دریائے نیل کے کنارے ’کروکوڈائلو پولس ‘دنیا کا قدیم ترین شہر

دریائے نیل کے کنارے ’کروکوڈائلو پولس ‘دنیا کا قدیم ترین شہر
دریائے نیل کے کنارے ’کروکوڈائلو پولس ‘دنیا کا قدیم ترین شہر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قاہرہ (نیوز ڈیسک) دنیا کے متعدد شہر زمانہ قبل از مسیح سے آباد ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا قدیم ترین شہر کونسا ہے؟ اگرچہ اس اعزاز کے دعویدار کئی شہر ہیں لیکن مورخین کا کہنا ہے کہ مصر میں دریائے نیل کے کنارے آج سے تقریباً 6 ہزار سال قبل کروکوڈائلو پولس شہر آباد کیا گیا جو آج کے مصری شہر فائیم کا حصہ ہے، اور یہی دنیا کا قدیم ترین شہر ہے۔

مزیدپڑھیں:نوبیاہتاسعودی جوڑے کی جانب سے شادی کے فوراً بعد علیحدگی پر ’پارٹی‘کا اہتمام

اس شہر کے لوگ مگر مچھ دیوتا سوبک کے پجاری تھے اور دریائے نیل میں موجود سب سے بڑا مگر مچھ دنیا میں ان کے دیوتا کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا، جسے پیٹسوکوس کانام دیا جاتا تھا۔ یہ قدیم شہر ممفیس شہر کے جنوب مغرب میں دریائے نیل کے کنارے 4ہزار قبل مسیح میں آباد کیا گیا تھا۔ اس وقت مصری اسے شیدت کے نام سے پکارتے تھے۔ چونکہ یہ قدیم شہر اب فائیم کا حصہ بن چکا ہے لہٰذا فائیم کو دنیا کا وہ قدیم ترین شہر کہا جاسکتا ہے کہ جو آج بھی آباد ہے۔

مورخین کا کہنا ہے کہ بھارت کا شہر وارانسی، جسے کبھی بنارس بھی کہا جاتا تھا، عراق کا شہر کرکوک، ایران کا شوش، فلسطین کا یروشلم، لیبیا کا بیروت، شام کے دمشق اور الیپو، مصر کا قاہرہ اور ترکی کا قسطنطنیہ بھی قدیم ترین شہر کے دعوے داروں میں شامل ہیں لیکن تحقیق کا وزن کروکوڈائلو پولس کے پلڑے میں ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس