وزیراعظم کی بھارتی ہم منصب سے ملاقات ،مذاکرات بحالی کے فریم ورک اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ،بھارت کے پانچ مطالبات،آئیں، تعاون کی راہ اختیار کریں : نوازشریف ،ہائیڈروالیکٹرک پاور منصوبے پر اتفاق

وزیراعظم کی بھارتی ہم منصب سے ملاقات ،مذاکرات بحالی کے فریم ورک اور خطے کی ...

نریندر مودی کے ممبئی حملوں کے ذمہ داران کیخلاف کارروائی اور دہشتگردی روکنے سمیت پانچ مطالبات بھی سامنے آگئے

وزیراعظم کی بھارتی ہم منصب سے ملاقات ،مذاکرات بحالی کے فریم ورک اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ،بھارت کے پانچ مطالبات،آئیں، تعاون کی راہ اختیار کریں : نوازشریف ،ہائیڈروالیکٹرک پاور منصوبے پر اتفاق

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف اور بھارت کے نومنتخب وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان حیدرآباد ہاﺅس میں ہونیوالی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے ،بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے وزیراعظم نوازشریف سے ممبئی حملوں کی تحقیقات، دہشتگردی روکنے اور وائس سیمپل مہیاکرنے سے پانچ مطالبات پیش کردیئے جبکہ وزیراعظم نواز شریف کاکہناتھاکہ دونوں ممالک کے درمیان کئی ثقافتیں اور قدریں مشترک ہیں اور اب مشترکہ قدروں کو طاقت میں بدلنے کا بہترین موقع ہے،کوئی ایشوز جنگی ماحول میں حل نہیں ہوسکتے ،تصادم چھوڑ کر تعاون کی راہ پر آئیں ، ناکام ہوگئے تو تاریخ کبھی نہیں بخشے گی۔ بھارتی سیکریٹری ضارکہ سجاتا سنگھ نے پریس بریفنگ میں بتایاکہ منموہن سنگھ کے ساتھ ہونیوالی ملاقاتیں خوشگوار رہیں ، پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائیڈروالیکٹرک منصوبے اور مذاکراتی عمل پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق کیاگیااور کہاکہ بھارت مطالبہ کرتاہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ پور ا کرے ۔

نئی دہلی کے حیدرآباد ہاﺅس پہنچنے پر نریندر مودی اور نواز شریف نے گرمجوشی کے ساتھ مصاحفہ کیا اور پھردونوں رہنماءاندر چلے گئے،دونوں رہنماﺅں کے درمیان مقررہ وقت سے دس منٹ زائد وقت تک ملاقات جاری رہی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق نواز شریف اور نریندرمودی کی ملاقات 35منٹ پر محیط تھی لیکن وقت ختم کے باوجو د جاری رہی اور مجموعی طور پر مختلف امور پر 50منٹ تک تبادلہ خیال کیاگیاجس کے بعد وزیراعظم نواز شریف بھارتی صدر سے ملاقات کیلئے روانہ ہوگئے ۔ذرائع کے مطابق پاک بھارت تعلقات ، خطے کی صورتحال اور مذاکرات بحالی کے فریم ورک پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

مودی سے مکالمے میں وزیراعظم نواز شریف نے نومنتخب بھارتی وزیراعظم سے پوچھا کہ آپ کیسے ہیں جس پر مودی کاکہناتھاکہ میں ٹھیک ہوں ۔ نواز شریف کاکہناتھاکہ دونوں حکومتوں کو بھرپورعوامی مینڈیٹ ملاہے ، تعلقات میں بہتری کا بہترین موقع ہے ، دونوں ممالک کے عوام تعلقات کے نئے دور کاآغاز چاہتے ہیں۔ مہمان وزیراعظم کاکہناتھاکہ اٹل بہاری واجپائی کابے حداحترام کرتے ہیں ، واجپائی بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے خواہاں تھے اور وہ خود بھی 1999ءکی سطح پر پاک بھارت تعلقات کی بحالی کے خواہاں ہیں ،دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے خدشات دور کرنے چاہیں ، دونوں حکومت نے نئے دور کا آغاز کیاہے ، مضبوط مینڈیٹ ملاہے ، عوام کی توقعات پر پورا اترناچاہیے ، غربت اور ناخواندگی پر توجہ دیں ،ہماری ترجیح عوام کی خدمت ہونی چاہیے۔

نریندرمودی نے ممبئی حملوں کی تحقیقات کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ذمہ داران کیخلاف تاحال کارروائی نہیں ہوئی، ٹرائل منطقی انجام تک پہچائیں ،منصوبہ سازوں کیخلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے ،ملوث ملزموں کے وائس سیمپلز مہیاکریں، مذاکرات اور دیگرمعاملات کے حل کے لیے موافق صورتحال پیدا ہونی چاہیے ۔مودی کاکہناتھاکہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تعاون پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ پاکستان دہشتگردی روکے ،دہشتگردانہ حملوں کا خاتمہ ہوناچاہیے ، 26/11کے حملوں کے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کریں ، پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے خطے کی سطح پر تعاون کرے ، ممبئی حملوں میں ملوث مبینہ ملزموں کے وائس سیمپل مہیا کیے جائیں ۔

 وزیراعظم نواز شریف کاکہناتھاکہ شکوک و شبہات ختم کرنے کے قریب آگئے ہیں ،دونوں ممالک کے عوام اسلحہ کی دوڑ نہیں چاہتے ،آئیں ،تصادم کی راہ چھوڑکر تعاون کی راہ اختیار کریں، ڈیڑھ ارب لوگوں کا مستقبل ہم سے وابستہ ہے،عوام سے خوشحالی کی توقع کرتے ہیں، ہم ناکام ہوگئے تو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ۔پاکستانی میڈیا کے مطابق مذاکرات کی بحالی سمیت اہم امور زیربحث آئے، وزیراعظم کے ہمراہ طارق فاطمی ، سرتاج عزیز اور پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط پر مشتمل تین رکنی وفد بھی ملاقات میں شریک تھے۔ بتایاگیاہے کہ وزیراعظم نواز شریف اپنے بھارتی ہم منصب کو ہاتھ سے بنا پاکستانی قالین ، مٹھائی اور دیگر روایتی تحائف پیش کیے۔

دونوں رہنماﺅں کی ملاقات کو پاکستانی و بھارتی میڈیا کے علاوہ عالمی میڈیا نے بھی بھرپور کوریج دی اور نمائندوں نے اس تاریخی موقع پر حیدرآبادہاﺅس میں ڈیرے ڈال لیے ۔بھارت کے نومنتخب وزیراعظم کے ملاقات کے بعد وزیراعظم نواز شریف بھارتی صدر پرناب مکھر جی سے ملاقات کیلئے روانہ ہوگئے جہاں دونوں رہنماﺅں کے درمیان ہونیوالی ملاقات باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

بعدازاں بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے سیکریٹری خارجہ سجاتاسنگھ نے پریس بریفنگ میں بتایاکہ مودی نے آٹھ عالمی رہنماﺅں سے تعمیری ملاقات کی ،وزیراعظم نوازشریف کا دورہ بھارت خوش آئند ہے ، پاکستان کے ساتھ ہائیڈروالیکٹرک پاور منصوبے پر اتفاق کیاگیاہے ۔اُنہوں نے کہاکہ بھارت ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے ، نواز شریف سے مطالبہ کیاگیاہے کہ دیگر ممالک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے سے متعلق پاکستان اپنا وعدہ پوراکرے ، دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ آپس میں رابطے میں رہیں گے اور معاملات کو آگے بڑھائیں گے ۔ سجاتاسنگھ کاکہناتھاکہ ستمبر2012ءکے معاہدے کے تحت دونوں ممالک تجارتی معاملات آگے بڑھائیں گے ۔ اُنہوں نے بتایاکہ وزیراعظم منموہن سنگھ نیپال کا دورہ کرناچاہتے ہیں اور بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کو دورہ بھارت کی دعوت بھجوائی ہے ۔

مزید : قومی /Headlines