سونگھنے کی حس اچھی صحت کی نشانی

سونگھنے کی حس اچھی صحت کی نشانی
سونگھنے کی حس اچھی صحت کی نشانی

  

برمنگھم (مانیٹرنگ ڈیسک) ہماری سونگھنے کی حس ہمیں مضر صحت اور خراب غذاﺅں اور ماحول میں موجود خطرناک مادوں اور گیسوں سے خبردار کرتی ہے لیکن اس کے بہت سے اثرات اور استعمالات ایسے بھی ہیں کہ جن پر ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا۔ ازدواجی زندگی میں بھی جس شام کا ایک خاص کردار ہے، ہم جنس مخالف کی خوشبو سے ان کی طرف مسائل ہوتے ہیں اور اس حس کی کمزوری عام طور پر ازدواجی بے رغبتی کا باعث بنتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سونے کے دوران بھی ہماری حس جاگتی رہتی ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سونگھنے کی حس کے اچھا اور صحتمندہونے کا مطلب ہے کہ ہماری عمومی صحت بھی اچھی ہے اور اس حس کی کمزوری نہ صرف مختلف بیماریوں کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ یہ موٹاپے کا باعث بن سکتی ہے اور حتیٰ کہ جنسی خواہش کو کمزور کرکے ازدواجی زندگی میں مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ جب ہم کسی چیز کی بو یا خوشبو کو محسوس کرتے ہیں تو دراصل اس چیز سے خارج ہونے والے بُو یا خوشبو کے مالیکیول ہماری ناک میں داخل ہوتے ہیں۔ ناک میں یہ مالیکیول سیلیا (Cilia) نامی باریک بالوں سے چمٹ جاتے ہیں اور پھر عصبی نظام کے ذریعے ان کی معلومات دماغ کو پہنچتی ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ہمارا یہ نظام کمزور ہوتا جاتا ہے اور سونگھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اس کے علاوہ نزلہ زکام اور آلودگی سے بھی یہ صلایت متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عورتوں کی سونگھنے کی حس مردوں سے زیادہ تیز ہوتی ہے اور اسی طرح ورزش کرنے والوں کی سونگھنے کی حس بھی دیگر لوگوں سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ اگر یہ حس بہت زیادہ کمزور ہو تو یہ بات ذیا بیطس کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔

مزید : تعلیم و صحت