اسلام آباد سے واپسی

اسلام آباد سے واپسی
اسلام آباد سے واپسی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

گزشتہ کئی روزسے غیر حاضری کی وجہ ہماری آوارہ گردی تھی، اس آوارہ گردی کی وجہ سے کالم کا سلسلہ برقرار نہ رہ سکا۔ اسلام آباد حکمرانوں کا شہر ہے اور اس شہر کا رخ کرتے ہوئے کئی بار سوچنا پڑتا ہے، مگر دوستوں کے بار بار اصرار کی وجہ سے اسلام آباد جانا مجبوری بھی ہے۔ برادرم سلیم شہزاد ایک عرصے سے اسلام آباد بلا رہے تھے۔ بھابھی کا بھی اصرار تھا کہ چلو ایک دن کے لئے ہی آ جائیں، بہرحال نہ چاہتے ہوئے بھی اسلام آباد جانا پڑا۔ اسلام آباد جانے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہاں ایک گیت شوٹ کیا جائے۔ سو ہمارے ڈائریکٹر نے شوٹنگ کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جو ہمارے ہیرو عمران خان کے بنی گالہ کے قریب تھی، دوستوں نے بتایا کہ یہ عمران خان کا ’’آستانہ‘‘ ہے۔ ہم ان کے ’’آستانے‘‘ کے بالمقابل قدرے نچلی جگہ پر شوٹنگ کرتے رہے۔ اوپر جب بھی نگاہ اٹھائی تو عمران خان کا ’’آستانہ‘‘ ہی نظر آیا۔ ہم نے ان کے ’’آستانہ‘‘ کے رقبے کی پیمائش تو نہیں کی، مگر ایک مقامی شخص نے بتایا کہ ’’بنی گالہ‘‘ کے علاقے میں سب سے قیمتی اور خوبصورت جگہ عمران خان کا ’’آستانہ‘‘ ہے اور بقول شخصے تقریباً 500کنال پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں صرف عمران خان یا پھر ریحام خان نے رہائش رکھی ہوئی ہے۔

عمران خان کے دونوں فرزند لندن میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں، کبھی کبھی پاکستان آئیں تو یہاں رہائش رکھتے ہیں۔ ریحام خان کے بچے بھی لندن میں رہتے ہیں، اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو عمران خان کا آستانہ ویران ہی رہتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ریحام خان بچوں کے مسائل کے حوالے سے خاصی سنجیدگی کے ساتھ کام کررہی ہیں، ان کی خواہش ہے کہ غریب بچے گلیوں اور بازاروں میں بھیک مانگ کر زندہ رہنے کی بجائے سکولوں اور کالجوں میں پڑھ کر اپنی زندگی کو کامیاب بنائیں۔ ریحام خان نے بارہا کہا ہے کہ ہماری نئی نسل گندگی کے ڈھیروں پر پروان چڑھ رہی ہے۔ ان بچوں کے حوالے سے ریحام خان خاصی پریشان بھی ہیں اور جذباتی بھی ۔ممکن ہے وہ کسی دن عمران خان کو اس بات پر آمادہ کر لیں کہ وہ بنی گالہ والے ’’آستانے‘‘ میں سے ایک سو کنال کا رقبہ ان بے سہارا اور غریب بچوں کے لئے مختص کر دیں، تاکہ ان بچوں کو یہاں رہائش مل جائے۔ ریحام خان اگر اس طرح کی کسی کوشش میں کامیاب ہو گئیں تو یہ ایک قابل قدر اور منفرد اعزاز ہوگا۔ مَیں انہی خیالوں میں کھویا ہوا تھا کہ ہمارے ویڈیو ڈائریکٹر فرحت عباسی نے ’’پیک اپ‘‘ کا اعلان کر دیا۔ پیک اپ کے بعد ہم بالکل فری تھے، بھوک سے بھی بُرا حال تھا۔

دوستوں نے ایک ایسے ریسٹورنٹکا انتخاب کیا، جہاں سے ’’میٹروبس‘‘ کے روٹ کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔دوستوں نے لاہور میٹرو بس کے حوالے سے معلومات لیتے ہوئے سوال کیا کہ حکومت نے اس منصوبے کا نام ’’میٹروبس‘‘ رکھا ہے، مگر یار لوگ اسے ’’جنگلہ بس‘‘ کے نام سے کیوں پکارتے ہیں؟ہم نے انہیں بتایا کہ لاہور میں بھی اس کا نام ’’میٹروبس‘‘ ہی ہے، مگر چند ایسے علاقے بھی ہیں، جہاں اس کے اردگرد جنگلہ لگا دیا گیا ہے،تاکہ میٹروبس کے روٹ پر کسی قسم کا کوئی حادثہ نہ ہو جائے، مگر بدقسمتی سے بعض لوگ میٹروبس کے روٹ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کی ابتدا عمران خان کے دھرنے کے دنوں میں ہوئی، جب لاہور میں تحریک انصاف کے ایک ایم پی اے کی قیادت میں نکلنے والے جلوس نے ’’میٹروبس‘‘ کے روٹ پر چڑھائی کر دی اور اکثر مقامات پر اس روٹ کو نقصان پہنچایا۔ اور ’’بس سروس‘‘ بھی بند رہی ، پھر اس کے بعد اکثر احتجاج کرنے والوں نے میٹروبس کے روٹ پر ہی قبضہ جمانے کی کوشش کی، حالانکہ میٹرو بس نوازشریف یاشہباز شریف کے استعمال میں نہیں ہے اور بس سروس کے ذریعے تو عام لوگ سفر کرتے ہیں۔ ہماری وضاحت کے بعد دوستوں کو ’’جنگلہ بس‘‘ کی حقیقت سمجھ میں آئی ،پھر جب مَیں نے میٹرو بس کے ذریعے عام لوگوں کو ملنے والے فوائد کے بارے میں بتایا تو وہ خاصے حیران ہوئے۔

مَیں نے پیشن گوئی کی آپ لوگ بھی ’’میٹروبس‘‘ پر سفر کرکے انجوائے کریں گے، کیونکہ ’’لاہوریئے‘‘ تو اب بھی اپنی فیملی کے ساتھ میٹروبس میں سفر کرکے بہت لطف اٹھاتے ہیں،بہرحال مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ (جہاں تک میں دیکھ سکا) اسلام آباد میٹروبس کے اردگردکہیں بھی کوئی جنگلہ نظر نہیں آیا۔ مطلب اسلام آباد راولپنڈی میٹروبس سروس لوگوں کے لئے مزید دلچسپی کا باعث بنے گی اور مجھے یقین ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہری اس بس سروس کو قومی امانت سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت بھی کریں گے، لیکن وہاں کے شہریوں کو شیخ رشید سے ’’چوکنا‘‘ رہنا پڑے گا، کیونکہ موصوف جلاؤ گھیراؤ کرنے اور آگ لگانے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔ اسلام آباد راولپنڈی کی میٹروبس سروس کو اگر کبھی کوئی نقصان پہنچا تو شیخ رشید کے ہاتھوں ہی پہنچ سکتا ہے۔ عمران خان کی طرف سے اب مجھے کوئی فکر نہیں ہے، کیونکہ اب ان کے ساتھ ریحام خان موجود ہیں، جو آہستہ آہستہ انہیں قومی سیاست میں واپس لا رہی ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی میٹروبس کا حال احوال ابھی باقی ہے کیونکہ ریڈیو پاکستان کے پروگرام منیجر بلال نے بڑی محبت کے ساتھ ہمیں اپنے پروگرام میں شرکت کی دعوت دی ہے، اس پروگرام میں بھی شاعری اور موسیقی کے ساتھ ساتھ بات میٹروبس کی طرف نکل گئی، پھر یہاں بھی کافی دیر تک میٹروبس کا تذکرہ ہوتا رہا۔

پروگرام کے میزبان سلیم شہزاد اور ساتھی میزبان (نام بھول گیا ہے، معذرت کے ساتھ) بہت دلچسپ گفتگو رہی۔،ان خاتون کا اصرار تھا کہ شاعر وہی ہوتا ہے ،جس نے ٹھوکر کھائی ہو، ان کے بار بار کے اصرار پر میں نے انہیں بتایا کہ شاعر صرف وہ نہیں ہوتا ،جس نے ’’ٹھوکر‘‘ کھائی ہو، شاعر وہ بھی ہو سکتا ہے، جسے کسی نے ’’ٹھکرا‘‘ دیا ہو، بہرحال یہ بہت دلچسپ پروگرام تھا، کافی فون آئے ،ایس ایم ایس سے اندازہ ہوا کہ یہ پروگرام بہت زیادہ سنا جاتا ہے، ریڈیو سٹیشن سے نکلنے کے بعد خواہش تھی کہ برادرم تنویر حسین ملک کے ساتھ ملاقات کی جائے، مگر امید کے عین مطابق وہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے ساتھ اسلام آباد سے باہر ’’دورے‘‘ پر گئے ہوئے تھے۔ ہمارے یہ دوست خاصے ’’محفلی‘‘ آدمی تھے، مگر سابقہ دور حکومت میں وہ ڈپٹی سپیکر کے پی آر او بن گئے۔ اس حکومت میں بھی وہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے پی آر او بن گئے ہیں۔ ان سے رابطہ اس وقت ہوا جب ہم واپس اسلام آباد سے لاہور کی طرف نکل چکے تھے، البتہ سفر اسلام آباد کے دوران اپنے ’’جان جگر‘‘عوامی گلوکار علی عمران اعوان کے ساتھ گزرے تین دن بہت یادگار تھے۔سبھی دوستوں کو علی عمران اعوان کے ڈیرے پر ہی بلایا جاتا رہا ۔آفتاب خان نیازی بھی اپنے دو بیٹوں احمد خان نیازی اور آتش خان نیازی کے ساتھ وہیں پہنچ گئے۔

آفتاب خان کو کلاسیکل موسیقی سننے کا بہت شوق تھا۔ وہ خود تو اس فن میں نہ آ سکے، مگر اپنے بیٹے احمد خان نیازی کو آگے لانا چاہتے ہیں۔ احمد خان نیازی کلاسیکل، نیم کلاسیکل، غزل اور گیت بہت مہارت کے ساتھ گاتے ہیں۔ ہم سب کی خواہش تھی کہ وہ اپنے فن سے محظوظ کریں، مگر حیرت انگیز طورپر اس نے کہا کہ وہ علی عمران اعوان کا بہت بڑا فین ہے اور وہ کسی قیمت پر بھی گانا نہیں سنائے گا، وہ صرف علی عمران اعوان کو ہی سنے گا۔ نوجوان گلوکار کے اصرار پر علی عمران اعوان نے ہارمونیم سنبھالا اور پھرصبح پانچ بجے تک محفل موسیقی جاری رہی۔ علی عمران اعوان کی خوبی یہ ہے کہ وہ علاقائی موسیقی کو اس قدر لگاؤ کے ساتھ گاتا ہے کہ ایسا لگتا ہے ، جیسے لوک موسیقی کے سارے سر اور تال اس کے لئے ہی تخلیقہوئے ہیں۔ مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ایک مکمل لوک فنکار ابھی تک دنیا کی نظروں سے اوجھل کیوں ہے؟

میرا خیال ہے کہ وہ ایک ملنگ نما فن کار ہے۔ اپنی مرضی اور مزاج کا مالک ہے ، وہ دوسروں کی خواہش کے برعکس اپنے دل میں ڈوب کر گاتا ہے۔ وہ شوبازی کا بھی قائل نہیں ، حالانکہ ’’شوبز‘‘ نام ہی ’’شوبازی‘‘ کا ہے۔ بہرحال ان تین راتوں کے ’’جگراتے‘‘ نے بہت سی یادیں تازہ کر دیں اور مَیں ابھی تک ان خوبصورت یادوں کے ساتھ خود کو پُرسکون محسوس کررہا ہوں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک اخبار سے تعلق رکھنے والا بندہ اسلام آباد جائے اور حکمرانوں کے ساتھ نہ ملے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ جی ہاں مَیں نے اسلام آباد کے حقیقی حکمرانوں کے در پر حاضری دی، خواہش تھی کہ حضرت امام بری سرکار کے دربار پر حاضری دی جائے، مگر وہاں کے راستے بلاک تھے یا پھر ’’اذن حاضری‘‘ نہیں تھا، البتہ حضرت پیر گولڑہ شریف کے مزار پر حاضری نصیب ہوئی، وہاں جا کر احساس ہوا کہ سڑکوں پر حکمرانی اور دلوں پر حکمرانی میں کیا فرق ہے؟ اس فرق کو سوچئے کہ جو دلوں پر حکمران ہیں، وہ کل بھی حکمران تھے، آج بھی حکمران ہیں اور آنے والے دنوں میں بھی حکمران ہی ہوں گے۔

مزید : کالم