مرض

مرض

طاقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ اِسے اپنے اظہار کے بغیر قرار نہیں آتا، لہٰذا سماج کی بُنت میں اس کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ طاقت کے ریاستی ڈھانچوں کو نگرانی کے ایک سخت نظام میں رکھا جائے۔ زیادہ مہذب ممالک میں طاقت کے کسی بھی ادارے (بشمول فوج) کو بنیادی نوعیت کے معاملات میں فیصلہ کن مقام کا حامل نہیں بننے دیا جاتا۔ یہ سماج کے تاریخی تجربات کا ریاست کی تسلیم شدہ طاقت کے بارے میں ایک طے شدہ رویّہ ہے۔ جسے قانون کی چھتری بھی فراہم کر دی گئی ہے، مگر پاکستان میں ایسا ماحول اب تک نہیں بن سکا۔ اس کی مکمل ذمہ داری سیاست دانوں پر عائد ہوتی ہے۔

سانحہ ڈسکہ ہو یا کراچی میں پولیس کی صحافیوں پر بے رحمانہ ڈنڈا ڈولی۔ یہ مرض کی خطرناک علامتیں ضرور ہیں، مگر اصل مرض نہیں۔ ہمارا اصل مرض یہ ہے کہ ریاست میں جمہوریت کے وارثوں نے ایسا کوئی ذہن ہی پیدا نہیں کیا جو سماجی تربیت میں حصہ لیتا اور ریاستی ڈھانچوں کو طاقتور بنانے پر صرف ہوتا۔ دراصل پاکستان میں جمہوریت نے سیاست دانوں کی ایک ایسی نسل پیدا کی ہے، جو کل ریاستی سرگرمیوں اور اداروں کو اپنی ذات کا وفادار بنانے پر تُلی رہتی ہے۔ اس مکروہ طرزِعمل نے ریاست کو اُس کی ساخت میں تباہ کر دیا ہے۔یہ عمل بدترین طریق پر ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں شروع ہوا اور شریف برادران نے اِسے انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ پنجاب پولیس شریف برادران کا ایک گروہِ وفاداراں ہے اور سندھ پولیس کا پورا ڈھانچہ زرداری ٹولے کی جنبشِ ابرو سے متشکل ہوا ہے۔ ایسی پولیس قانون کی نگہ داری میں کیسے حرکت کر سکتی ہے جسے دو خاندانوں کی ذاتی وفاداری کے ساتھ بروئے کار آنا ہو۔اس ضمن میں یہ خاندان کسی بھی نوع کے حالات کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اگر حالیہ واقعات کے تناظر میں پنجاب اور کراچی کے واقعات کو دیکھا جائے تو اندازا ہوتا ہے کہ ان خاندانوں کو اس کی کوئی پروا ہی نہیں ہے کہ مملکت کے دروبست میں کتنے شگاف پڑ چکے ہیں ۔ اور پاکستانی سماج میں نفرت کی جڑیں کتنی گہری ہو چکی ہیں۔وہ بس اپنی خاندانی نفسیات اور ذاتی وفاداریوں کے جوہڑ میں اپنے اقدامات کی پُرانی ڈبکیوں پر ہی گزارا کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں۔ سانحہ ڈسکہ ایک ایسے موقع پر رونما ہوا ہے جب سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقاتی روداد (رپورٹ)منظر عام پر آئی ہے۔ اس روداد کے مطالعے کے بعد بخوبی اندازہہوجا تا ہے کہ یہ کمیشن سانحے میں ملوث ذمہ داروں کے تعین کے لئے نہیں،بلکہ ذمہ داروں پر سے ذمہ داری ہٹانے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔

روداد میں کہیں لکھا تو نہیں ہے مگر یہ لکھ بھی لیا جاتاتو کوئی حرج کی بات نہیں تھی کہ اس کے اصل ذمہ دار تو وہ لوگ تھے جو پولیس کا نشا نہ بن گئے۔ اس روداد پر بحث کے ماحول میں شریف برادران پر کچھ زیادہ ذمہ داریاں عائد ہو جاتی تھیں۔ اگرشریف برادران سانحہ ماڈل ٹاؤن سے بے خبر(جس کا یقین ہی نہیں کیا جاسکتا) بھی تھے، تب بھی جمہوری حکومتوں میں اس طرح کے واقعات کی ذمہ داری حکمران لیتے ہیں۔ شریف برادران اس اخلاقی جرأت کا مظاہرہ نہیں کر سکتے (جو وہ کبھی نہیں کرتے اور اپنی ذمہ داریوں کے لئے بھی اپنے ہی وفاداروں کے کاندھے ڈھونڈتے ہیں)تب بھی بے خبری بجائے خود بھی ایک نااہلی ہوتی ہے اور اس نااہلی کی ذمہ داری بھی معمولی نہیں ہوتی۔ شریف برادران سانحہ ماڈل ٹاؤن میں اپنی ’’بے خبری‘‘ کا ہی بوجھ اُٹھاتے ہوئے کم ازکم پولیس کی ایک ادارہ جاتی تشکیل اور اُن کی کارگزاری کا ایک خودکار میکانکی عمل (میکنزم) قائم کرنے کے لئے اپنے سیاسی ارادے کا زبردست مظاہرہ کر سکتے تھے، مگر اُنہوں نے ماڈل ٹاؤن کی ٹھیکی پولیس پر لگائی اور خود ٹھیکری آنکھوں پر رکھے پرے بیٹھے رہے، جس سے سانحہ ڈسکہ کا واقعہ رونما ہو گیا۔ اگر شریف برادران سانحہ ماڈل ٹاؤن سے بری الذمہ بھی قرار دے دیئے جائیں تو بھی سانحہ ڈسکہ کی مکمل ذمہ داری خود اُن پر ہی عائد ہوتی ہے۔آخر اس ریاست میں ایسے کون سے بحران مزید جنم لیں گے، جب وہ اس کی ذمہ داری اُٹھائیں گے۔

کم و بیش یہی منظرنامہ سندھ کا ہے۔ اندرونِ سندھ پولیس جس بہیمانہ طریقے سے سیاسی طور پر استعمال کی جاتی ہے اُس کا چرچا مُلک بھر میں بہت کم ہوتا ہے۔ پولیس کا بہیمانہ سیاسی اور غیر قانونی استعمال ہی دراصل پیپلز پارٹی کی سیاسی طاقت کے فروغ کا بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اس سے قطع نظر کراچی کا واقعہ تو بالکل سامنے کا ہے۔ زرداری ٹولے نے پولیس کو اپنی ایک کارندہ قوت میں بدل دیا ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا ایسے کردار بہت بڑی لڑائیوں میں ایک ’’مددگار‘‘ کے طور پر سامنے آتے اور نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، مگر اصل لڑائی کچھ اور میدانوں میں لڑی جاتی ہے۔زرداری نے کراچی پولیس کا ڈھانچہ کچھ ایسا بنا دیا ہے،جو ریاستی فیصلوں کی راہ میں بھی رکاوٹ پیدا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ کراچی پولیس زرداری کے اس شعوری نقشے میں رنگ بھر رہی ہے۔ صحافیوں سے مارا ماری تو کوئی بڑی بات ہی نہیں۔اس تناظر میں یہ جماعتیں تو شاید کبھی تبدیل نہ ہوں، مگر ہمیں اپنے اس تصور سے رجوع کرنا ہوگا کہ ان جماعتوں (بشمول تحریکِ انصاف )کے ساتھ ہی ایک تاریخی تجربے سے گزر کر بالآخر ہم جمہوریت کے ثمرات کو پانے میں بتدریج کامیاب ہو جائیں گے۔ نہیں شاید یہ منزل اِن جماعتوں سے نجات کے بغیر ممکن نہ ہو۔تمدنی سطح پر ادارتی تشکیل کے بغیربالواسطہ یا بلاواسطہ فوجی مداخلت کے امکانات کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکے گا اور یہ خاندانی وفاداریوں پر قائم جماعتوں کے عہد میں ناممکن الحصول اہداف ہیں۔ ہم جمہوریت کے ساتھ اپنی ولولہ انگیز وابستگیوں کو جماعتی تعصبات کی تحویل میں نہیں دے سکتے اور خاندانی وفاداریوں پر قائم جماعتوں کی بے جا حمایت سے عسکری عزائم کی تکمیل کے بالواسطہ کارندے نہیں بن سکتے۔اس مکروہ گھن چکر سے خود کو باہر کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ ضرورت اس لئے بھی ہے ، کیونکہ ریاست ایک سناٹے کے عالم میں ہے۔ یہاں بناؤ اور بگاڑ کا عمل اور اختیار ادارتی نہیں رہا۔ سب کچھ چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔ اگر مُلک میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی ایک جدوجہد ہو رہی ہے تو یہ کسی ادارتی شعور سے مزین نہیں ۔ اس پوری جدوجہد کا محرک صرف ایک شخص ہیں۔ اگر فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نہ ہوتے تو یہ اپنی موجودہ حالت سے کلی مختلف ہوتی۔ مسئلہ ہی یہی ہے کہ یہاں کوئی اچھا کام بھی اپنی ادارتی ساخت سے محروم رہتا ہے،چنانچہ معاشرے میں خیر کی کوئی بھی کوشش دوررس اور دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔ سیاست دانوں نے بھی یہی کچھ کیا ہے۔ سڑک بنانے سے لے کر رقم بانٹنے تک اور نرسوں سے لے کر وکلاء تک جس کا کوئی بھی مسئلہ ہو اُسے شریف برادران کی طرف ہی دیکھنا ہوگا۔ کہیں پر بھی نظام کام نہیں کرتا۔ کوئی ایسا ریاستی ڈھانچہ نہیں ہے جو خود کار کام کرتا ہو۔ شریف برادران کا تصورِ جمہوریت ملاحظہ کیجئے! وہ اِسے عوام کی خدمت سمجھتے ہیں اور اِسے اپنی کارکردگی باور کراتے ہیں۔ وہ یہ اُمید بھی رکھتے ہیں کہ اُن کے اِس طرزِ کار کی ریاستی ڈھانچے کی قیمت پر تعریف کی جائے۔

پاکستان کا اس سے بڑا المیہ کیا ہوسکتا ہے کہ یہاں افراد ریاست سے زیادہ بالادست ہونے کا خواب دیکھ ہی نہیں لیتے اس کی تعبیر بھی پالیتے ہیں۔ معاشرے میں یہ نجس عمل صرف ایک ہی صورت میں پروان چڑھتا ہے، جس معاشرے میں بھی قوت کا تصور دماغ کے بجائے ہاتھ سے وابستہ ہو جائے وہاں افراد اداروں سے بڑے بن کر سامنے آتے ہیں اور یہ صورت انتشار اور ہیجان کی پرورش کا محرک بن جاتی ہے۔ جسے ریاست کی وقتی کارروائیوں سے روکاہی نہیں جا سکتا، لہٰذا سماج کو استوار اور متوازن رکھنے کے لئے ہاتھوں کو دماغ کی تحویل میں رکھنا ضروری ہے۔ جدید ریاستوں میں یہ کام قانون کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں قانون کو بھی ہاتھوں کی خدمت پر لگا دیا گیا ہے اور یہ ہاتھ ذاتی وفاداری کی تحریک پر حرکت میں آتے ہیں۔ دائم یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ ’’ ہاتھ‘‘ کا استعمال چاہے ریاستی ہو یا غیر ریاستی ہو، یہ بگاڑ کی قوت ہے۔اور دماغ بناؤ کی طاقت ہے۔ دونوں کا استعمال قانون کی نگرانی میں رہنا چاہئے اور دونوں کو اُس کی محدودیت کے شعور سے آشنا رکھنا چاہئے، لامحدودیت کی نہیں۔سانحہ ڈسکہ اور کراچی جیسے واقعات دراصل اِسی مرض کی محض علامتیں ہیں اور علامتوں سے لڑ کر مرض کا علاج نہیں کیا جاسکتا۔

مزید : کالم