بھارت میں مودی کے عہد کا آغاز اور خطے کا امن

بھارت میں مودی کے عہد کا آغاز اور خطے کا امن

بھارت کے نئے وزیر اعظم نریندر مودی نے حلف اُٹھا کر کام شروع کر دیا ہے۔ آج (منگل) اُن کی پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے پہلی باقاعدہ ملاقات ہے جس میں دونوں رہنما باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔ نریندر مودی نے باضابطہ طور پر وزیر اعظم نامزد ہوتے ہی سارک سربراہوں کو اپنی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ جسے بھارت میں ”سفارتی چھکے“ سے تعبیر کیا گیا۔ اس طرح کی تقریبات میں غیر ملکی سربراہوں کی شرکت اگرچہ ایک رسمی کارروائی سمجھی جاتی ہے تاہم ایسی کوئی روایت موجود نہیں کہ پاکستان کے کسی سربراہ مملکت یا حکومت نے کبھی ایسی تقریب میں شرکت کی ہو، یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں ایک وفد اس تقریب میں شریک ہوا اور اس سے فائدہ اٹھا کر آج باہمی ملاقات کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔

پاکستان اور بھارت دو ایسے ہمسائے ہیں جن کے تعلقات کبھی ہموار، قریبی اور دوستانہ نہیں رہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بد اعتمادی کی ایسی فضا موجود ہے کہ وقتاً فوقتاً کئے جانے والے اعتماد سازی کے اقدامات بھی اس بے اعتمادی کو ختم نہیں کر سکے، دونوں ملکوں میں کشیدہ تعلقات کا یہ عالم ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی کشمیر میں محدود پیمانے پر جنگ ہو گئی۔ یہ جنگ رکوانے کے لئے بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ سے رجوع کیا۔ کشمیریوں کے معاملے پر وعدے وعید کئے، رائے شماری کرانے کا عہد کیا اور جب جنگ بندی کے بعد وہاں بھارت کی پوزیشن مستحکم ہو گئی تو بھارت بتدریج وعدوں سے مکرنا شروع ہو گیا۔ رائے شماری کا وعدہ بھول گیا اور یوں دونوں ملکوں میں ایک ایسے تنازعہ کی بنیاد رکھ دی گئی جو اب تک اچھے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ 65ءاور 71ءمیں دونوں ملکوں میں دوبھرپور جنگیں بھی ہوئیں پھر کارگل کے محاذ پر 1999ءکی لڑائی ہوئی جو اگرچہ محدود تھی لیکن جانی نقصان بڑی جنگوں سے بھی زیادہ تھا کارگل بحران کے بعد طویل عرصے تک دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر نہ آ سکے۔ ابھی تعلقات کی بحالی کی کوششیں جاری تھیں کہ بھارت میں پارلیمینٹ کے سامنے دھماکے ہو گئے اور اس وقت کے وزیر اعظم واجپائی نے ہر قسم کے ذرائع رسل و رسائل بند کر دیئے ۔ دونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئیں۔ محض نام کے سفارتی تعلقات رہ گئے۔فوجوں کی واپسی کے بعد ایک مرتبہ پھر تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں شروع ہوئیں تو ممبئی کے دھماکے ہو گئے، اس کے بعد سے اب تک تعلقات معمول پر نہیں آ سکے اور جامع مذاکرات کا عمل شروع نہیں ہو سکا اگرچہ اس دوران سارک اجلاسوں میں شرکت کے لئے بھارتی وزیر اعظم پاکستان آئے اور کرکٹ دیکھنے پاکستانی وزیر اعظم بھارت گئے لیکن تعلقات کی بہتری کا عمل شروع نہیں ہو سکا۔ تجارت میں توسیع البتہ ہو چکی ہے اورلاہوریئے بھارتی آلو پیاز کا ذائقہ چکھتے رہتے ہیں۔

نریندر مودی نے طویل انتخابی مہم میں انتہا پسندانہ سوچ کو فروغ دیا۔ اپنے وطن کے مسلمانوں کو رگیدا پاکستان کو دھمکیاں دیں، اپنے حکمرانوں کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا بہت سے عوامل نے مل کر بی جے پی کو پارلیمنٹ میں اتنی اکثریت دلا دی ہے کہ وہ اکیلی اکثریتی جماعت بن گئی ہے۔ اتحادی اگرچہ اس کے ساتھ ہیں لیکن وہ اتحادیوں کی حمایت کی محتاج نہیں رہی اور جو پالیسیاں بھی اپنانا چاہے انہیں اختیار کرنے میں آزاد ہے۔ اس لئے یہ بہترین وقت ہے کہ وہ پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ملکوں سے بہترین تعلقات استوار کرے۔ واجپائی کہا کرتے تھے دوست بدلے جا سکتے ہیں، ہمسائے نہیں۔یہ بات مدنظر رکھیں تو ہمسایوں سے تعلقات کی استواری میں زیادہ وقت پیش نہیں آئیگی۔ دونوں ملکوں میں تعلقات کی بہتری کی خواہش موجود ہے تاہم ایسے عناصر بھی ہیں جو اختلافات کو ہوا دیتے رہتے ہیں اور جب بھی تعلقات کی بہتری کے لئے کوئی اقدام ہونے لگتا ہے تو اسے ہدف تنقید بنانے میں دیر نہیں کرتے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ تعلقات کے حوالے سے سٹیٹس کو برقرار رہے۔ بہتر تعلقات کے تصور سے ہی ان کا وجود لرزنے لگتا ہے وہ اپنی حیات ہر وقت ہنگامہ ہاﺅ ہو میں دیکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود عوام کی اکثریت تعلقات کو معمول پر لانے کی خواہشمند ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ حالات معمول پر آئیں گے تو خطے کے لوگ سکھ کا سانس لیں گے۔

پاکستان اور بھارت اب ایٹمی قوتیں بھی ہیں، دونوں ملکوں کے پاس ایٹمی وار ہیڈ کا ڈلیوری سسٹم بھی ہے اس لحاظ سے یہ خطہ ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے اور ذرا سی چنگاری خرمن امن کو بھسم کر سکتی ہے۔ اس لئے آج امن کی مستحکم بنیاد رکھنا خطے کی آئندہ نسلوں کی خوشحالی کے لئے ضروری ہے۔ آج بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی ملاقات میں اگر امن کے لئے آگے بڑھنے کا عہد کر لیا جائے تو آگے بڑھنے کے لئے ایک بار پھر ایک مستحکم بنیاد میسر آ سکتی ہے۔ہم ماضی میں بار بار یہ عہد کرکے تھوڑے سفر کے بعد رک جاتے ہیں، اگرچہ ماضی میں بھی ایسی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں اور بالاخر حالات کی لہر ان ملاقاتوں کے فوائد کو بہا کر لے جاتی رہی ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ماضی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھا جائے اور اس انداز سے آگے بڑھا جائے کہ طے کیا ہوا سفر رائیگاں نہ جائے۔نریندر مودی اپنی انتخابی مہم میں جو بھی کہتے رہے ہوں اور انتہا پسندی کے جیسے بھی مظاہرے کرتے رہے ہوں اب انہیں معروضی حالات دیکھ کر ہی آگے بڑھنا ہو گا جس کارپوریٹ سیکٹر نے ان کی انتخابی مہم پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے وہ بھی چاہے گا کہ خطے میں امن کی فضا ہو اور حالات کاروبار کے لئے موافق ہوں، نریندر مودی کے لئے یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ اپنے ان محسنوں کو نظرانداز کر دیں جنہوں نے انہیں طویل جدوجہد کے بعد دہلی کے تخت پر براجمان ہونے میں مدد دی ہے۔

مزید : اداریہ