ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفیسر لاہور ہونے قیمتی سرکاری اراضی جعلسازی ہتھیانے کی کوشش نا کام بنا دی

ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفیسر لاہور ہونے قیمتی سرکاری اراضی جعلسازی ہتھیانے کی کوشش ...


لاہور(عامربٹ سے)ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفیسر لاہور نے خارج شدہ انتقالات کے پرت سرکار غائب کرواتے ہوئے ملکیتی سنٹرل گورنمنٹ کی انتہائی قیمتی اراضی جعلسازی سے ہتھیانے کی کوششیں ناکام بنا دیں8صفحات پر مشتمل ڈسٹرکٹ کلکٹر سیٹلمنٹ کے فیصلے نے محکمہ مال کی تاریخ ایک بار پھر اپنے نام کر دی محکمہ ریونیو کی مقدم عدالتوں،ممبران اور ضلع لاہور کے انتظامی عہدوں پر براجمان بیوروکریسی کو حقائق کے برعکس اپنی مظلومیت ظاہر کرنے والے مفاد پرستوں کی پلاننگ اور ریونیو سٹاف و افسران پر خرچ کی جانے والی رشوت فیصلے کی کاپی نشر پونے کے بعد دھری کی دھری رہ گئی روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفیسر لاہور رانا خالد محمود کی عدالت میں مورخہ16-11-2002 کو محمد شفاقت بنام سرکار کے نام کیس زیر سماعت تھا جس میں درخواست گزار جو کہ مہر دین پسر نور احمد کے پوتے کی حیثیت سے پرت سرکار انتقالات کی گمشدگی کے بعد مثنی جات تیاری کی اجازت طلب کی اپیل کر رہا تھا مذکورہ شخص نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ سائل کے دادا مہر دین ولد جیون کو آر ایل ٹو نمبری521کے تحت چیف سیٹلمنٹ کمشنر لاہور نے موضع سادھوکی میں292K-15Mرقبہ موضع سادھوکی وہلوکی میں الاٹ کیا جس کے انتقال نمبر1232-1238میں انتقال ہذا کچہری میں آتشزدگی کے باعث پرت سرکار جل چکے ہیں لہذا نئے سرے سے مثانہ جات کی تیاری کی اجازت سنائی جائے او ر اس ضمن میں محکمہ ریونیو کی مقدم عدالتوں کے محترم جج صاحبان سے اپنی ملکیت اور حقوق کو درست تسلیم پائے جانے کے فیصلہ جات بھی لف کر دئیے اور اس کیس کے حوالے سے سینئر افسران کی جانب سے دی جانے والی ہدایت بھی ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفیسر کے حوالے کرتے ہوئے اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے جس پر ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفیسر لاہور رانا خالد محمود نے2012کو اس کیس کی اور دوران سماعت جب اس کیس کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو انکشاف ہواکہ قبل ازیں مورخہ19-05-1969کو سردار ہدایت اللہ خان موکل سیٹلمنٹ کمشنر اور عدالت عالیہ کی جانب سے1979کو بھی اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے مذکورہ شخص مہر دین ولد جیون کی الاٹمنٹ اور درخواست کو مشکوک قرار دے دیا تھا جس کا مدعی نے کبھی ذکر نہ کیا اس کے علاوہ الاٹمنٹ کی ویری فکیشن کے دوران بھی3عدد جعلی چھٹیاں سیکرٹری ایس اینڈ آر کی پکڑی جس میں تصدیق کیے جانے اور سائل کے مفاد کے حوالے سے تحریر کی گئی تھی اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفیسر نے دوران کیس یہ بھی ثابت کر دیا کہ مذکورہ انتقالات باوجہ آتشزدگی نہیں جلے تھے کیوں کہ2000تک ان پرت سرکار انتقالات کی مثل دفتر اے ڈی سی جی کینٹ کے دفتر میں موجود تھی دوران تحقیقات اور سیٹلمنٹ کمشنرسردا ر ہدایت نے اس امر کا بھی اپنے فیصلے میں انکشاف کیا کہ مہر دین ولد جیون نے انڈیا میں زرعی زمین 4بیگھہ4بسوہ کا مالک اراضی تھا جس نے فراڈ کرتے ہوئے موضع کوٹ دھونی چند میں کلیم ہائے نمبری2169اور3467کے تحت اپنے استحقاق سے بھی زائد رقبہ الاٹ کروا لیا تھا جو کہ بوگس اور جعلی ہونے پر1969کو خارج کر دیا گیا اور دوران سماعت اس رقبہ کی بحالی کے دوران مہر دین ولد جیون نے رٹ پٹیشن نمبری533-Rمیں خود تسلیم کیا کہ میری کوٹ دھونی چند کی حد تک استحقاق اور حقوق ملکیت ہیں اس حوالے سے کسی دوسرے موضع یا آر ایل ٹو کا ذکر نہ کیا گیا اس کے علاوہ مذکورہ شخص کی موضع تھوڑ،ہلوکی اور سادھوکی میں الاٹمنٹ ہونے والی زمین جو کہ ملکیت سرکار ہے خود ہی مشکوک پائی گئی مذکورہ ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ نے ناصرف مہر دین ولد جیون کی پہلی الاٹمنٹ جو کہ خارج پائی گئی اس کو بے نقاب کیا بلکہ موضع تھوڑ،ہلوکی اور سادھوکی میں جعلسازی سے حکومت کی اربوں روپے کی زمین ہتھیانے کی تمام تر کوششیں ناکام بنا دیں کیس کے دوران مہردین کے پوتے شفاقت کے علاوہ نواسے محمود علی کی جانب سے بھی ایک درخواست دائر کی گئی جس کے مقاصد حکومت کی اراضی کو ہتھیانااور بندر بانٹ کرنا تھا مزید معلوم ہوا کہ اس ضمن میں سو ل جج صاحب کی جانب سے ایک ڈگری بھی تصدیق کروائی گئی تھی تاہم مذکورہ ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفیسر نے پنجاب حکومت کی اربوں روپے کی انتہائی قیمتی جائیداد کا فیصلہ صادر کرتے ہوئے مفاد پرستوں کے پیروں تلے نا صرف زمین کھینچ لی جبکہ سرکارہ اراضی کے بحق سرکار ضبط کرنے کی بھی نوید سنا دی ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفیسر کے فیصلے میں موضع سادھوکی اور ہلوکی کے جن انتقالات کو خارج شدہ تسلیم کیا گیا ان میں 1396,1395,1394,1361,1351,1350,1249,1248,1238,1232سرفہرست ہیں مذکورہ ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ کے تاریخ ساز فیصلے نے محکمہ مال کے تمام جوڈیشنلی سٹاف اور سینئر ممبران کی داد دینے پر مجبور کر دیا ہے اور اس ضمن میں ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفیسر کے فیصلے کی کاپیاں یہاں منگوا کر پڑھی گئی ہیں۔

کوشش ناکام

مزید : صفحہ آخر