گرمی اور اس کے اثرات!

گرمی اور اس کے اثرات!

گرمی کی شدت میں ضافے کے بعد لوڈشیڈنگ بڑھ گئی اور شہروں میں ہر ایک گھنٹے کے بعد ایک گھنٹہ بجلی بند کی جا رہی ہے۔ اطلاع کے مطابق مانگ20ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی، جبکہ پیداوار صرف13ہزار400میگاواٹ ہے۔ یوں فرق 5600میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے۔ 43اور44سنٹی گریڈ درجہ حرارت میں لوگوں کا پسینے سے بُرا حال ہو گیا اور یو پی ایس بھی جواب دے گئے ہیں۔ محکمہ صورت حال پر قابو پانے میں ناکام ہے اس کا حل مرمت کے نام پر چھ سے آٹھ گھنٹے تک مختلف فیڈر بند کرنا ہی سود مند رہ گیا ہے۔دوسری طرف گرمی کے ستائے نوجوانوں نے علاقائی نہروں کا رُخ کر لیا ہے اور نہروں میں نہانے پر پابندی کے حکم کو بھی خاطر میں نہیں لایا جا رہا اور نہ ہی پہلے ڈوب کر جاں بحق ہونے والی خبروں سے کوئی متاثر ہوا ہے۔ لاہور کی نہر پر موجودہ سیزن میں دو واقعات ہو چکے ہیں اس کے باوجود بھیڑ ہے اور دفعہ144 کے تحت ممانعت کی کوئی فکر نہیں، اس نہر میں عموماً حادثات تہہ کی دلدل کی وجہ سے ہوتے ہیں، جو بھل صفائی ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے بنتی ہے کہ ایسی مٹی نکالی نہیں جاتی، کوئی نوجوان زور سے چھلانگ لگائے، تو اس کا پیر پھنسنے کے امکانات ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ گرمی نے مشروبات بیچنے والوں کی چاندی کر دی ہے، جو سکولوں کے باہر مختلف بازاروں اور چوکوں میں غیر معیاری مشروبات بیچ رہے ہیں، ان میں غیر صحت مند برف کے گولے بھی شامل ہیں۔ کسی بھی ضلع کی انتظامیہ نے اس کا بندوبست نہیں کیا کہ غیر معیاری اور غیر صحت مند مشروبات فروخت نہ ہوں۔ گرمی کے حوالے سے ہر شہر کی انتظامیہ لاپرواہی برت رہی ہے، اس سے عوامی صحت متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ اطلاعات مختلف اخبارات کی ہیں، ضلعی انتظامیہ کو توجہ دینا چاہئے۔

مزید : اداریہ