سانحہ ڈسکہ، خطرے کی ایک اور گھنٹی

سانحہ ڈسکہ، خطرے کی ایک اور گھنٹی
سانحہ ڈسکہ، خطرے کی ایک اور گھنٹی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اگر کوئی ڈسکہ کے واقعہ کی بھی مختلف تاویلات گھڑتا ہے تو میرے نزدیک وہ بہت ظالم ہے اور اُس کے اندر ذرہ بھر بھی انسانیت کی رمق نہیں رہی۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ دو انسان جان سے گئے اور سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ اس میں قصور مرنے والوں کا تھا یا مارنے والے کا۔؟ پاکستان میں کسی کی جان لینا کتنا آسان ہو گیا ہے۔ اس کی ایک مثال خود یہ ڈسکہ کا واقعہ بھی ہے۔ خبروں کے مطابق ایس ایچ او نے گالی کے مقابلے میں گولی کا استعمال کر کے دو وکلاء کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ پولیس والے جو ہر دوسری بات گالی سے شروع کرتے ہیں اگر اس فارمولے کو مان لیں تو پھر انہیں آئے روز گولیوں کا سامنا کرنا پڑے کیا گالی اور گولی کے درمیان اتنا ہی کم فاصلہ ہے۔ گالی یقیناً ایک برا فعل ہے، مگر ہمارے نبیؐ نے تو درس دیا ہے کہ اُسے بھی معاف کر دو، اگر معاف کرنے کا حوصلہ نہیں تو جواب میں گالی دے سکتے ہو، کسی کی جان لینے کا اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے۔ اس سارے واقعہ سے صاف لگ رہا ہے کہ پولیس والوں کو اب اس بات کی تمیز ہی نہیں رہی کہ اسلحہ کہاں استعمال کرنا ہے اور کہاں نہیں جس پولیس والے نے ماڈل ٹاؤن میں ایک ہنستی عورت کو طیش میں آکر دو فٹ کے فاصلے سے گولی ماری تھی، وہ بھی ایس ایچ او تھانہ ڈسکہ جیسی سوچ کا ہی مالک تھا کہ جس کے پاس ہر بات کا جواب گولی ہو تا ہے۔

میں ملتان کینٹ کے علاقے میں رہتا ہوں جہاں پاک فوج کے جوان جدید اسلحہ کے ساتھ موجود ہوتے ہیں ان کی فوری اور سریع الحرکت فورس کی گاڑیاں بھی گشت کرتی رہتی ہیں، جن میں مسلح فوجی سوار ہوتے ہیں میں اپنے یقین کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ مجھے ایک لمحے کے لئے بھی اُن سے خوف آتا ہے اور نہ دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے گولی چلا دیں گے بلکہ اس کے برعکس تحفظ کا احساس ہوتا ہے مگر پولیس کی ایلیٹ فورس گشت کر رہی ہو یا عام پولیس، ہر لمحے یہ کھٹکا ہی لگا رہتا ہے کہ ٹریفک کی وجہ سے بھی اگر ان سے تکرار ہو گئی تو انہوں نے فوراً گن سیدھی کر لینی ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ معاشرے سے برداشت ختم ہو گئی ایک نہتا آدمی عدم برداشت کا شکار ہو کر کیا کرے گا۔ لیکن یہ جو پولیس میں عدم برداشت کا کلچر در آیا ہے اس کا تو سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔ اُن کے ہاتھ میں تو اسلحہ ہوتا ہے اور ہم نے وردی پہنا کر انہیں لائسنس ٹو کل دے دیا ہے جعلی پولیس مقابلوں کی بات تو چھوڑیئے، عام شہریوں کو گولی سے اُڑانے کے کتنے واقعات پیش آ چکے ہیں خود لاہور جیسے شہر میں پولیس والوں نے طیش میں آکر کئی نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اُتارا ہے عوام نے یہ کڑوا گھونٹ تو بھر لیا ہے کہ پولیس انصاف نہیں دے سکتی لیکن اب پولیس اپنا یہ اختیار بھی منوانا چاہتی ہے کہ کوئی اُس کے سامنے آنے کی جرأت نہ کرے وگرنہ پولیس کے پاس کلاشنکوفوں اور گولیوں کی کمی نہیں۔

میں وکلاء برادری کی قطعاً سائیڈ نہیں لے رہا۔ میرے بھی اُن کے بارے میں بے شمار تحفظات ہیں وہ قانون کی بات کرتے ہیں مگر اُس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی خود ہیں۔ بدقسمتی سے ان کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ کالا کوٹ ہر قسم کے قانون، اخلاقیات اور سماجی روایات سے بالا ہے۔ کسی ایک وکیل کو چاہے اس کے کسی ذاتی معاملے پر ہی کچھ کہا گیا ہو، حمایت میں بار کونسل بھی آ جائے گی اور بار ایسوسی ایشن بھی۔ کسی محکمے سے لڑنا ہو، یا کسی شخص کو پھینٹی لگانی ہو، وکلاء اکٹھے ہو جاتے ہیں، ججز پسند کی پیشی نہ دیں یا توقع کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو اُن کے منہ پر مثل مقدمہ ماری جاتی ہے، شاذو نادر ہی کسی وکیل کے خلاف کارروائی ہوتی ہے۔ اکثر ججوں کو ہی اپنی نوکری بچانے کے لئے سرنڈر کرنا پڑتا ہے اب اگر مولا جٹ کی سوچ سے اس صورت حال کو دیکھا جائے تو بڑی دلکشی نظر آتی ہے لیکن اگر قانون اور اخلاقیات کے حوالے سے دیکھیں تو اس سے بڑی شرمندگی اور کوئی نہیں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پہلی بار وکلاء کو اپنے مخصوص مقاصد کے لئے سیاسی طاقت کے طور پر استعمال کیا۔ عدلیہ پر توجہ دینے کی بجائے بار ایسوسی ایشنوں اور وکلاء تنظیموں پر توجہ دی ججوں کی توہین کے واقعات پر ایکشن لینے کی بجائے ججوں کو مجبور کیا کہ وہ وکلاء سے بنا کر رکھیں معاشرے کا ایک ایسا طبقہ جو قانون کی تعلیم رکھتا ہے قانون شکنی کے مظاہروں پر اُتر آیا۔ اسی لہر میں پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ وکلاء کے تصادم معمولی کی بات بن گئے۔ یہ سب کچھ ایک تلخ حقیقت ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پولیس اپنی بندوقوں کے رخ اُن کی طرف کر کے فائر کھول دے۔ ڈسکہ میں جو کچھ ہوا اُسے ٹالا بھی تو جا سکتا تھا۔ بندوق کا استعمال تو اس وقت کیا جاتا ہے جب حالات کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں۔ یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک معمولی تو تکار تھی، جسے حکمت عملی سے مذاکرات کی میز پر حل کیا جا سکتا تھا۔ مگر پولیس کی چونکہ ایسا کوئی درمیانی راستہ نکالنے والی ٹریننگ ہی نہیں، اس لئے عین پولیس کی روایات کو نبھاتے ہوئے سیدھا فائر کھول دیا۔

ایک بار نوشیرواں عادل کے ایک کمانڈو نے اجازت مانگی کہ راستے میں سیبوں کا باغ پڑتا ہے کیا وہاں سے کچھ سیب توڑ لوں۔ نوشیرواں عادل نے سختی سے منع کر دیا اور کہا کہ اگر بادشاہ کے حواری ایک سیب توڑیں گے تو عوام پورا باغ اُجاڑ دیں گے اور ہم انہیں روک بھی نہیں سکیں گے۔ جب حکمران طبقے پولیس کا ناجائز مقاصد کے لئے استعمال کریں گے تو اُن کے کاموں کے ساتھ ساتھ پولیس والے خود بھی تو اپنے مقصد کے لئے قانون شکنی کریں گے ابھی چند روز پہلے سب نے دیکھا کہ کراچی میں ہائیکورٹ کے احاطے کے اندر پولیس کے سادہ لباس نقاب پوشوں نے قانون کی دھجیاں اُڑا کے رکھ دیں۔ یہ پولیس والے خود تو وہاں نہیں آئے ہوں گے نہ ہی کوئی اتنا بڑا ٹاسک تھا کہ جسے پورا کرنے کے لئے پولیس والوں کو کسی قانون، قاعدے کی فکر ہوتی۔ انہیں پتہ تھا کہ سیاسی سرکار کی طرف سے اپنے سیاسی مخالف کو سبق سکھانے کے لئے انہیں بھیجا گیا ہے، اس لئے اب وہ پولیس والے نہیں رہے خدائی فوجدار بن گئے ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ نے بالکل درست کہا ہے کہ عدالت عالیہ پر حملہ کیا گیا۔ لاہور کے ماڈل ٹاؤن واقعہ میں کیا ہوا تھا پولیس والوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ انہیں سیاسی مقصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے سو انہوں نے ایک ڈسپلن فورس کی بجائے ذاتی فورس کا کردار ادا کرتے ہوئے قانون کی دھجیاں اُڑا دیں اور نہتے شہریوں کو لہولہان کر دیا۔

مجھ سے کسی نے پوچھا کہ معاشرے سے عدم برداشت کا خاتمہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں لوگ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں اس لئے کہ اُنہیں قانون ایک ایسا بے آسرا بچہ نظر آتا ہے جس کا کوئی والی وارث ہی نہ رہا ہو۔ مگر بد قسمتی سے قانون کی برتری اور انصاف کی فراہمی پاکستان میں کم از کم بالا دست طبقوں کی ترجیح نہیں۔ وہ پولیس اور تھانے کو قانون سمجھتے ہیں اور اپنی پسند کا تھانیدار لگوا کر علاقے میں دھاک بٹھانا چاہتے ہیں۔ دو وکلاء کو قتل کرنے والے ڈسکہ کے ایس ایچ او شہزاد وڑائچ کے بارے میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں انہیں پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ اتنا بڑا کرمنل پولیس میں موجود کیسے ہے اور کس طرح تھانے کا ایس ایچ او تعینات کیا گیا۔ یہ بات اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ جزا و سزا نام کا کوئی نظام موجود نہیں۔ بس صرف سیاسی سرپرستی اور سفارش کی ضرورت ہے جس کے بعد سارے جرائم، سارے گناہ دھل جاتے ہیں، ڈسکہ کا واقعہ معاشرے کے لئے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا گیا ہے۔ کیا ارباب اختیار اس گھنٹی کی آواز پر توجہ دیں گے۔ کیا پولیس کو بطور ادارہ مزید تباہ ہونے سے بچائیں گے۔ یا پھر مجرمانہ غفلت کی لسی پی کر کسی اگلے سانحے تک سو جائیں گے؟

مزید : کالم