مودی کے ڈرامائی دعوت نامہ نے نواز شریف سے قبل از وقت ملاقات کروا دی

مودی کے ڈرامائی دعوت نامہ نے نواز شریف سے قبل از وقت ملاقات کروا دی
مودی کے ڈرامائی دعوت نامہ نے نواز شریف سے قبل از وقت ملاقات کروا دی

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات ہوگئی، ملاقات میں جو امور زیر بحث آئے اس کی کچھ تفصیل بھارتی خارجہ سیکرٹری سجاتا سنگھ نے بیان کردی ہے، وزیراعظم نواز شریف نے جو کچھ کہا اس کی تفصیل خود اُنہوں نے بیان کردی، ساری باتیں تو منظر عام پر نہیں آئیں لیکن جو باتیں سامنے آئی ہیں، وہ وہی ہیں جو دونوں ملکوں کا معلوم موقف ہے، ظاہر ہے 45 منٹ کی ملاقات میں کوئی دھماکہ خیز اعلان تو متوقع نہ تھا، خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر البتہ تمام ایشوز پر بات کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے یہ سلسلہ چل نکلا تو بات خارجہ سیکرٹریوں سے آگے بڑھ کر وزرائے خارجہ تک پہنچ سکتی ہے، پاکستان میں اس وقت کوئی فل ٹائم وزیر خارجہ نہیں، ایک مشیر اور ایک خصوصی معاون سے کام چلایا جارہا ہے، لیکن اگر بھارت سے مستقبل میں بات چیت کرنی ہے تو پھر مستقل وزیر خارجہ کا تقرر کرنا ہوگا، اگر مسلم لیگ (ن) کے منتخب ارکان پارلیمنٹ میں اس وقت کوئی لائق فائق وزیر خارجہ ملنا مشکل ہے تو تحریک انصاف میں اکٹھے تین سابق وزرائے خارجہ موجود ہیں ان میں سے کسی کو مستعار لیا جاسکتا ہے، جیسا کہ امریکہ میں روایت ہے برسراقتدار جماعت ملکی مفاد میں مخالف جماعت سے تعلق رکھنے والے کسی وزیر کی خدمات حاصل کرلیتی ہے جیسا کہ اوباما نے ری پبلکن وزیر دفاع کی خدمات حاصل کئے رکھیں، شاہ محمود قریشی، خورشید محمود قصوری یا سردار آصف احمد علی میں سے کسی ایک کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں ہوسکتا ہے ان میں سے کوئی ایک ملک کے وسیع تر مفاد میں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت سے بھی نہ ہچکچائے البتہ اتنا ہے کہ انہیں پارلیمنٹ کی رکنیت دلانا ہوگی، شاہ محمود قریشی تو رکن ہیں قرعہ فال اگر آخر الذکردو حضرات میں سے کسی کے نام نکلے تو اسے کسی ضمنی الیکشن میں منتخب کرایا جاسکتا ہے۔

نواز شریف نے کہا تھا کہ تعلقات کو جوڑنے کا سلسلہ وہیں سے شروع کریں گے جہاں 1999ءمیں واجپائی کے دورہ لاہور کے بعد ٹوٹ گیا تھا، بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے نریندر مودی کو اعلان لاہور یاد دلایا ممکن ہے کسی اگلی ملاقات میں جو سیکرٹریوں یا وزرائے خارجہ کی سطح پر ہو، اعلان لاہور کا مسودہ سامنے رکھ کر باقاعدہ مذاکرات کئے جائیں۔ جس میں کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ویسے اعلانِ لاہور سے پہلے 65ءکی جنگ کے بعد ایک اعلانِ تاشقند بھی ہوا تھا اور اس کے بعد 71ءکی جنگ کے بعد دونوں ملکوں میں شملہ معاہدہ بھی ہوا تھا، اعلان تاشقند، شملہ معاہدہ اور اعلان لاہور کو اکٹھا ملا کر پڑھا جائے تو ان میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق نظر آئے گا اس لئے بات چیت جب کبھی ہوگی اس میں سارے ہی متنازعہ امور زیر بحث آئیں گے ان میں سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا ہے۔ اس مسئلے کا تیسرا فریق کشمیر کے عوام ہیں اور اب تک بدقسمتی یہ رہی کہ کشمیری عوام ہی کو کو مشاورت میں شریک نہیں کیا جاتا یا کم سے کم شریک کیا جاتا ہے۔ اس وقت کشمیری قیادت میں بھی اختلاف موجود ہے قائدین کا ایک گروپ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر یقین رکھتا ہے جبکہ ان قائدین میں ایک دوسرا مکتب فکر مذاکرات سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرتا۔

کشمیر کا مسئلہ جب کبھی حل ہوگا، مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوگا، البتہ ماضی میں اس مسئلے کے حل کی ساری کوششیں بشمول جنگیں اب تک ناکام رہی ہیں، اب دیکھیں بات چیت کیا رُخ اختیار کرتی ہے۔

نواز شریف نے مودی کو دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے جو انہوں نے قبول کرلی ہے ”مناسب وقت“ پر وہ پاکستان کا دورہ کرسکتے ہیں لیکن یہ ”مناسب وقت“ نہ جانے کب آئے، من موہن سنگھ نے بھی سابق حکومت کی دعوت ایک سے زیادہ مرتبہ قبول کرلی تھی لیکن اُن کے دوسرے دور میں ”مناسب وقت“ ہی نہ آیا، ممبئی دھماکوں کے بعد تو دورہ پاکستان کی بات کرنا ہی مشکل ہوگیا تھا، اگر ایسا ہوتا تو سارا بھارتی میڈیا پنجے جھاڑ کر اپنے وزیراعظم کے پیچھے پڑ جاتا۔

نواز شریف اور نریندر مودی کی یہ ملاقات دراصل قبل از وقت ہوگئی، ”قبل از وقت “ان معنوں میں کہ نہ نریندر مودی سارک سربراہوں کو اپنی تقریب حلف برداری میں بلاتے، نہ نواز شریف کے جانے کی کوئی صورت بنتی، دراصل یہ دو دھاری معاملہ تھا، دعوت تو دیدی گئی تھی اگر پاکستان میں بعض حلقوں کی رائے پر عمل کیا جاتا اور یہ دعوت مسترد کردی جاتی تو شاید اب کسی اور انداز میں پروپیگنڈہ ہورہا ہوتا، نواز شریف نے دعوت قبول کرلی تو اب رُخ تنقید بدل گیا ہے، لیکن ہمارے خیال میں یہ ملاقات قبل از وقت ہوگئی ہے۔ نریندر سال چھ ماہ حکومت کرلیتے اور اس کے بعد ملاقات کی کوئی صورت نکلتی تو شاید اس دوران دونوں ملکوں میں کوئی ہوم ورک بھی ہوگیا ہوتا، اب تو جلدی جلدی سارے امور سمیٹے گئے اور پہلے سے ایجنڈا طے کئے بغیر ملاقات بھی ہوگئی، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ملاقات اس طرح بار آور نہیں ہوئی جس طرح ہونی چاہیے تھی، دراصل اُن کی توقعات زیادہ تھیں اور جنہوں نے اس ملاقات کو ایک ابتدائی ملاقات سمجھا اُن کے نزدیک اتنا ہی کافی ہے کہ ملاقات ہوگئی۔جو لوگ اس ملاقات میں کسی ”سودے بازی“ کی بو سونگھ رہے تھے، انہیں بھی مایوسی ہوئی ہے۔

مزید : تجزیہ