بجٹ اور عوام

بجٹ اور عوام
بجٹ اور عوام

  

اس سال 2015ء میں چونکہ رمضان المبارک بھی بجٹ کے مہینے جون میں ہی آرہا ہے اور ہر سال کی طرح سبزی ،پھل ،مصالحہ جات حتی ٰ کہ تمام اشیائے خورد ونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی اور غریب کا افطاری کے بعد بھی روزہ ہی رہے گا ،کیونکہ وہ ہوشربا مہنگائی کی وجہ سے اللہ کی ان نعمتوں سے محروم رہتا ہے، لہٰذا عوام کو رمضان پیکیج اور رمضان بازاروں اور یوٹیلٹی سٹورز جیسے ٹوپی ڈراموں کے چکر میں ڈالنے کی بجائے دس ہزارکمانے والے ہر غریب شہری کو شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے راشن کارڈ بنا کر رمضان المبارک اور عید کے لئے راشن فری فراہم کیا جائے اوراس کا زرِ تخمینہ بجٹ میں شامل کیا جائے۔ بجٹ ملک وقوم کے مفادات کی خاطر بنایا جائے نہ کہ حکمران طبقہ اور ایلیٹ کلاس کے ذاتی مفادات کے لئے،یہ بجٹ عام آدمی کا بجٹ ہونا چاہئے۔خاندان کے بزرگوں سے سنتے آرہے ہیں کہ وہ بجٹ ہی کیا جس میں بچت نہ ہو،مگر ہماراملکی بجٹ ایسا ہوتا ہے اس کے مطابق اور اپنی جیب کے اندر رہ کر زندگی کاپہیہ چلانا دوبھر ہوتا چلا جارہا ہے۔

* ہماری بجٹ پالیسی ہی غلط نہیں ہے، بلکہ بجٹ ٹیم میں خواتین کا شامل نہ کیا جانا بھی ایک اہم ترین اور بنیادی غلطی ہے ، جبکہ خواتین پاکستان کی آبادی کا 50فیصدسے زائد حصہ ہیں اور کسی بھی معاشرے یا ملک کی ترقی کا خواب ،خواتین کو ساتھ لے کر چلے بغیر شرمندہِ تعبیر ہونا ناممکن ہے اور پاکستان کی تاریح میں آج تک کسی خاتون کو وزیر خزانہ نہیں بنایا گیا۔ایک خاتون اپنے شوہر کی قلیل آمدنی میں سب کو خوش رکھتے ہوئے اپنا گھریلو بجٹ نہایت خوش اسلوبی سے بناتی ہے، بلکہ وہ وقتی طور پر بے روزگا ر ہوجائے یا کاروبار میں خسارہ ہو جائے ، عورت نہ صرف اس آڑے وقت میں اپنے شوہر کی ڈھارس بندھاتی ہے اُسے حوصلہ دیتی ہے ،بلکہ خاموشی سے جو اس نے بچت کی ہوتی ہے ،کچھ رقم پس انداز کی ہوتی ہے وہ نکال کر شوہر کے ہاتھ پر رکھ دیتی ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہی عورت جب ملکی بجٹ کی ٹیم کا حصہ بنائی جائے گی تو کوئی بچت نہ ہوگی کچھ پس انداز نہیں کیا جا سکے گا۔

* دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمارا ملکی بجٹ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے لئے بنتا ہے،جبکہ بجٹ تو میڈ فار پاکستان ہونا چاہئے ۔ ہمارے حکمران،سیاست دان، ماہرین اقتصادیات اور بجٹ بنانے والے نہ صرف عام آدمی سے بہت دور ہیں، بلکہ انہیں عام فرد کے مسائل، اس کی آمدنی اور اخراجات کے عدم توازن کا کوئی احساس نہیں ہے۔اس کی وجہ سے تو آج تک پاکستانی عوام سولی پر لٹکے ہوئے ہیں ۔اس میں سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ توازن کو ملحوط خاطر نہیں رکھا جاتا ہے۔ بجٹ پالیسی کی طرح ہمارے ملک میں آمدن پر براہ راست ٹیکس لگانے کا رواج بھی نہیں پایا جاتا ہے۔جب ٹیکس بالواسطہ لگایا جاتا ہے تو وہاں ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکنا والی مثال صادر آتی ہے۔ مثال کے طورپرایک صابن، شیمپو، کولڈ ڈرنک وغیر ہ جیسی معمولی نوعیت کی اشیاء جب ہم خریدتے ہیں تو اس پر ٹیکس ادا کرتے ہیں، مگر توازن اس موڑپر یہاں ایسے گڑبڑ ہوتا ہے ،جب لاکھوں کروڑوں آمدنی والا بھی اس پر وہی ٹیکس ادا کرے گا اور ایک معمولی مزدور، بھی ہر شے پر وہی ٹیکس ادا کرے گا؟اب یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ ایسا کیوں ہے۔۔۔؟ براہ راست ٹیکس نہ دینے والے تو اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں یہ وہی ٹیکس نہ دینے والا طبقہ ہے۔ خود ہی بجٹ بناتا ہے اور خود ہی پاس کرتا ہے۔ وہ بجٹ بناتے وقت بھی اپنی کلاس کے تحفظ کو ذہن میں رکھتے ہیں،مگر بجٹ کی بجلیاں گرتی اس طبقے پر ہیں جو کہ پہلے سے ہی پسماندہ ہے۔یہ بجٹ کہانی ہوئی بڑی پرانی ہے۔بیوروکریٹس اور سیاسی و فوجی حکمرانوں کے چیرے بدلتے رہے مگر طرزِ عمل نہ بدلا۔‘‘ بجٹ اور اقتصادی پالیسی میکرز کو سب سے پہلے اس ناقص نظام کو بدلنا ہوگا۔اس کا سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ طاقتور طبقات اپنی آمدنی کا 50/60 فیصدٹیکس کی صورت قومی خزانے میں جمع کروائیں اور حکومت پوری دیانت داری کے ساتھ اور ایک مربوط سسٹم کے ذریعے انہیں غریب لوگوں پر، اور انہی کی فلاح وبہبود پر خر چ کرے۔

ایک اہم یہ قدم اُٹھایا گیا ہے شناختی کارڈ نمبر ، ایک کو ہی نیشنل ٹیکس نمبرN.T.N))قرار دیا گیا ہے ؟

یہ حکومت کا ایک قابل ستائش قدم ہے۔اللہ کرے اب اس پرنیک نیتی سے عمل پیرا بھی ہو سکیں(آمین )

* ہمارے ملک میں سب سے محروم و یتیم شعبے، تعلیم و صحت کے ہیں اوریہی شعبے عوامی فلاح و بہبود کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں اور عوام کی خیراہ خواہی کسی بھی حکومت کی اولین ذمہ داری وترجیح ہوا کرتے ہیں۔حکومت کو سب سے پہلے تعلیم پر بجٹ کی شرح کو بڑھانا ہوگا اور نئی اصطلاحات کے ساتھ یہ چیک اینڈ بیلنس بھی رکھنا ہوگا کہ تعلیم سستی ومعیاری اور توازن کے ساتھ تمام طبقات میں ایک ہی زبان کلچرو تہذیب کے ساتھ،اپنی اقدار کی نمائندگی کرتی ہوئی یکساں و بآسانی مہیا ہورہی ہواور اس شعبہ میں موجود تمام چور دروازوں کو بند کیا جائے اور یہ دیکھنا نہایت ضروری ہے کہ تعلیم کا بجٹ اسی شعبہ میں ہی مکمل انویسٹ ہو ،آج ہم ٹیکنالوجی اینڈ ریسرچ کے شعبوں میں صفر پر کھڑے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کے محتاج ہیں ۔ہم نہ صرف ترقی یافتہ ممالک سے ڈالرز کی بھیک مانگتے ہیں،بلکہ آج ہمارے سائنس دان ،ہماری یوتھ، ہمارا میڈیا،جدید ٹیکنالوجی اور ریسرچ کے لئے سپر پاورز کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہے،جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر آج زندگی کا ایک سانس لینا بھی ممکن نہیں رہا ہے اور ہمارے ملک میں جدید سائنسی لیبارٹریز اور ریسرچ سنٹرز کا شدید فقدان ہے۔ حکومت کو تعلیم کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اینڈریسرچ کے معاملا ت پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہئے اوربجٹ میں اس کے لئے خاطر خواہ رقم بھی مختص کرنی ہوگی۔

اسی طرح صحت کے شعبہ کی پسماندگی کو ختم کر کے، عام آدمی کو سستی طبی سہولیات کے ساتھ بہترین علاج فراہم کیا جائے ۔صرف ہسپتالوں کی عمارات تعمیر کرتے جانے سے حکومت بری الذمہ نہیں ہو جاتی ہے۔ معیاری و بہترین طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے ،تمام تر طبی معائنے، لیبارٹری ٹیسٹ ادویات عام آدمی کو فری مہیا کئے جائیں اور آبادی کے تناسب سے صحت کے بجٹ کو بھی بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

* یہ عام مشاہدہ ہے کہ ہر سال مئی، جون آتے ہی اکثر دکان دار حتی ٰ کہ تمام کمپنیوں والے اپنی پراڈکٹس کی قیمتیں از خود بڑھانا شروع کرتے دیتے ہیں اور بدنصیبی یہ ہے کہ لوٹ مار کے اس روئیے کی روک تھام کے لئے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ اس بارے میں کوئی حکومتی اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں،جس کی وجہ لوٹ مار کرنے والے ان تاجر حضرات کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ایسے گراں فروش تاجروں کا احتساب ہونا بہت ضروری ہے،کیونکہ تاجروں،دکانداروں،کے اس رویے کا سارا نزلہ غریب عوام پر گرتا ہے۔

مزید : کالم