پنجاب اسمبلی اپوزیشن ارکان کا ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرنے پر اسمبلی کی کاروائی کا با ئیکاٹ

پنجاب اسمبلی اپوزیشن ارکان کا ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرنے پر اسمبلی کی کاروائی ...

             لاہور( سپیشل رپورٹر) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے محکمہ جات محنت و انسانی وسائل اور سماجی بہبود سے متعلق وقفہ سوالات کی کاروائی میں حصہ لینے کے بعد اجلاس کی باقی کاروائی کا ایک سال گزر جانے کے باوجود بھی اپوزیشن کے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرنے کی بناءپر اسمبلی کی باقی کاروائی کا بائیکاٹ کردیا‘ حکومت نے اپوزیشن کی غیر موجودگی میں خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے قیام کا بل منظور کرلیا ‘ دوسری جانب صوبائی وزیر محنت راجہ اشفاق سرور نے اےوان کو بتایا کہ غیر رجسٹرڈ صنعتی اداروں کو ماضی کی رجسٹریشن کے واجبات سے استثنیٰ دینے کی ایمنسٹی سکیم جاری کردی گئی ہے جس کے تحت ان سے سابقہ واجبات لئے بغیر رجسٹریشن کی جائے گی‘جبکہ اپوزیشن نے آج سے اےوان کی کاروائی میں شرکت کر کے بھرپور احتجاج کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ تب تک ہاﺅس کی کاروائی کو نہیں چلنے دیا جائے گا جب تک اپوزیشن کو اس کے ترقیاتی فنڈز نہیں مل جاتے اور اگر پھر بھی ہمیں فنڈز نہ دئیے گئے تو پھر ہم بجٹ اجلاس بھی نہیں چلنے دیں گے ۔تفصیلات کے مطابق دو روز کے وقفے کے بعد پنجاب اسمبلی کا اجلاس قائم مقام سپیکر سر دار شیر علی گورچانی کی صدارت میں اپنے مقررہ ٹائم سہ پہر تین بجے کی بجائے چار بجکر بتیس منٹ پر شروع ہوا ۔اجلاس کے ایجنڈے میں گزشتہ روز محکمہ جات محنت و انسانی وسائل اور سماجی بہبود سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے جانے تھے صوبائی وزیر راجہ اشفاق سرور نے محکمہ محنت اور پارلیمانی سیکرٹری الیاس انصاری نے محکمہ سماجی بہبود کے سوالوں کے جوابات دئیے ۔وقفہ سوالات کی کاروائی میں اوپزیشن نے بھرپور حصہ لیا لیکن جیسے ہی وقفہ سوالات ختم ہوا تو اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے پوائنٹ آف آڈر پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم میاں نوازشریف کے دورہ بھارت کے متعلق کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کو بھارتی ہم منصب ست ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر اور آبی امور کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں دخل اندازی جیسے امور پر بات کرنا چاہئے ۔ اپوز یشن لیڈر نے کہا کہ اپوزیشن کو ترقیاتی فنڈز نہیں دیے جارہے جس پر ہم اس ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی اپوزیشن ایوان سے بائیکاٹ کرگی اور جاتے جاتے کورم کی نشاندہی بھی کردی لیکن کورم پورا ہونے کی وجہ سے اجلاس کی کارروائی جاری رہی اور وزیر قانقون رانا ثنااللہ نے اپوزیشن کے روئیے کو غیر جمہوری اور منفی قراردیدیا اور کہا کہ اپوزیشن کو بات کرنے کے بعد جواب بھی سننا چاہیے انہوں نے واضح کیا کی استحقاق ایکٹ کے تحت ترقیاتی فنڈز اراکین اسمبلی کا استحقاق نہیں ہے تاہم اراکین اسمبلی ترقیاتی سکیموں کی نشاندہی کرسکتے ہیں اس مقصد کیلئے میں نے وزیراعلیٰ اور اپوزیشن جماعتوں کی ملاقات کا اہتمام کیا تھا لیکن پی ٹی اائی عین وقت پر ملاقات سے انکاری ہوگئی جبکہ اپوزیشن کی باقی جماعتوں کے ارکان نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی جس میں ترقیاتی سکیموں اور فنڈز پر بات ہوئی تو طے پایا کہ اگ فنڈز کے معاملے میں کوئی رکاوٹ ہوتو اس سے مجھے آگا کیا جائے گا لیکن آج تک اپوزیشن کے کسی رکن نے مجھے کسی ترقیاتی سکیم کے فنڈ میں رکاوٹ کے بارے میں آگاہ نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے ایجنڈے پر کابند ہے ۔ اور جہاں تک وزیراعظم نواز شریف کے دورہ بھارت کا تعلق ہے تو وہ پہلے بھی دو بار وزیراعظم رہے ہیں انہیں بڑا وسیع تجربہ ہے کہ بھارت سے کیا بات کرنی ہے، وہ وہاں پاکستان کی صحیح نمائندگی کریں گے ۔ اپوزیشن کے اجلاس کی کاروائی کے بائیکاٹ کی وجہ سے توجہ دلاﺅ نوٹس اور ایجنڈے میں شامل ان کا بزنس بھی زیرِبحث نہ لایا جاسکا اور نہ ہی اپوزیشن کی مشاورت سے ایجنڈے میں شامل کی جانے والی محکمہ صحت پر عام بحث ہوسکی جبکہ سپیکر اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن ارکان کے نام لیکر انہیں پکارتے رہے اور کسی کی طرف سے جواب موصول نہ ہونے پر بحث موخر اور اجلاس آج صبح دس بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا ۔

پنجاب اسمبلی

 

مزید : صفحہ آخر