کشمیر پانی سیاچن جیسے مسائل حل نہیں ہونگے نواز مودی ملاقات میں تجارت ترجیح ہو گی

کشمیر پانی سیاچن جیسے مسائل حل نہیں ہونگے نواز مودی ملاقات میں تجارت ترجیح ...

                   لاہور(محمد نواز سنگرا// انوسٹی گیشن سیل) نوا زشریف اور نریندر مودی کی ملاقات میں تجارت صف اول میں ہو گی دونوں وزرائے اعظم کی موجودگی میں کشمیر،پانی،بھارتی مداخلت اور سیاچین جیسے مسائل حل ہوتے نظر نہیں آرہے۔بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینا پاکستان دشمن ایجنڈا ہے جو پاکستان دشمن قوتوں کا طے شدہ ہے۔ان خیالات کا اظہار ملک کے سیاسی اور عسکری ماہرین نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے ۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رانا افضل خان نے کہا کہ نوا زشریف کا مودی کے ساتھ ملاقات میں تمام مسائل کو برابر اہمیت دیں گے تجارت پر تنقید کرنے والے جاہل ہیں جو چیزیں بھار ت سے سستی ملتی ہیں ان کے خریدنے میں حرج نہیں کیونکہ اس میں پاکستان کا مفاد ہے نواز شریف پاکستانی عوام کی نبض پر چل رہے ہیں ملاقات میں تعلقات کی بہتری پر زور دیا جائے گا۔مسلم لیگ(ق)کے رہنما کامل علی آغا نے کہا کہ اصل ایشوز پر بات کرنا نواز شریف کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے تجارت کو فوقیت واشنگٹن کا طے شدہ ہے بھارت کو پسندیدہ قرار دینا پاکستان دشمن پالیسیوں میں سے ایک ہے نواز شریف قطعی طور پر بھی بنیادی ایشوز پر بات نہیں کریں گے۔ جنرل(ر)راحت لطیف نے کہاکہ آج ہونے والے ملاقات محض رسمی ہو گی نریندر مودی سرمایہ دار طبقے کی حمایت سے وزیر اعظم بنے ہیں جبکہ نواز شریف کا بھی تجارت پر زور ہے اسلئے دونوں وزرائے اعظم دونوں ممالک کی معیشت پر زیادہ زور دیں گے اور مودی بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے پر بھی زور دے سکتے ہیں لیکن بنیادی مسائل پر زور نہیں دیا جائے گا ۔نواز شریف کو بلوچستان میں بھارتی مداخلت اور بارڈر پر جارحیت کے خاتمے پر زور دینا چاہیے۔بریگیڈئیر (ر)محمد یوسف نے کہاکہ دونوں رہنماو¿ں کو انا کے خاتمے اور مشترکہ پچ تلاش کرنی چاہیے جس سے دونوں ممالک کے مسائل کا خاتمہ اور تعلقات کو فروغ ملے کیونکہ حالیہ چپقلش میں پاکستان سے زیادہ بھارت کا نقصان ہو رہا ہے۔زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی،کشمیر،سیاچین اور پاکستان میں بھارتی مداخلت پر زور دینا چاہیے۔

 

مزید : صفحہ آخر