تازہ تحقیق نے تما م دعوے غلط ثابت کر دیے،جی بھر کر انڈے کھائیں کیونکہ۔۔۔

تازہ تحقیق نے تما م دعوے غلط ثابت کر دیے،جی بھر کر انڈے کھائیں کیونکہ۔۔۔
تازہ تحقیق نے تما م دعوے غلط ثابت کر دیے،جی بھر کر انڈے کھائیں کیونکہ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) 1970ءسے لے کر اب تک سائنسدانوں کی اکثریت کا اصرار رہا کہ انڈے ، مکھن اور اس طرح کی دیگر اشیاءانسانی جسم میں کولیسٹرول میں اضافے کا باعث بنتی ہیں جس سے کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔خصوصاً ہارٹ اٹیک اور برین سٹروک کا ذمہ دار ایسی اشیائے خورونوش کو قرار دیا جاتا رہا جن میں چکنائی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔

مزیدپڑھیں:صبح اٹھتے آپ 7 منٹ اس کام میں لگا دیں تو یقیناً آپ کی زندگی بدل جائے گی

لیکن اب اس نظریئے کے مخالف ماہرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈوں، مکھن و دیگر اشیاءمیں پائی جانے والی چکنائی کا خون میں موجود چکنائی سے کوئی تعلق نہیں اور یہ اشیاءکھانے سے خون میں موجود چکنائی کی مقدار میں اضافہ یا نہ کھانے سے کمی واقع نہیں ہوتی۔ کولیسٹرول بڑھنے کے ڈر سے شہریوں کو انڈوں اور مکھن وغیرہ کھانے سے منع کرنا سائنسدانوں کی غلطی تھی۔کولیسٹرول اور چکنائی والی اشیاءکے معاملے پر ماہرین کی رائے میں ڈرامائی تبدیلی کے باعث امریکی حکومت کو بھی یہ تجویز تسلیم کرنی پڑ رہی ہے کہ کولیسٹرول کو ”خطرناک غذاﺅں“ کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ایگریکلچر پینل نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس نئی تحقیق کو تسلیم کرے گا جو دل کی بیماریوں کے متعلق غذائی کولیسٹرول کے کردار کو واضح کرتی ہے۔کلیو لینڈ کلینک سے وابستہ امریکی کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر سٹیو نسین کا کہنا ہے کہ ”نئی تحقیق سے آنے والا یوٹرن 40سال سے کولیسٹرول والی اشیاءنہ کھانے کے متعلق دی جانے والی ہدایات کو یکسرالٹ کر دے گا۔یہ درست فیصلہ ہے، 4عشروں تک غذا کے متعلق ہماری غلط رہنمائی کی جاتی رہی۔“ماہرین اب کولیسٹرول سے بچنے کی تنبیہہ کرنے کی بجائے شوگر کو بڑا غذائی خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

مزید : تعلیم و صحت