پیمرا کے تین ارکان کو جاری کئے گئے نوٹس معطل

پیمرا کے تین ارکان کو جاری کئے گئے نوٹس معطل

                            اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نورالحق قریشی نے پیمرا کے تین پرائیویٹ ممبران اسرار عباسی، فریحہ افتخار اور میاں شمس کو حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے شوکاز نوٹس کی سماعت کی۔ اسرار عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا کے دیگرممبران نے گھر بیٹھے 27 مئی کو اجلاس طلب کر لیا۔ 20 مئی کو پانچ ممبران پر مشتمل پیمرا بورڈ نے جیو کی بندش کا فیصلہ سنایا تاہم سرکاری ممبران نے اجلاس کے منٹس جاری کئے اور نہ ہی فراہم کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیس مئی کو ہونے والے اجلاس میں چیئرمین پیمرا کا عارضی انتخاب بھی ہو چکا تھا۔ 27 مئی کو ہونے والا اجلاس غیر قانونی اور انتقامی کارروائی کے لئے بلایا گیا ہے۔ اسرار عباسی کا کہنا تھا کہ پیمرا کے تین ارکان کو غیر قانونی طور پر نوٹس بھیجے گئے۔ 9 مئی کو کی گئی ایگزیکٹو ممبر کمال الدین ٹیپو کی تقرری بھی غیر قانونی ہے۔ کمال الدین ٹیپو گریڈ بیس میں ہیں۔ پیمرا ایگزیکٹو ممبر کے لئے اکیسواں گریڈ ہونا ضروری ہے۔ کمال الدین ٹیپو کی تقرری میں قانونی تقاضے پوری نہیں کئے گئے۔ وفاق کے وکیل ایڈووکیٹ فیصل پیش ہوئے تو عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو آج کے لئے نوٹس بھیجا گیا تھا؟، کیا آپ دلائل دینا چاہیں گے؟۔ سٹینڈنگ کونسل ایڈووکیٹ فیصل نے جواب دیا کہ آج دلائل نہیں دے سکوں گا، کچھ وقت درکار ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق کے وکیل کی استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ کچھ دیر کے وقفے کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے پیمرا کے تین ممبران کو جاری کئے گئے شوکاز نوٹس معطل کر دیے۔ عدالت نے پیمرا کا کل بلایا جانےوالا اجلاس اور ایگزیکٹو ممبر پیمرا کمال الدین ٹیپو کی تقرری کا نوٹی فکیشن بھی معطل کر دیا ہے ۔

مزید : صفحہ اول