ملتان

ملتان

ملتان سے شوکت اشفاق

پی پی حلقہ196 کامعرکہ آخرکار مسلم لیگ ن نے جیت ہی لیا۔ حالانکہ یہ نشست پہلے بھی(ن )لیگ کی ہی تھی اور چوہدری عبدالوحید ارائیں اس حلقے سے ایم پی اے تھے لیکن ضمنی انتخابات میں یہ حلقہ اس لیے زیادہ اہمیت اختیار کرگیا کہ تحریک انصاف کیے مرکزی رہنما مخدوم شاہ محمودقریشی اس حلقے کی این اے150 سے رکن قومی اسمبلی ہیں اور وہ چاہتے تھے کہ یہ اچھا موقع ہے کہ اگرصوبائی سیٹ پر بھی وہ اپنے امیدوار کو کامیاب کروالیں تاکہ آئندہ انتخابات میں ان کایہ حلقہ ووٹوں کے لحاظ سے بہترہوجائے جس کیلئے انہوں نے بڑی کوشش کی اور اس مقصد کیلئے جلسہ عام بھی کرواڈالا جس میں عمران خان نے صدارتی خطاب کیا لیکن اس کاکوئی خاطرخواہ اثرووٹروں پر نہیں ہوا اور دوسری طرف اس حلقے کی سیٹ این اے150 سے ن لیگ کے سابق ٹکٹ ہولڈر اورایم این اے رانا محمودالحسن کومسلم لیگ ن نے ٹکٹ دیا جورانا محمودالحسن کیلئے بھی ایک بڑاچیلنج تھا کہ وہ نیشنل اسمبلی سے صوبائی اسمبلی کی طرف آرہے تھے اور اگروہ یہ سیٹ نہ جیت سکتے تو ان کی سیاست پربھی سوالیہ نشان لگ سکتاتھا اب جبکہ وہ یہ سیٹ جیت چکے ہیں توتحریک انصاف والے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مسلم لیگ ن کی اپنی سیٹ تھی جوانہوں نے واپس حاصل کرلی۔ لیکن سیاسی تجزیہ کار اس جیت ہار کو ایسانہیں دیکھ رہے ان کاکہنا ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ(ن ) لیگ کی حکومت دباؤ کاشکار ہے لوڈشیڈنگ اور دوسرے معاملات سنگینی کی طرف جارہے ہیں اور اندازہ تھا کہ (ن ) لیگ کاووٹ بنک کم ہوگالیکن یہ اپنی جگہ نہ صرف موجود ہے بلکہ کچھ بڑھاہے جس سے یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ عوام نے تحریک انصاف کی دھرنے والی سیاست پرعدم اعتمادکیاہے اور عوام چاہتی ہے کہ ملک میں ترقی کاپہیہ چلے ،روڈز بنیں، بجلی کی پیداوار ہو، نوکریاں ملیں،مہنگائی کم ہو ،تعلیم پرکام ہو، یعنی حکومت وقت جونعرے لگارہی ہے انہیں اس کو مکمل کرنے کے لئے وقت دیاجاناچاہیے اب حکومت کوجو یہ وقت مل رہاہے اس میں وہ عوام کی بھلائی کیلئے کیا کرتی ہے یہ توآنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اس حلقے کے انتخاب نے تحریک انصاف کے ووٹ بنک میں مزید کمی کردی ہے جوپارٹی کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہوناچاہیے اور اس حلقے میں پیپلزپارٹی کے امیدوار کاحشر بھی دیکھ کر عبرت پکڑنی چاہیے کہ یہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کادعویٰ کرنیوالی پیپلزپارٹی کاامیدوار صرف اپنی ہی برادری کے ووٹ حاصل کرپایا پیپلزپارٹی تو وہاں موجود نہ تھی

گورنرپنجاب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ملک رفیق رجوانہ پہلی مرتبہ اپنے آبائی شہرملتان پہنچے اور یہاں لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ با ر ایسوسی ایشن سے خطاب کے ساتھ ساتھ مختلف وفود سے ملاقاتیں بھی کیں اور خاص طور پر نومنتخب ایم پی اے رانا محمودالحسن اورمسلم لیگ (ن) کے ورکروں سے خطاب بھی کیا۔ قبل ازیں انہوں نے میڈیا سے بات بھی کی اور جنوبی پنجاب کے حوالے سے کہاکہ وہ اس خطے کی محرومیوں کے خاتمہ کیلئے کام کریں گے اور اس خطے کے لیے الگ صوبے سے قیام کی بھی حمایت کی اور یہ خوشخبری سنائی کہ بہت جلد جنوبی پنجاب کیلئے ایک الگ سیکرٹریٹ کام شروع کردیگا

اب گورنر پنجاب نے یہ باتیں کس بنیاد اور معلومات پرکیںیہ تو وہ خود ہی بتاسکتے ہیں لیکن بات سیاسی تبصروں میں خاص طورپرقابل ذکرہے کہ گورنر کے عہدہ پر ملک رفیق رجوانہ کی ن لیگ کے نومنتخب ایم پی اے گھرجانا ہوگا انہوں نے اس طرح خطاب کرنا ہی نہیں تھا باقی وہ گورنر ہیں جومرضی کرلیں پہلے کون سے قوانین کی کون پاپندی کررہاہے۔ ہاں البتہ سیکرٹریٹ کیلئے جوکمیٹی ہی تھی اس میں ملک رفیق رجوانہ شامل تھے اور غالباً اس کی سربراہی بھی کرچکے تھے لیکن اب ان کے گورنربننے کے بعد اس کمیٹی کاکیاحشرہوا اس کے بارے میں حکومتی سطح پر مکمل خاموشی ہے یعنی خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ یہ کمیٹی اور کام بھی ختم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ اس کامطلب یہ ہے کہ ہمیں اس خطے سے گورنرمل گیاہے اور اس پرگزارہ کرلیں۔ سیکرٹریٹ یاصوبے کی کیاضرورت ہے اور حرف آخریہ ہے کہ ن لیگ کے قائدین نے سینٹ میں سعود مجید کو منتخب کروا کر ایک مرتبہ پھرسینٹ میں سرائیکی کاداخلہ بندکردیاہے اور اب6کروڑ سرائیکیوں کی کم ازکم ایوان بالا میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ یہ سیکرٹریٹ اور صوبہ کس طرح دیں گے؟

مزید : ایڈیشن 1