پاکستان بات چیت میں جامع مذاکرات کی بحالی پر زور دے گا

پاکستان بات چیت میں جامع مذاکرات کی بحالی پر زور دے گا
پاکستان بات چیت میں جامع مذاکرات کی بحالی پر زور دے گا

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

                       پاکستان اور بھارت میں بڑے اور سلگتے مسائل پر تو دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات کے دوران کسی پیشرفت کا امکان نہیں اور نہ ہی اس کی توقع رکھنی چاہئے ، لیکن آج جب نواز شریف اور نریندر مودی ملیں گے تو اس ملاقات کا نتیجہ کچھ نہ کچھ ضرور نکلے گا، اس امر کا امکان ہے دونوں ملکوں میں کرکٹ روابط بحال ہوجائیں اور کرکٹ سیریز کا اعلان ہوجائے اور اگر مذاکرات سے اچھی امیدیں وابستہ کرلی جائیں تو اصولی طور پر یہ بات بھی طے کی جاسکتی ہے کہ جامع مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا جائے ویسے تو وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مذکرات کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جائیگا جہاں واجپائی کے دورئہ لاہور کے بعد ٹوٹ گیا تھا، اس موقع پر دونوں ملکوں نے اعلان لاہور میں عہد کیا تھا کہ وہ کشمیر سمیت اپنے باہمی تنازعات پر امن طریقوں سے بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔

اگرچہ اس اعلان میں اچھی امیدیں وابستہ کی گئی تھیں، لیکن واجپائی کے دورئہ لاہور کے تین ماہ بعد کارگل بحران شروع ہوگیا، جون کا پورا مہینہ یہ بحران اپنے عروج پر رہا، پھر نواز شریف امریکہ کے دورے پر گئے اور 4جولائی ( امریکہ کا یوم آزادی) کو عام تعطیل والے دن ان کی صدر کلنٹن سے ملاقات ہوئی، اس ملاقات کے نتیجے میں” کنٹرول لائن کی تقدیس“بحال ہوئی۔ فوجوں کی واپسی ہوئی، لیکن کشیدگی بہر حال جاری رہی جنرل پرویز مشرف کا دورئہ آگرہ اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش تھی، جنرل پرویز مشرف کو امید تھی کہ اس دورے کے نتیجے میں کچھ مثبت پیشرفت ہوگی، لیکن یہ دورہ یوں بے نتیجہ رہا کہ کوئی مشترکہ اعلامیہ یا مشترکہ اعلان تک جاری نہ ہوسکا جو مسودہ تیار کیا جارہا تھا اس میں بعض الفاظ بدلنے کی ضرورت پیش آئی تو بھارتی ہاکس نے پورا مسودہ ہی روک لیا جنرل پرویز مشرف انتظار کرتے کرتے آدھی رات کو بغیر کسی اعلان کے واپس آگئے ، اب اگر نواز شریف اس ٹوٹے ہوئے سلسلے کو جوڑنا چاہتے ہیں تو وہ اس پہلی ہی ملاقات میں تو جڑتا ہوا نظر نہیں آتا، اس کے لئے بعد میں کچھ اور ملاقاتیں اور کچھ اور اقدامات کرنا ہوں گے۔

کرکٹ اور جامع مذاکرات کے ساتھ ساتھ جس شعبے میں پیشرفت ہونے کا امکان ہے وہ تجارت کا شعبہ ہے، پاکستان نے بھارت کو تجارت کے لئے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا اصولی فیصلہ کئی سال پہلے کرلیا تھا ، لیکن باقاعدہ اعلان کی نوبت آتے آتے رہ گئی ۔اس دوران نام ہی بدلنا پڑگےا۔

ایم ایف این کا نیا نام اب مارکیٹ تک بلا امتیاز رسائی (این ڈی ایم اے) رکھا گیا ہے ۔ پاکستان نے بھارتی الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ اس سلسلے میں مذاکرات نئی حکومت کے ساتھ کئے جائیں گے، اب نئی حکومت بن گئی ہے اور اتفاق سے وزیر اعظم کو حلف برداری کی تقریب میں بھی شرکت کا موقع مل گیا ہے اس لئے کچھ بعید نہےں کہ این ڈی ایم اے کے سلسلے میں ان مذاکرات میں ہی کوئی پیشرفت ہوجائے، دونوں ملکوں میں اس وقت (2012-13ئ) میں باہمی تجارتی حجم 6ء2بلین ڈالر ہے۔ اس وقت ایک ممنوعہ فہرست موجود ہے جس کے تحت 1209اشیا بھارت سے درآمد نہیں کی جاسکتیں۔ اگر یہ ممنوعہ فہرست ختم ہوجاتی ہے تو دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بھارت کو مارکیٹ تک بلا امتیاز رسائی دیدی گئی( یعنی این ڈی ایم اے) گزشتہ برس کشمیر کی کنٹرول لائن پر کشیدگی پیدا ہوجانے کے بعد تجارتی مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوگئے تھے، دونوں ملک توانائی اور تیل کے شعبوں میں بھی تجارت شروع کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں، مزید تجارتی راستے کھولنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی جاچکی ہے۔

مزید : تجزیہ