ماہنامہ اُردوڈائجسٹ شمارہ مئی کی تعارفی تقریب

ماہنامہ اُردوڈائجسٹ شمارہ مئی کی تعارفی تقریب

19 مئی 2015ء کا دن اس اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل تھا کہ اس روز اکادمی ادبیات (پاکستان) لاہور کے مرکزی دفتر میں ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ کی تعارفی تقریب کا انعقاد ہو رہاتھا۔ ممتاز ادیب و دانش ور ڈاکٹر اختر شمار اس تقریب کی صدارت، صدارتی ایوارڈ یافتہ مصور، خطاط، ماہر اقبالیات اور ادیب جناب اسلم کمال مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کر رہے تھے جبکہ مقررین میں ابصار عبدالعلی ڈائریکٹر حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ، ممتاز کالم کار اور شہرہ آفاق مقرر محمد منشا قاضی، سیکرٹری اکادمی ادبیات محمد جمیل اور مینجر تعلقات عامہ محمد اسلم لودھی شامل تھے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ادیبہ، شاعرہ عمرانہ مشتاق کے سپرد تھے ۔۔۔ٹھیک پانچ بجے سہ پہر تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ یہ سعادت حافظ قاری احمد ہاشمی نے حاصل کی۔ سٹیج سیکرٹری عمرانہ مشتاق نے تعارفی تقریب کے انعقاد پر مختصر روشنی ڈالی اور مینجر تعلقات عامہ اُردو ڈائجسٹ محمد اسلم لودھی کو اسٹیج پر اظہار خیال کے لئے بلایا۔

محمد اسلم لودھی نے صاحب صدر، مہمان خصوصی اور تمام حاضرین کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُردو ڈائجسٹ کی تعارفی تقریب کے انعقاد کے مقاصد اور پاکیزہ معاشرے میں اُردو ڈائجسٹ کے کردار پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، اسے میڈیا کا دور کہا جاتا ہے۔ وہ بات جو کبھی مہینوں بعد بھی لوگوں تک نہیں پہنچتی تھی ذرائع ابلاغ کی حیرت انگیز ترقی کی بدولت چند سیکنڈوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ نے 55 سال پہلے اصلاحی معاشرے کے قیام کے لئے جو قندیل روشن کی تھی ،اس کی روشنی آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ ذہن و دل کو روشن اور معطر کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اُردو ڈائجسٹ کا نام ہر سطح پر ایک معتبر حوالہ بن چکا ہے، جس نے یہ ڈائجسٹ نہیں پڑھا، وہ بھی اس کے نام سے واقف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ڈائجسٹ سے وابستہ دو عظیم ادبی اور صحافتی شخصیات ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی اور جناب الطاف حسن قریشی نے اپنے لہو سے اس پودے کی آبیاری کی ہے۔ قد و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مالی پریشانیوں سے عہدہ برآ ہوئے لیکن اپنے مقصد اور عزم سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے۔ یہی وجہ ہے کہ نسل در نسل پڑھا جانے والا اُردو ڈائجسٹ آج بھی ہر خاندان میں فرد کی حیثیت سے مقبول عام ہے۔ یہ وہ ڈائجسٹ ہے جس کو دادا بھی شوق سے پڑھتا ہے اور پوتا بھی پڑھنے کا اتنا ہی ذوق رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈائجسٹ دنیا بھر میں اُردو پڑھنے والوں کے خاندانوں کا ایک اہم فرد تصور کیا جاتا ہے۔ اس گفتگو کے بعد انہوں نے اُردو ڈائجسٹ کے شمارہ کے چیدہ چیدہ مضامین پر مختصر روشنی ڈالی جس کو سامعین نے بے حد سراہا۔

اس کے بعد محمد منشا قاضی کو اظہار خیال کے لئے بلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے لئے آج کا دن مسرت آلود فضائے بسیط سے پوری طرح لبریز ہے کہ مجھے اس شہرہ آفاق ڈائجسٹ پر گفتگو کرنے کا شرف بخشا گیا ہے جس نے پاکیزہ معاشرے کی تشکیل میں گراں قدر قدمات سر انجام دیں اور قومی زبان اُردو کو فروغ دیا۔ اُردو ڈائجسٹ کے مدیر اعلیٰ الطاف حسن قریشی کا اس ملت پاکستانیہ پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ انہوں نے حق گوئی اور بے باکی کی ایسی لازوال داستانیں رقم کی ہیں جن کا تذکرہ حکومت کے ایوانوں سے لے کر ملک بھر کے تعلیمی اداروں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے اصحاب فکر و دانش کی زبان پر رہتا ہے۔ جناب الطاف حسن قریشی نے شمارہ مئی میں حالات و واقعات کی حقیقی تصویر کشی کی ہے۔ آپ نے اپنے قلم کی قوت سے ظلمت کدۂ آمریت میں وہ چراغ جلائے ہیں کہ ان کی لو آج بھی ہمارے سینوں میں عزم و ہمت کی قندیلیں روشن رکھے ہوئے ہیں۔ محمد منشا قاضی نے مزید کہا کہ اُردو ڈائجسٹ کے صدر مجلس ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی اپنی ذات میں انجمن ہیں، ان کا کاروان علم ملک و ملت کی خدمت کے دس سال پورے کر چکا ہے۔ الحمد للہ پانچ ہزار سے زائد کم وسیلہ مگر با صلاحیت طلبہ و طالبات کو ساڑھے آٹھ کروڑر وپے سے زائد کے وظائف دیئے جا چکے ہیں۔ اُردو ڈائجسٹ کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ جہالت کی تاریکیوں کو علم و عرفان کی روشنی سے دور بھگانے میں مصروف ہے۔

حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ابصار عبدالعلی نے بہترین معیار اور اُردو زبان کے فروغ میں اُردو ڈائجسٹ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ڈائجسٹ نے کردار اور شخصیت سازی میں بہت اہم فریضہ انجام دیا ہے۔ شعور کی آنکھ کھولتے ہی ہمارے ہاتھوں میں اُردو ڈائجسٹ تھا، جس کا مطالعہ نہ صرف ہمیں ذہنی و قلبی تسکین بخشتا، بلکہ اس ڈائجسٹ کی بدولت ہمیں ایک نئی دنیاؤں سے تعارف بھی حاصل ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اُردو ہماری قومی زبان ہے۔ آئین میں درج ہونے کے باوجود آج تک اُردو زبان کو وہ مقام و مرتبہ نہیں مل سکا جو اسے حاصل ہونا چاہئے تھا۔ کسی بھی قوم کی ترقی کی داستان اٹھا کر دیکھ لیں قومیں اپنی زبان کی ترویج ہی سے ترقی کی منزلیں طے کرتی ہیں۔

صدارتی ایوارڈ یافتہ مصور اور ممتاز دانش ور جناب اسلم کمال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اُردو ڈائجسٹ سے میرا رشتہ بہت پرانا ہے۔ طالب علمی کے زمانے سے ہی اس ادبی و علمی ڈائجسٹ کا مستقل قاری ہوں۔ اس ڈائجسٹ نے بطور خاص قومی زبان اُردو کے فروغ اور ہر سطح پر ترویج میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اُردو ڈائجسٹ ایسا موقر جریدہ ہے جس کا اسلوب بعض دیگر جرائد نے بھی اپنایا۔ یہ اپنے آغاز سے آج تک حق گوئی اور بے باکی کا علمبردار چلا آ رہا ہے، حالانکہ ماضی میں یہ جریدہ سنسر اور بندش سمیت دیگر مشکلات کا شکار بھی رہا ہے، لیکن مشکلات کتنی بھی زیادہ اور تلخ کیوں نہ ہوں، اس ڈائجسٹ سے وابستہ شخصیات نے کہی ہمت اور حوصلہ نہیں ہارا اور اپنا سفر جاری رکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ ڈائجسٹ ہے جو ہر گھر کا محبوب ترین ہے اور آج بھی اتنا ہی مقبول ہے جتنا نصف صدی پہلے تھا۔ اس کے پرانے شمارے بھی اپنے اوراق میں صدیوں کی تاریخ اپنے دامن میں محفوظ رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔ سیکرٹری اکادمی ادبیات محمد جمیل نے کہا کہ اکادمی ادبیات کے مرکزی دفتر میں اُردو ڈائجسٹ کی پہلی تعارفی تقریب کا انعقاد یقیناً ہمارے لئے اعزاز کا درجہ رکھتا ہے۔ ہم اور اُردو ڈائجسٹ یکساں طور پر اُردو ادب اور قومی زبان کے فروغ کے لئے اپنی اپنی سطح پر کاوشیں کر رہے ہیں۔ اُردو ڈائجسٹ اُردو پڑھنے والوں میں ایک معتبر نام اور حوالہ ہے۔

صدر مجلس ڈاکٹر اختر شمار نے اپنے صدارتی خطاب میں اُردو ڈائجسٹ کے بہترین معیار اور خوبصورت تحریروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اُردو ڈائجسٹ ہر دور میں مقبول عام رہا ہے۔ وقتی طوفانوں اور آندھیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اس نے اپنا سفر جاری رکھا جو لائق تحسین ہے، بطور خاص نوجوان نسل کے لئے یہ ڈائجسٹ مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے تمام مقررین کی تقاریر کو سراہتے ہوئے اُردو ڈائجسٹ کے شمارہ مئی کے چیدہ چیدہ مضامین کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے کہا ،یوں تو تمام مضامین ہی قابل تعریف ہیں، لیکن سب سے زیادہ محمد اسلم لودھی کا اپنے والد کے حوالے سے مضمون ’’مجھے اپنے باپ پر فخر ہے‘‘ نے مجھے متاثر کیا۔ یہ مضمون بطور خاص ہماری نوجوان نسل کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ والدین اور بچوں میں بڑھتی ہوئی دوریوں کو اسی طرح کم کیا جا سکتا ہے کہ بچے اپنے والدین کا دل کی گہرائیوں سے احترام کریں اور ان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان سے سیکھیں۔ جو نوجوان اپنے والدین کا احترام کرتا ہے، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو رہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے طیب اعجاز قریشی کا ادارتی نوٹ بھی اچھا لگا، بے شک ادارتی نوٹ کی شکل میں یہ مضمون بہت مختصر تھا، لیکن اس میں چینی ثقافت، روایات، ترقی، اصول پسندی اور پاکستان سے والہانہ محبت کے اظہار کے علاوہ چین کی تاریخ، لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں بے شمار معلومات ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد چین کی جانب سے پاکستان میں بنائے جانے والے اقتصادی راہداری منصوبوں کی اہمیت کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اُردو ڈائجسٹ دور حاضر میں سب سے معتبر اور موقر جریدہ ہے جس سے ہر سطح کے قارئین وابستہ ہیں۔ نوجوان نسل کو بھی اپنا کردار کو سنوارنے اور روشن مستقبل کے لئے اُردو ڈائجسٹ سے بھرپور استفادہ کرنا ہوگا، یہی وقت کی آواز ہے۔

مزید : کالم