لاہور

لاہور

عوام کو انتظار ہے کہ ملک میں امن اور سکون کب ہو گا اور کب وہ بھی چند روز آرام سے گزار سکیں گے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نصیب ایسے نہیں کہ ان کی سُنی جائے۔ایک حادثہ ہو کر ابھی اس کی گونج ختم نہیں ہوتی کہ کوئی اور سانحہ رونما ہو جاتا ہے۔ لاہور میں مختلف مظاہرے ہو رہے تھے۔ اساتذہ ابھی تک اپنے مطالبات کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں، واپڈا اور بجلی سپلائی کمپنیوں کے ملازم نجکاری کے خلاف دھرنا دے رہے ہیں، جماعت اسلامی نے مصر کے سابق صدر مرسی کی سزائے موت کے خلاف مظاہرہ کیا تو کلرک اپنے مطالبات کے لئے مختلف دفاتر کے سامنے دھرنا دے رہے ہیں۔

اسی اثناء میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم پاکستان آ گئی اور دو ٹی20 کے علاوہ تین ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کھیلنے کا فیصلہ ہوا تو ساتھ ہی یہ بھی طے کر لیا کہ ٹیم بھی لاہور رہے گی اور میچ بھی قذافی سٹیڈیم میں ہوں گے۔ کرکٹ بورڈ والے اور شائقین خوش کہ کم و بیش ساڑھے چھ سال کے بعد کوئی ٹیم پاکستان تو آئی چاہے وہ زمبابوے ہی ہے۔سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ختم ہو گئی تھی اور کوئی بھی ٹیم پاکستان آنے کو تیار نہیں تھی، صورت حال یہ تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی ہوم سیریز کے لئے متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں جانا پڑتا تھا، درمیان میں بنگلہ دیش نے آنے کا وعدہ کیا، لیکن وفا نہ ہوا۔ البتہ پاکستان والے ہی گئے اور ٹیم بھی رسوا ہوئی کہ ٹی20 اور ایک روزہ میچوں کی سیریز ہار دی گئی۔

ان حالات میں زمبابوے کی ٹیم کا آنا غنیمت جانا گیا۔ لاہوریوں کو موقع ملا تو انہوں نے بھی دل کے ارمان نکالے اور سٹیڈیم کھچا کھچ بھر دیا اور اسی پر بہت خوش ہوئے کہ چلو راستہ کھلا۔ اگرچہ آئی سی سی نے پھر بھی گڑ بڑ کی اور اپنی طرف سے کسی آفیشل کو نامزد نہیں کیا۔ بورڈ کو پاکستان کے آفیشلز پر ہی گزارہ کرنا پڑا۔

لاہور میں ہونے والے میچوں اور سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے شہر کی ٹریفک بہت بُری طرح متاثر ہوئی، اس کے باوجود لوگوں نے بُرا نہیں منایا اور اس سے بھی لطف اندوز ہوئے۔

ابھی شہری اور پاکستانی اس صورت حال سے مطمئن ہو رہے تھے کہ پیر کو ڈسکہ میں سانحہ ہو گیا۔ دو وکیل جاں بحق اور کچھ زخمی ہوئے۔ واقعات قارئین اور ناظرین کے علم میں آ چکے ان پر تبصرہ کرنا حالات کو متاثر کرنے کے مترادف ہو گا۔ بہرحال وکلاء اور پولیس کے تصادم میں دو وکلاء تو جاں سے گئے، سرکاری املاک جلیں، گاڑیاں ٹوٹیں اور سرکاری افسروں کو بال بچے لے کر فرار ہونا پڑا وہ گھر خالی چھوڑ کر فرار ہوئے کہ مشتعل ہجوم کی زد میں نہ آ جائیں، وزیراعلیٰ نے عدالتی تحقیقات کا حکم اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا۔

وکلاء نے اس واقع کے خلاف احتجاج کیا اور آج (منگل) مُلک گیر ہڑتال کی گئی، جبکہ بار کونسل اور ہائی کورٹ بار نے عدالتی تحقیقات کا فیصلہ مسترد کر دیا، ملزموں کے خلاف فوری کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس واقع کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے مذمت اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ تاہم جاں بحق ہونے والے وکلاء میں سے ایک کا تعلق تحریک انصاف سے ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مُلک گیر مظاہروں اور ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ منگل کو جہاں وکلاء نے ہڑتال کی اور مظاہرے کئے وہاں تحریک انصاف نے بھی کہیں کہیں اپنا آپ ظاہر کیا اور لاہور میں بھی مظاہرہ کیا گیا، جبکہ ڈسکہ میں نمازِ جنازہ میں پنجاب کے سابق گورنر اور برطانوی پارلیمنٹ کے سابق رکن، حال ہی میں نامزد تحریک انصاف پنجاب کے صدر چودھری محمد سرور نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور میڈیا سے بھی بات کی۔

یہ صورت حال نازک ہو گئی، خطرہ پیدا ہوا کہ ایک روزہ میچ متاثر ہو گا تاہم ایسا نہیں ہوا کہ ایک تو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے عدالتوں اور بار روموں میں رینجرز تعینات کرنے کو کہا اور انتظامیہ نے بھی میچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ پولیس کو شہر سے ہٹا کر رینجرز تعینات کر دیئے گئے۔ یوں یہ دن کسی حادثے کے بغیر گزر گیا۔

اس مسئلے پر سوشل میڈیا میں بحث شروع ہو گئی اور بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ ہم کچھ عرض نہیں کرتے کہ معاملات زیر تحقیق و تفتیش ہیں، البتہ عوام نے ٹی وی فوٹیج سے بہت کچھ دیکھا ہے۔

لاہور اور دوسرے مقامات پر مظاہرین کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں تھا، وکلاء نے مال روڈ پر مارچ کیا، نعرے لگائے اور بالآخر پنجاب اسمبلی کے سامنے آ کر زبردست نعرہ بازی کی اور داخلے کے راستے، دروازے اور سامان کو نذر آتش کر دیا، اسمبلی کا سیکیورٹی سٹاف بھی دیکھتا رہ گیا۔ مرکزی گیٹ بند کر دیا گیا، وہاں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔ اسمبلی کے دفاتر والے کمروں کے شیشے پتھراؤ کر کے توڑے گئے ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ وکلاء بہت مشتعل تھے۔

مزید : ایڈیشن 1