ناقص پالیسیوں کے باعث زراعت زوال پذیرہے: کسان بورڈ

ناقص پالیسیوں کے باعث زراعت زوال پذیرہے: کسان بورڈ

لاہور (کامرس رپورٹر)محکمہ زراعت پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی ماند ہے لیکن حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی بدولت شدید بحرانوں کا شکار ہے جس ملک میں انڈسٹریل کو مضبوط کر کے زراعت کو کمزور کیا جائے وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا حکومت کسان دشمن پالیسیوں کو ترک کر کے انہیں مضبوط کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے ان خیالات کا اظہار کسان بورڈ کے مرکزی صدر صادق خان خاکوانی، نائب صدر چوہدری منظور حسین گجر، جنرل سیکرٹری ملک رمضان، صدر لاہور میاں رشید منہالہ، جنرل سیکرٹری سردار عرفان اللہ، چوہدری اکرم سندھو، چوہدری خالد جٹ، چوہدری علی شیر اور میاں صدیق نے لاہور کے سرحدی علاقہ منہالہ میں کسانوں کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے چھوٹے کاشتکاروں کو قرضے دینے کی جس سکیم کا اعلان کیا ہے وہ انتہائی پیچیدہ ہے اگر کسانوں کو بلاسود قرضے نہ دےئے گئے تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہو گا کیونکہ شوگر ملوں، رائس ملوں، کاٹن ملوں اور فلور ملوں نے لوٹ لوٹ کر کسانوں کو پہلے ہی کنگال کر دیا ہے اگر کسانوں کو بلاسود قرضے دے کر شعبہ زراعت کو سہارا نہ دیا گیا اور دھان کی فصل آنے سے پہلے سپورٹ پرائس کا اعلان نہ کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب یہاں ایتھوپیا کی طرح قحط سالی ننگا ناچ ناچے گی کسان بورڈ نے کسانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ’’کسان راج‘‘ قائم کرنے کے لیے تحریک کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے تحت کسان بورڈ 31 مئی کو ناصر باغ سے پنجاب اسمبلی تک ریلی نکالیں گے اور4 اکتوبر کو کسان اونٹوں، گھوڑوں اور پیدل صادق آباد سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرتے ہوئے حکومتی چولیں ہلا کر رکھ دے گا جس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر ہوگی۔

مزید : کامرس