باغبا ن پھل کی مکھی کے تدارک ہر ممکن کوشش کریں، ترجمان محکمہ زراعت

باغبا ن پھل کی مکھی کے تدارک ہر ممکن کوشش کریں، ترجمان محکمہ زراعت

راولپنڈی/ اسلام آباد(آن لائن) محکمہ زراعت پنجاب راولپنڈی کے ترجمان نے آم کے باغبانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پھل کی مکھی کے تدارک ہر ممکن کوشش کریں۔ ترجمان کے مطابق پاکستانی آم اعلیٰ معیار، ذائقہ اور غذائیت کی وجہ سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ آم کی برآمد سے ہر سال ملک کو قابل لحاظ زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے لیکن پھل کی مکھی کے حملہ کے باعث آم کا معیار برُی طرح متاثر ہوتا ہے۔

 پھل کی مکھی گھریلو مکھی سے جسامت میں ذرا بڑی ہوتی ہے۔ بالغ مکھی کی رنگت سرخی مائل بھوری، پر شفاف، ٹانگوں کا رنگ زرد اور ڈھڑ پر پیلے رنگ کی لمبی دھاریاں ہوتی ہیں جبکہ مادہ مکھی پھل کے اندر ڈنگ کے ذریعے انڈے دیتی ہے جن سے نکلنے والی چھوٹی سنڈیاں پھل کو اندر سے کھا کر نقصان پہنچاتی ہیں جس سے پھل کا معیار برُی طرح متاثر ہوتا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ پھل کی مکھی کے انسداد کے لئے متاثرہ گرے ہوئے پھل کو ہفتہ میں دو بار اکٹھا کرکے زمین میں ڈیڑھ تا دو فٹ گہرا دبا دیں یا باغ سے باہر صاف پختہ جگہ پر دھوپ میں پھیلا دیں تاکہ پھل میں موجود سنڈیاں تلف ہوجائیں اور پھل کی مکھی کی افزائش نسل کو روکا جاسکے۔ متاثرہ درختوں کے نیچے ہلکی گوڈی کریں تاکہ مکھی کا پیوپا سورج کی روشنی یا طفیلی / شکاری کیڑوں کے ذریعے تلف ہوجائیں۔ مادہ مکھی کے تدا رک کے لئے پروٹین ہائیڈرولائیزیٹ (protein hydrolysate) کا استعمال محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے کریں۔ آم کے باغبان پٹ سن کی بوریوں کو شیرے میں بھگو کر ان کے اوپر تھوڑی مقدار میں ٹرائی کلورفان کا دھوڑا کریں اور ان کو باغ میں سایہ دار جگہوں پر رکھیں تاکہ پھل کی مکھی کا تدارک ہوسکے۔ آم کے باغات میں پھل کی مکھی کے کنٹرول کے لئے اس کے دیگر میزبان پودوں مثلاً ترشاوہ پھلوں، امرود، بیر، پپیتا، بینگن، بیل والی سبزیوں اور جڑی بوٹیوں پر بھی پھل کی مکھی کا تدارک یقینی بنائیں۔

مزید : کامرس