اے ایس پی ٹریفک راولپنڈی ہو گیا ۔

اپنی ملازمت کی اس پہلی آزادانہ ذمہ داری کے اس قدر شاندار نتائج دیکھ کر میرا حوصلہ بہت بڑھا۔حق اور سچ ،محنت اور ایمانداری پر میرا یقین پختہ ہوا ۔ ایسے معاملات میں اﷲ کی غیبی امدادپر ایمان بڑھا ۔ اور مجھے یہ احساس ہوا کہ اگر نیک نیتی سے ایک اکیلا شخص بھی کچھ کرنے کی ٹھان لے ،معاملات کا صحیح ادراک کرے ، اچھی منصوبہ بندی کرے ،اور اﷲ کی مدد اُس کے شامل حال ہو تو وہ حیرت انگیز نتائج دے سکتا ہے ۔یہاں میری یہ سوچ اور مفروضہ بھی درست ثابت ہو اکہ کسی بھی صورت حال میں پہلے تدبیر سے کام نکالنا چاہئے اورجہاں تدبیر سے کام نکلتا ہو وہاں طاقت استعمال نہیں کرنی چاہئے ۔ اوریہ بھی کہ طاقت صرف وہاں استعمال کرنی چاہئے جہاں مدمقابل طاقت استعمال کرنے پر بضد ہو ۔ اور پھر میں نے پوری سروس میں یہی حکمت عملی اختیار کی اور یہ ہر جگہ کامیاب ہوئی ۔بہر حال اس تجربے اور اُس کے نتیجے نے مجھے آئندہ زندگی میں بے شمار نئے نئے اور مشکل ترین کام کرنے کا بیڑ ہ اُٹھانے کا حوصلہ دیااور وہاں بھی مجھے ایسی ہی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

مزید : کالم