تجزیہ:۔چودھری خادم

تجزیہ:۔چودھری خادم


شب معراج عبادت اور دعائیں، ملکی حالات نے چراغاں متاثر کیا

یہ دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ شب رفتہ میں عبادت تو بہت ہوئی۔ رات بھی جاگ اور مناجات پڑھ کر گزاری گئی۔ نوافل ادا ہوئے اورتلاوت بھی کی گئی لیکن ملکی حالات معراج النبیﷺ کی اس مبارک رات اور تہوار پر بھی اثر انداز ہوئے اور پاکستان کے شہری روائت کے مطابق چراغاں نہ کر سکے۔ یہ بھی نہیں کہ ایسا ہوا ہی نہیں۔ بہت سی مساجد اور مکان سجائے گئے تاہم جو جوش اور ولولہ گزشتہ برس یا عید میلاد النبیﷺ کے حوالے سے تھا ایسا اس مبارک تہوار پر دیکھنے میں نہیں آیا البتہ مساجد اور گھروں میں عبادت پہلے سے زیادہ تھی۔ ایک تو لوڈشیڈنگ نے متاثر کیا تو دوسرے ملک کے غیر یقینی حالات اثر انداز ہوئے کہ آج کل پورا ملک ہی مظاہروں اور جلسوں کی زد میں ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی خوف کی ایک غیر مرئی فضا بھی ہے۔ اس کا اشارہ حال ہی میں اسلام آباد میں دو مختلف دھماکوں سے ہوا۔

عوامی سطح پر یہ حالات زیر بحث ہیں تو وزیرستان میں ہونے والے حالیہ آپریشن پر بھی بات ہو رہی ہے اور شہروں میں آئے حضرات کو مشکوک انداز سے دیکھا جا رہا ہے۔ سیکورٹی سے متعلق ایجنسیوں والے مشتبہ لوگوں کی تلاش میں ہیں۔

ان حالات میں شمالی وزیرستان میں مسلح افواج کی جوابی کارروائی ہو رہی ہے تو شدت پسندوں نے بھی چوکیوں پر حملے کر کے سرکاری اہل کاروں کو شہید کرنا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ روز ہی خضدار میں ایک چوکی پر حملہ کر کے 8 سکیورٹی اہل کار شہید کر دیئے گئے سیکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی میں شدت پسند مارے اور تلاشی کے بعد کافی لوگوں کو حراست میں بھی لیا گیا بہر حال شمالی وزیرستان میں ایک بار پھر کرفیو اٹھا لیا گیا۔

کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا بیان سامنے آیا جس میں ان کی طرف سے شکوہ کیا گیا ہے کہ مذاکرات کی پیش کش تحریک طالبان کی طرف سے کی گئی تھی لیکن پاکستان کی فوج ہمارے (ٹی ٹی پی) خلاف جنگ کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مولانا سمیع الحق نے سرکاری کمیٹی کے سابق رکن رستم شاہ مہمند کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ آپریشن سے حالات درست نہیں ہوں گے۔ مسئلہ کا اصل حل مذاکرات میں مضمر ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مذاکرات ختم نہیں کئے گئے آپریشن بھی شروع نہیں کیا گیا یہ جو کارروائی ہوئی یہ محدود اور مختصر ہے۔

واقعات اور بینات کو دیکھا جائے تو واضح تضاد نظر آتا ہے کہ شدت پسند بم دھماکوں کے علاوہ چیک پوسٹوں پر حملے کرتے اور خود کش حملوں کی دھمکی بھی دیتے ہیں ایسے میں مذاکرات کی صورت کیا ہو سکتی ہے؟

مولانا سمیع الحق اور محترم رستم شاہ مہمند اب بھی سیکیورٹی حکام سے کارروائی روکنے اور حکومت سے مذاکرات کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن شدت پسندوں کو اپنی کارروائیاں روکنے اور مذاکرات کا اعلان کرنے کو نہیں کہہ رہے سوال تو صرف یہ ہے کہ کیا وزیرستان اور مہمند ایجنسی میں حکومتی رٹ بحال ہے؟ اگر نہیں تو ہونا چاہئے اب کالعدم تحریک طالبان اور دوسرسے شدت پسند گروپوں پر لازم ہے کہ وہ ہتھیار استعمال نہ کرنے کا واضح اعلان کریں اور پھر اس پر عمل بھی کریں تاکہ مذاکرات شروع ہوں اور مسئلہ سلجھ سکے جس کے بعد انسانی جانوں کا ضیاع رک جائے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کے ساتھ ساتھ پورے صوبے اور ملک میں امن ہو جائے۔ رابطہ کاروں کو اس پر کام کرنا ہوگا کہ حکومت کی طرف سے تو وزیر داخلہ نے پھر مذاکرات ختم نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...