بول کا بکھیڑا

بول کا بکھیڑا
بول کا بکھیڑا

  

’’بول‘‘ کے گھیراؤ اور بچاؤ کے لئے ہونے والی کشمکش کچھ زیادہ ہی اوپر کی سطح پر ہو رہی ہے۔ بظاہر نظر آنے والے فریق بھی اس لڑائی میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور وہ ایسا کیوں نہ کریں ،جبکہ یہ کلیہ صدیوں پہلے تسلیم کیا جا چکا ہے کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔ امریکہ کے مؤقر اخبار نیویارک ٹائمز میں جعلی ڈگریوں کی خبر نے ’’بول‘‘ چینل کی مادر کمپنی ایگزیکٹ کے حوالے سے جو زلزلہ برپا کیا ہے یقینی طور پر اس کا ارتعاش بیرون ملک بھی محسوس کیا جارہا ہے۔ معاملات ہنوز تفتیش کے مراحل میں ہیں۔ قانونی موشگافیوں سے حتیٰ المقدور گریز کرتے ہوئے ہمیں جذبات اور تعصبات کو ایک طرف رکھ کر ٹھنڈے دل و دماغ سے تمام صورتحال کا جائزہ لینا ہو گا۔

یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ بول والوں نے میڈیا انڈسٹری میں، جس دھماکے دار انداز میں انٹری ڈالی ،ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ تنخواہوں اور مراعات کے پیکیج محض اچھے ،بہتر اور بہترین کے درجات تک ہی محدود نہ تھے ،بلکہ غیر معمولی قرار پائے۔ خصوصاً اینکروں اور انکے معاونین کار اور سب سے بڑے میڈیا گروپ سے بندے توڑنے کے لئے نوٹوں کی بوریوں کے منہ کھول دئیے۔ شوفر، مالی، گارڈ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی جدید اور قیمتی گاڑیاں بھی مہیا کی گئیں کہ جن میں بیٹھنے کا موقع صرف میڈیا مالکان، بڑے جاگیردار اور صنعت کاروں کو ہی ملتا تھا۔ نقد رقوم کی صورت میں تنخواہیں اسقدر بھاری بھرکم تھیں کہ ان لوگوں نے بھی اپنے ادارے چھوڑ دئیے کہ جو زیادہ نہیں تو قدرے معقول تنخواہوں پر ایک طویل عرصے سے قناعت کئے بیٹھے تھے۔ اپنے ان اداروں میں ان کی پوزیشن کچھ ایسی تھی کہ روزانہ کی بنیاد پر غیر دفتری ثمرات سے بھی بھرپور لطف اندوز ہو رہے تھے۔ انہیں دوگنا یا اس کے لگ بھگ تنخواہ پر پہلے بھی نئی ملازمتوں کے مواقع ملے جو حقارت سے ٹھکرا دئیے گئے۔ بول کی پیشکش، مگر بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا دینے والی تھی۔ جس کو طلب کیا جاتا حاضر ہونے میں دیر نہ لگاتا۔ حالات اس موڑ پر آ چکے تھے کہ کئی نیک نام اور تجربہ کار صحافی حضرات بول کی لسٹ میں اپنے نام نہ آنے پر پشیمانی محسوس کررہے تھے۔ یقیناًیہ بات سب پر صادق نہیں آتی پھر بھی اتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ اپنی مرضی سے بول کا رخ نہ کرنے والوں کی تعداد حقیقتاً آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ واضح طور پر نظر آنے کے باوجود کسی نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ شاید اخراجات کاروبار کے کل حجم سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔

اس پورے منصوبے کے حوالے سے بار بار جو چیز سامنے آتی رہی وہ سرپرستوں کے حوالے سے ہونے والی چہ میگوئیاں تھیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ اخراجات کا بھاری بوجھ اٹھانے کے لئے غیر معمولی طور پر مالدار افراد کا کنسورشیم تشکیل دیا گیا ہے۔ فرنٹ پر اگرچہ شعیب شیخ ہی تھے، لیکن سرگوشیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا ۔ سارا معاملہ ہموار طریقے سے آگے بڑھ رہا تھا کہ نیویارک ٹائمز کا صحافی جعلی ڈگریوں کا سکینڈل لے کر بیچ میں ٹپک پڑا۔ کھیل بگڑنے کے آثار نظر آنے پر ’’بول‘‘ سے منسلک بعض صحافی یہ کہہ کر الگ ہو گئے کہ ان کا ضمیر کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ صورتحال کا جائزہ لینے والوں کی بھاری اکثریت کو، مگر یقین ہے کہ ڈوبتے جہاز سے کودنے کے لئے بہانہ بنایا گیا۔ بھاگنے والوں میں کئی ایک تو ’’ضمیر کی آواز‘‘ کے اس درجے کو پہنچ چکے کہ جہاں فرزند راولپنڈی شیخ رشید فائز ہیں۔ کل کلاں جعلی ڈگری کیس ختم ہونے یا کمزور پڑنے کے امکانات نظر آئے تو بھاگنے والے ایک ہی سیٹی پر لوٹ آئیں گے۔

پورے یقین سے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آگے کیا ہو گا؟اندازہ لگانے کی کوشش میں جو نظر آرہا ہے اسے غیر حتمی رائے کی صورت میں پیش کرنا بے جانہ ہو گا۔ دیگر میڈیا گروپوں کے ہاتھوں بول کا گھیراؤ غیر متوقع ہر گز نہیں۔ اس منصوبے کے آغاز پر نادیدہ قوتوں کی سرپرستی کا جو تاثر سامنے آیا اس حوالے سے کئی مبصرین کا کہنا تھا کہ جوں جوں یہ تاثر پختہ ہوتاگیا توں توں تمام مخالف میڈیا گروپس جو دھرنوں کے مواقع پر ایک دوسرے کے درپے تھے یک جان ہو جائیں گے۔سب سے بڑے میڈیا گروپ کو ہر صورت اس لڑائی میں کودنا تھا کیونکہ مختلف مواقع پر کئی بار یہ تاثر دیا گیا کہ اس گروپ کو تادیر بند رکھا جائے گا ،نیا چینل آئے گا، اپنی بھرپور جگہ بنائے گا تو پھر سوچا جائے گاکہ بند کیا جانے والا چینل کھولا جائے یا نہیں۔ سو سب سے بڑے میڈیا گروپ کے لئے تو یہ محض کاروباری مسابقت نہیں ،بلکہ بقاء کی جنگ تھی۔ اب اگر وار ہو رہے ہیں تو اس کا پس منظر بھی سمجھا جائے۔

اس تمام صورت حال پر کارکن صحافیوں کی اکثریت دل گرفتہ ہے ان بے چاروں کو یہ امید ہو گئی تھی کہ پیسہ خواہ کہیں سے بھی آئے ایک بڑے اور مالدار گروپ کے میڈیا میں آنے کے ثمرات کسی نہ کسی صورت میں ان تک بھی پہنچیں گے۔ حقائق کو نظر انداز کرنا ،مگر خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ سازش خواہ کسی نے بھی کہیں سے بھی کی ہو جان لیجئے کہ نیو یارک ٹائمز کوئی شام کا پاکستانی اخبار نہیں کہ ایسے ہی ہر کسی پر کیچڑ اچھالتا پھرے۔ دوسرے یہ کہ یورپ اور امریکہ میں ہتک عزت کے قوانین کچھ اسطرح سے لاگو ہیں کہ غلط خبر شائع کرنے کا جرم ثابت ہو جائے تو اسقدر بھاری معاوضہ بطور زر تلافی ادا کرنا پڑتا ہے کہ بڑے بڑے اداروں کے ’’کڑاکے‘‘ نکل جاتے ہیں۔ اس خبر کے بارے میں اخبار کی انتظامیہ کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ اگلے ہی روز اداریہ میں یہاں تک چھاپ دیا گیا کہ جعلی ڈگریوں کا یہ دھندا طویل عرصے سے حکومت پاکستان کے علم میں تھا ،مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ موجودہ لیگی حکومت نے تو اس حوالے سے احتیاط برتی، لیکن سابق صدر آصف علی زرداری نے ایک انٹرویو میں پیپلز پارٹی کے دور میں بھی اس سکینڈل سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ ڈالا کہ یہ معاملہ بہر صورت خفیہ اداروں کے نوٹس میں ہونا چاہیے تھا۔

اس وقت تک صورت حال یوں ہے کہ بول چینل بھی نکل سکتا ہے اور اخبار بھی۔ اگرچہ کمپنی کی ساکھ کے حوالے سے سوالات پیدا ہو چکے ہیں اور مالی دشواریاں بھی پیش آ سکتی ہیں ،لیکن بازی مکمل طور پر ہاتھ سے نہیں نکلی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس سارے معاملے میں امریکی اسٹیبلشمنٹ بھی کہیں نہ کہیں اپنا رول ادا کررہی ہے جو یقیناًمثبت نہیں۔ معاملے کو مزید بگاڑنے سے بچانے کے لئے کسی کو کسی سے کوئی نہ کوئی سمجھوتہ کرنا ہو گا بصورت دیگر اس کمپنی کے حوالے سے مزید 2 سکینڈلز کی بازگشت حقیقت میں بدل سکتی ہے۔ ایسا ہوا تو سب چوپٹ ہو جائے گا۔ اللہ خیر کرے۔

مزید : کالم