تیونس میں دہشت گردی کی بڑی سازش ناکام بنا دی گئی

تیونس میں دہشت گردی کی بڑی سازش ناکام بنا دی گئی

تیونس (آن لائن)تیونس کے سیکیورٹی حکام نے ملک کے اہم سیاحتی مقامات اور معاشی شعبے سے وابستہ سرکردہ شخصیات پر دہشت گرد حملوں کی ایک نئی سازش ناکام بنا دی ۔ خبر رساں ایجنسی" تیونس افریقیہ" کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف تیونسی وزیر اعظم علی جمعہ نے سیکیورٹی سے متعلق ایک اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی حکام کی بروقت کارروائی نے تیونس کو بڑی تباہی اور جانی نقصان سے بچا لیا گیا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کہ وہ دہشت گردی کے خلاف فوج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

 اگر کسی شہری کے پاس دہشت گردوں سے متعلق معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلع کرے تاکہ ملک کو تباہی سے بچایا جا سکے۔

وزیر اعظم علی جمعہ کا کہنا تھا کہ دہشت گرد قومی معیشت کو نشانہ بنانے کی سازش بنا رہے ہیں تاہم حکام نے بروقت کارروائی کر کے انہیں پکڑ لیا ہے۔ تفتیش کے دوران انہوں نے اپنے اقبالی بیانات میں دہشت گردی کی سازش اور ملک میں افراتفری پھیلانے کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا ہے۔ادھر تیونس کے وزیر داخلہ لطفی بن جدو نے بھی اپنے ایک بیان میں ملک میں دہشت گردی کی سازش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج اور دوسرے سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ کارروائی میں دہشت گردی کی ایک بڑی سازش ناکام بنائی گئی ہے۔ لطفی بن جدو کا کہنا تھا کہ دہشت گرد لیبیا سے تیونس میں داخل ہوئے تھے،دہشت گردانہ منصوبوں میں تیونس کے صنعی اور سیاحتی مقامات کو نشانہ بنانے کے بعد دوسرے مرحلے میں اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ تھی۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں سولہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے بعض غیر ملکی ہیں۔ گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش جاری ہے، اس لیے ان کے بارے میں تفتیش مکمل ہونے سے قبل مزید کچھ نہیں کہا جا سکتا۔تیونسی وزارت داخلہ کے ترجمان محمد علی العروی کا کہنا ہے کہ پولیس نے اتوار کے روز تین دہشت گردوں کو حراست میں لیا ہے، جن سے بھاری مقدار میں گولہ بارود اور خود کش جیکٹس بھی برآمد کی گئی ہیں۔

مزید : عالمی منظر