یورپ کے وہ علاقے جہاں 70سال بعد بھی کوئی نہیں جاسکتاکیونکہ۔۔۔

یورپ کے وہ علاقے جہاں 70سال بعد بھی کوئی نہیں جاسکتاکیونکہ۔۔۔
یورپ کے وہ علاقے جہاں 70سال بعد بھی کوئی نہیں جاسکتاکیونکہ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پیرس (نیوز ڈیسک) کسی بھی جنگ کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا لیکن پہلی جنگ عظیم کے دوران شمال مشرقی فرانس میں اس قدر بربادی ہوئی کہ تقریباً 1200 مربع کلومیٹر کا علاقہ انسانی استعمال کے لئے ہمیشہ کے لئے ناکارہ ہوگیا۔ اس علاقے کو Zone rouge یعنی سرخ علاقہ کہا جاتا ہے اور تقریباً ایک صدی گزرنے کے باوجود یہاں کوئی انسانی آبادی نہیں ہے۔ اس علاقے میں پہلی جنگ عظیم کے دوران اس قدر قتل و غارت ہوئی کہ ہر جگہ انسانی لاشیں پڑی نظر آتی تھیں اور عمارتیں اور فصلیں بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھیں۔ یہاں انسانوں اور جانوروں کی باقیات اتنی بڑی مقدار میں تھیں کہ ان کی صفائی ممکن نہ تھی۔ غیر استعمال شدہ اسلحہ کی بھی بھارتی تعداد سارے علاقے میں بکھری پڑی تھی جس کی وجہ سے یہاں کسی انسان کا جانا ممکن نہ رہا تھا۔

مزیدپڑھیں:وہ آبشارجس میں نہانے کی خاطر لوگ کئی مہنوں تک پیسے جوڑتے رہتے ہیں ،لیکن کیوں،جان کو آپ کو یقین نہیں آئے گا

 فرانسیسی حکومت نے اس خطرناک علاقے کو ناقابل استعمال قرار دیتے ہوئے یہاں انسانی بستیاں آباد کرنے پر پابندی عائد کردی اور آج بھی سرخ علاقے کا رخ کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں ہے۔ اب یہاں کی بربادی کو گھنی جھاڑیوں اور جنگلات نے مزید گہرا کر دیا ہے اور یہ سر زمین وحشت، بربادی اور عبرت کی مثال نظر آتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس