کراچی

کراچی

کراچی سے نصیر احمد سلیمی

جناب آصف علی زرداری کے سابق جگری دوست ذوالفقار مرزا ہیں۔ سندھ میں بھی ہر جگہ موضوع بحث ’’ایگزیکٹ‘‘ کے سربراہ شعیب شیخ کی ذات ہے یا ان کے زیر انتظام قائم ہونے والا نیا میڈیا ہاؤس جو نیا چینل ’’بول‘‘ نکالنے جا رہا ہے۔ نئے میدیا ہاؤس کے ’’کپتان‘‘ اور نائب ’’کپتان‘‘ جنہوں نے اپنی ضمانت پر ’’مسافروں‘‘ کو سوار کرایا تھا، مسافروں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چھلانگ لگا چکے ہیں اور جو کسی وجہ سے سوار نہیں ہو سکے تھے۔ ان کو طعن و تشنیع کا نادر موقع ہاتھ آ گیا ہے۔وہ کر رہے ہیں، البتہ جو چیز باعث تشویش ہے اور ہونی بھی چاہیے وہ یہ ہے کہ جب معاشرہ میں ’’مایہ‘‘ ہی ’’خدا‘‘ بن جائے تو وسائل سے محروم لوگوں کے زندہ رہنے کے حق کی ضمانت ’’ریاست‘‘ بھی نہ دے سکے تو اسے تباہ و برباد ہونے سے بچانے کی سبیل کیا ہو سکتی ہے؟ ’’ایگزیکٹ ‘‘ اور ’’ایگزیکٹ‘ کے سربراہ شعیب شیخ کے بارے میں میڈیا میں اتنا کچھ لکھا اور بولا جا رہا ہے کہ ہم اس پر مزید کوئی اضافہ کیا کریں۔ جب تک حکومت کی قائم کردہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ سامنے نہیں آ جاتی۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ دبنگ اور دیانت داری کی شہرت کے حامل نیک نام پولیس افسر جناب شاہد حیات ہیں انہوں نے اچھا کیا کہ وہ روایتی سرکاری اہلکاروں کی طرح بڑھکیں نہیں مار رہے بلکہ محتاط طرز عمل اختیار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ کوئی عام کیس نہیں ہے، جس کے بارے میں کہا جا سکے کہ تحقیقات میں ایک دن لگے گا یا ایک ہفتہ۔ خدا کرے اس کیس کی تحقیقات اتنی صاف شفاف اور آزادانہ ہو جائے کہ جس کو قانون کی عدالت کی ’’کسوٹی‘‘ پر درست ثابت کیا جا سکے اور ’’دنیا‘‘ کو بھی صاف شفاف ہوتی نظر آئے۔ بصورت دیگر ’’ریاست‘‘ پاکستان کے داخلی اور خارجی دشمنوں کے گماشتوں کو اپنا کھیل کھیلنے کے لئے ایک نیا میدان ہاتھ آ جائے گا۔

جہاں تک معاملہ ہے جعلی ڈگریوں کے کاروبار کا، یہ کاروبار کوئی نیا نہیں ہے۔ آن لائنز ’’ڈگریوں‘‘ کے کاروبار کو تو رکھئے الگ۔ دنیا بھر میں باقاعدہ تسلیم شدہ قانونی طور پر قائم یونیورسٹیوں کے ناموں پر جعل سازی کے ذریعے ایک زمانے سے یہ کاروبار ہو رہا ہے۔ تیسری دنیا کے کتنے ہی ممالک میں ایسے جعل ساز ڈگری ہولڈر ’’عالمی ساہو کاروں‘‘ کے ’’ریکوری‘‘ منیجرز کی شکل میں چلتے پھرتے نظر آ جائیں گے۔ وطن عزیز میں بھی ایک بار ایسا ہی واقعہ پیش آ چکا ہے کہ اس کے پاس جو ڈگری تھی وہ اصلی نہیں اسی طرح کی تھی۔ اگر کوئی آزاد کمیشن وطن عزیز میں قائم سرکاری اور نجی شعبہ میں تعلیمی اداروں کے معاملات کا جائزہ لینے کا آغاز کرے تو کئی تعلیمی اداروں کے بارے میں ’’ہوش ربا‘‘ جعل سازی کے معاملات سامنے آئیں گے کہ ان کے ہاں سے کون کس طرح قواعد و ضوابط کی پابندی کئے بغیر اعلیٰ تعلیمی اسناد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ نوے کی دہائی کے آخری سالوں کی بات ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے سربراہ جناب ایم ایم عثمانی صاحب تھے ایک امیدوار نے تحریری امتحان میں تو اعلیٰ نمبر حاصل کر لئے، مگر جب زبانی امتحان (وائے وا) کا مرحلہ آیا تو اپنے ’’سبجیکٹ‘‘ کے حوالے سے عام سے سوال کے جواب میں بھی کورے نکلے تو ممبران کو حیرت ہوئی اور تجسس ہوا کہ ان کی ڈگری تو منگوا کر پھر سے چیک کر لی جائے۔ تو پتہ چلا موصوف کے پاس ایک ہی سال کی تین مختلف سبجیکٹ میں فرسٹ کلاس ایم اے کی ڈگریاں موجود ہیں اور تحریری امتحان میں موصوف کی جگہ ’’گھوسٹ‘‘ امیدوار پرچہ حل کرکے گیا تھا۔

جناب ایم ایم عثمانی صاحب نے اس نامہ نگار کو بتایا تھا کہ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا تھا کہ وہ تو ایک ڈگری خریدنے گیا، یونیورسٹی کے چالاک عملے نے اس کو تین ڈگریاں فروخت کردیں اگر ایک سبجیکٹ کی ویکنسی سے کامیاب نہ ہو سکو تو دوسرے سبجیکٹ کی ویکنسی میں اپلائی کر دینا۔ جس یونیورسٹی کا یہ قصہ ہے، بعدازاں اسی یونیورسٹی میں ایک ایسا وائس چانسلر بھی آیا کہ جس نے دن رات ایک کرکے ’’میرٹ‘‘ پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کرکے دیکھتے ہی دیکھتے اس یونیورسٹی کو اتنے اونچے مقام تک پہنچایا کہ کسی طالب علم کا ’’میرٹ‘‘ سے ایک یا آدھا نمبر بھی کم ہوتا تو اسے کسی مقتدر شخصیت کی سفارش داخلہ نہیں دلا سکتی تھی۔ چند سال پہلے ملک میں ڈگریوں کی تصدیق کے حوالہ سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر جاوید لغاری نے فیصلہ کیا تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن جعلی اور اصلی ڈگریوں کی تصدیق کرتے وقت یہ بھی دیکھ سکتا ہے کہ امیدوار کا ’’ہینڈ رائٹنگ‘‘ وہی ہے جو امتحانی کاپیوں کا۔ اس فیصلے کے آتے ہی سندھ اسمبلی سے لے کر سڑکوں تک احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، کیونکہ اس سے کئی طاقت وروں کی ڈگریوں کی اصل حقیقت کھل جاتی ابھی حال ہی میں ایک سرکاری کارپوریشن کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے اپنی اصل اسناد کے ساتھ غلطی سے ایک ایسی سند فائل میں لگا دی تھی جس کی تصدیق نہیں ہو سکی، جس کی وجہ سے اس عہدے دار کو ملازمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا اور جیل بھی جانا پڑا، اگر اسی ادارے میں دیگر کئی لوگوں کی ڈگریوں کی تصدیق امتحان دیتے وقت پرچوں کی چیکنگ ’’ہینڈ رائٹنگ‘‘ سے کرائی جائے تو سارا معاملہ کھل جائے گا۔ آن لائنز ڈگریوں میں تو ہینڈ رائٹنگ کا کوئی چکر ہی نہیں ہے، اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ ’’ایگزیکٹ‘‘ کی آن لائنز مبینہ جعلی ڈگری کیس کی تحقیقات کے نتائج جلد سامنے آ جائیں گے۔ یہ وقت طلب کیس ہے جس کی طرف تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ شاہد حیات نے اشارہ کیا ہے۔ البتہ ’’بول‘‘ کی مشینری کی درآمد برآمد کا کیس دوسری نوعیت کا ہے، جس کی تحقیقات ایف آئی اے نے شروع کر دی ہے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ اگر ’’بول‘‘ کا لائسنس نہ ملا تو اس کی انتظامیہ نے متبادل انتظام بھی کر رکھا ہے اگر ایسا ہے تو شعیب شیخ نہ سہی تو دوسری شخصیت سامنے آئے گی۔’’بول‘‘ کی جگہ کپتان اور نام اور ہو گا۔

اب ذرا ذکر ہو جائے۔ جناب آصف علی زرداری کے سابق جگری دوست ہم نوالہ و ہم پیالہ جناب ذوالفقار مرزا کا جس پر ’’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘‘ والا محاورہ صادق آتا ہے۔ ذوالفقار علی مرزا جو زبان آج اپنے سابق جگری دوست آصف علی زرداری اور ان کے خاندان کے بارے میں استعمال کررہے ہیں، اس کی کسی صورت تائید نہیں کی جا سکتی، مگر حکومت نے ذوالفقار مرزا کی زبان بندی کے لئے ’’نقاب پوش‘‘ سادہ لباس میں ڈنڈا بردار پولیس کا ہائی کورٹ کے باہر جو مظاہرہ کیا ہے۔ وہ جناب آصف علی زرداری کی مشکلات کوکم کرنے کی بجائے بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ ذوالفقار مرزا کے بارے میں جس کی جو مرضی آئے کہے وہ چل جائے گا مگر ہائی کورٹ کے باہر نقاب پوش پولیس کے ڈنڈا برداروں نے صحافیوں کو جس طرح مارا ہے، اس کا سندھ ہائی کورٹ نے نوٹس لے لیا ہے۔ زبانی جمع خرچ تو سندھ حکومت بھی کررہی ہے۔ حکومت کے لئے اب ذوالفقار مرزا کے ساتھ وہ سلوک بھی کرنا آسان نہیں ہے جس کی تیاری نقاب پوش پولیس کر کے آئی تھی۔ ذوالفقار مرزا کی اہلیہ رکن قومی اسمبلی اور سابق سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو ذوالفقار مرزا کی طرح ڈیل کرنا سندھ حکومت کے بس کا روگ نہیں ہے۔

مزید : ایڈیشن 1