النصرہ فرنٹ کا اسلحہ ساز فیکٹری بنانے کا اعلان

النصرہ فرنٹ کا اسلحہ ساز فیکٹری بنانے کا اعلان

دمشق(ثناءنیوز)شام میں عسکری کارروائیوں میں ملوث القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم النصرہ محاذ نے الگ سے اسلحہ فیکٹری بنانے کا اعلان کیا۔تنظیم نے سوشل میڈیا کے ذریعے ماہر اسلحہ سازوں کو فیکٹری کی تشکیل میں مدد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔النصرہ محاذ نے اسلحہ فیکٹری کے قیام کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیاکہ جب شامی محاذ پر لڑائی میں شریک اس کی ہم خیال دولت اسلامیہ عراق وشام داعش کے درمیان کشیدگی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔دہشت گردی میں ملوث "داعش" کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ القاعدہ سے ناراض لوگوں پر مشتمل تنظیم ہے۔ مغرب نے النصرہ اور داعش دونوں کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

 انہی دو گروپوں کے شام کی انقلابی تحریک میں شمولیت کے باعث مغربی ممالک شامی باغیوں کو اسلحہ اور جنگی ساز و سامان فراہم کرنے سے کتراتے ہیں۔عرب ٹی وی رپورٹ کے مطابق النصرہ فرنٹ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ "ٹیوٹر" کے ذریعے اسلحہ فیکٹری قائم کرنے کا اعلان کرنے کے ساتھ ہتھیار سازی کی صعنت میں نمایاں مقام رکھنے والوں کو فیکٹری کو کامیاب بنانے کے لئے اپنی ماہرانہ رائے دینے کی اپیل کی۔بیان کے مطابق شام کے جنگی محاذ میں کامیابی کے حصول کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود کی اشد ضرورت ہے۔ بیرون ملک سے پہنچنے والا اسلحہ ناکافی ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے النصرہ الگ سے اپنی اسلحہ ساز فیکٹری قائم کرنے کا پروگرام بنا رہی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں النصرہ فرنٹ کے لیے اسلحہ کی فراہمی میں شدید تاخیر ہو رہی ہے۔ تکنیکی، عسکری اور اسلحہ سازی کے ماہرین رہ نماووں کی جانب سے ہمیں بر وقت اسلحہ نہیں پہنچایا جاتا، جس کے باعث 'مجاہدین' کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔النصرہ نے اپنے بیان میں مغربی ملکوں اور شامی باغیوں کی امداد کرنے والوں کو اسلحہ فراہم نہ کرنے پر سخت تنقید کا بھی نشانہ بنایا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی طاقتیں شامی باغیوں کی مدد کے کھوکھلے دعوے کر رہی ہیں۔ ہمیں محاذ جنگ میں بھاری ہتھیاروں کی ضرورت ہے لیکن مغرب ہمیں اسلحہ فراہم کرنے میں رکاوٹ ہے۔ اب تک امریکی ساختہ"تا" راکٹوں کی محدود مقدار کے سوا مغرب سے کسی قسم کا اسلحہ اور گولہ بارود نہیں مل سکا ہے۔دوسری جانب امریکا اور مغرب شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے میں اس لیے تامل سے کام لے رہے ہیں کہ ان کا فراہم کردہ اسلحہ ممکنہ طور پر القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...