بجٹ کا بڑا حصہ محاصل سے متعلق ہوتا ہے،پیاف

بجٹ کا بڑا حصہ محاصل سے متعلق ہوتا ہے،پیاف

لاہور(کامرس رپورٹر)پیاف نے کہا ہے کہ فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بیشتر تجاویز و سفارشات کو قومی بجٹ 2014-15 کا حصہ بنانا وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار کا قابل ستائش بزنس دوست اقدام ہوگا - مجموعی کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا - بجٹ اہدف تک خوش اسلوبی سے پہنچا جا سکے گا - مینو فیکچرنگ سیکٹر فعال ہوگا اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے ،پیاف کے چیئرمین ملک طاہر جاوید نے یہاں ایک بار پھر پیاف کے موقف کو دہرایا ہے کہ بجٹ کی تیاری میں حکومتی مشینری ار سرکاری ماہرین پر مکمل انحصار کرنے کی بجائے بزنس کمیونٹی کی تجاویز و سفارشات کی روشنی میں بجٹ بنایا جائے توؒکاروباری حالات میں بہت بڑی اور خوش گوار تبدیلی آئے گی۔

 ، ملک طاہر جاوید نے کہا ہے بجٹ کا بڑا حصہ محاصل سے متعلق ہوتا ہے - انہوں نے کہا کہ حکومتی مشینری محاصل بڑھانے کے لیے ٹیکس کی شرح میں اضافہ اور رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان پر بار بار بوجھ بڑھا تے ہیں حالانکہ اس طرز فکر و عمل سے ٹیکس اکٹھا کرنے ,کاروباری سرگرمیوں اور برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ،دلکش اہداف مقرر کر لیے جاتے ہیں لیکن پورے نہیں ہوتے کیونکہ زمینی حقائق کے مطابق نہیں ہوتے اور نہ ہی ایسے اہداف کے لیے سازگار ماحول دیا جاتا ہے ، سال کے دوران نظر ثانی کرنا پڑتی ہے - بعض اوقات اس کے باوجود پورے نہیں ہوتے، پیاف کے چیئرمین نے کہا ہے کہ کاروباری طبقہ کے مطالبہ کی روشنی میں سیلز ٹیکس کی شرح اگر فوری طور پر پانچ فیصد نہیں کی جا سکتی تو اسے سنگل ڈجٹ پر ضرور لایا جائے ، انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی شرح کم کرنے سے ٹیکس بچانے کی حوصلہ شکنی ہوگی کیونکہ بزنس کمیونٹی ایف بی آر کی نظروں میں مشکوک قرار پانے کی بجائے قابل برداشت اور جائیز ٹیکس دے کر تعمیر وطن میں حصہ دار بننے اور عزت پانے کو ترجیح دے گی - زیادہ لوگ ٹیکس نیٹ میں آئیں اور ٹیکس دیں گے - ٹیکس ریونیو کے حجم میں یقینی طور پر اُضافہ ہوگا ، ایف بی آر افسران اور اہلکاران کو محض شک کی بنیاد پر کاروباری افراد کے پیچھے نہیں دوڑنا پڑے گا - حکومت اور کاروباری طبقہ کے مابین اعتماد بڑھے گا ،ماحول میں آسودگی اور خوشگواریت پیدا ہوگی ، پیاف کے چیئرمین نے توقع کی ہے کہ وزیر خزانہ آئیندہ بجٹ میں سمگلنگ اور انڈر انوائسنگ روکنے کے لیے سحت فیصلے کریں گے کیونکہ ان برائیوں کی وجہ سے مقامی صنعت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں - پیاف کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ری فنڈ میں تاخیر کے خلاف شکایات کے انبار ہیں ، اس لیے پیاف کے چیئرمین نے وزیر خزانہ پر زور دیا ہے کہ ری فنڈ میں تاخیر کا عنصر ختم کر دیا جائے اور اس عمل کو خود کار طریقے سے قابل قبول بنایا جائے ، پیاف کے چیئرمین نے وزیر خزانہ سے کہا ہے کہ ٹیکس کی شرح اور حجم بڑھانے پر توجہ مرتکز کرنے کی بجائے ملک میں کاروباری بڑھانے اور پھیلانے کے نقطہ نظر سے بجٹ بنایا جائے - محاصل سمیت تمام اہداف پورے ہوں گے - تعمیر وطن کے لیے بزنس کمیونٹی اور ارباب اقتدار و اختیا ایک پیج پر ہوںگے جو اقتصادی ترقی کا عمل تیز تر کرنے کے لیے بے حد ضروری ہے۔

مزید : کامرس


loading...