’کیا یہی پیا رہے‘عاشق نے محبوبہ کو جانور بنا دیا

’کیا یہی پیا رہے‘عاشق نے محبوبہ کو جانور بنا دیا
’کیا یہی پیا رہے‘عاشق نے محبوبہ کو جانور بنا دیا

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) مذہب اور اخلاقیات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ محبت کے جذبے کابنیادی عنصر عزت اور احترام ہے لیکن مذہب اور اخلاقیات سے عاری مغرب نے محبت کو اس قدر ناپاک رنگ دے دیا ہے کہ جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

مزیدپڑھیں:بیگم کے انتخاب میں خواتین کی کونسی چیز مردوں کیلئے سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے؟جدید تحقیق نے تما م خیالات غلط ثابت کر دیے

امریکی شہر نیویارک کے علاقے سٹیٹن آئی لینڈ سے تعلق رکھنے والا جوڑا محبت کے تصور کو مسخ کرنے والوں کی نمایاں ترین مثال قرار دیا جاسکتا ہے۔ 30 سالہ ٹرک ڈرائیور نیتھن رائلی اور اس کی 21 سالہ محبوبہ جب شام کے وقت واک کے لئے نکلتے ہیں تو نیتھن کے ایک ہاتھ میں اپنے کتے کی زنجیر اور دوسرے میں اپنی محبوبہ کی زنجیر ہوتی ہے۔ جس طرح کتے کے گلے میں پٹہ ہوتا ہے اسی طرح محبوبہ کے گلے میں بھی پٹہ ہوتا ہے اور یہ ان کا روز کا معمول ہے۔ نیتھن دونوں کو لے کر اپنے علاقے کی سڑکوں پر گشت کرتا ہے اور دونوں کو پارکوں میں لے کر جاتا ہے جہاں کتے کی طرح محبوبہ بھی چوپایوں کی طرح چلتی نظر آتی ہے۔ وہ کتے کی طرح ہی منہ سے زبان نکال کر فوارے کا پانی پیتی نظر آتی ہے اور اپنے اس فعل پر یہ جوڑا شرمندگی کی بجائے فخر کرتا نظر آتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ محبت کا ایک انداز ہے اورجس طرح لوگ انگوٹھی یا ہار پہنتے ہیں اسی طرح یہ پٹے اور زنجیر کو محبت کی علامت سمجھتے ہیں۔

 اگرچہ ان دونوں کو سخت ترین تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن یہ اپنے فعل کو محبت قرار دے کر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گلے میں پٹہ اور زنجیر پہننے والی خاتون کو لوگوں نے ”نیتھن کی پِلی“ کا نام دے دیا ہے لیکن اس نے شرمندہ ہونے کی بجائے اس نام کو بھی اپنا لیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس