ٹیکسوں کا نظام متواز ن بنا نے سے محصولات میں اضافہ ہوگا: پی سی اے

ٹیکسوں کا نظام متواز ن بنا نے سے محصولات میں اضافہ ہوگا: پی سی اے

 اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان کمپیوٹر ایسوسی ایشن (پی سی اے) نے حکومت سے استدعا کی ہے کہ کمپیوٹر اور دوسرے متعلقہ سامان پرعائد ٹیکسوں کا ڈھانچہ متوازن بنایا جائے جس سے نہ صرف اس صنعت کو ریلیف مل سکے گا بلکہ ٹیکسوں کی مد میں حکومت کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے گا۔اس امر کا اظہار پی سی اے کے بانی صدر منور اقبال نے ایسوسی ایشن کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی طرف سے کمپیوٹر کی صنعت سے متعلق بجٹ تجاویز زیر غور لائے جانے کی روشنی میں منعقد کیا گیا۔ان تجاویز میں کمپیوٹر لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کی برآمد پر 3000 روپے متعین ٹیکس عائد رکنا بھی شامل ہے تاکہ تاکہ غیر روایتی درآمد کنندگان کو اپنی درآمدات باضابطہ بنانے کا موقع دینے کے ساتھ ساتھ قومی خزانے کے لیے اضافی آمدنی یقینی بنایئی جا سکے۔منور اقبال نے اس موقع پر صنعت میں ہونے والی باقاعدہ دستاویز شدہ اور بے ضابطہ مارکیٹ کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر کی صنعت میں سمگلنگ کا بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف قانونی کاروبار کے لیے سخت نقصان کا باعث بن رہا ہے بلکہ اس سے قومی خزانے کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا اس تقابلی جائزے کی مدد سے حکومت اور ایف بی آر دو اہم مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ جن میں سے ایک کمپیوٹر کی صنعت میں ہونے والی تمام درآمدات کو دستاویزی کے دائرے میں لانا اور دوسرا آئندہ مالی سال کے لیے کمپیوٹر کی صنعت سے حاصل ہونے والے محصولات میں بڑا اضافہ یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی شرح متعین کر دینے سے مال سال 2015-16میں محصولات میں قابل ذکر اضافہ کرنا ممکن ہے جبکہ کمپیوٹر کی صنعت بھی مختلف آلات پر ٹیکسوں کی شرح متعین کردینے پر تمام درآمدات کی دستاویز بندی یقینی بنانے میں بھر پور کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے چیئرمین طارق باجوہ بجٹ تجاویز کے ضمن میں کمپیوٹر کا کاروبار کرنے والے نمائندوں کو اپنی معروضات پیش کرنے کا موقع دیں تو کمپیوٹر کی صنعت سے اضافی محصولات کے حصول اور تمام کاروبار کو دستاویزی بنانے کے حوالے سے تفصیلی سفارشات سامنے رکھی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ پر 3000 روپے ٹیکس متعین کر دینے سے سے نہ صرف سمگلنگ کے رجحان میں کمی آئے گی ٹیکس پالیسی میں اس تبدیلی سے محصولات میں اضافہ بھی ہو گا اور اس سے غیر قانونی طور پر کمپیوٹر درآمد کرنے والوں کی بھی باضابطہ اور قانونی طور پر درآمدات کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا سکے گی۔اسی طرح کم آمدنی والا ایک عام صارف بھی نیا اور معیاری کمپیوٹر خریدنے کے اہل ہو جائے گا۔ پی سی اے کے چیئرمین نے کہا کہ اس وقت ملک میں سالانہ4,42,000 کمپیوٹر درآمد ہو رہے ہیں جن میں صرف 35فیصد قانونی ذریعے سے اور باقی سمگل ہوکر پاکستان آتے ہیں۔قانونی طور پر آنے والے لیپ ٹاپس پر محصولات 1.146 بلین روپے سے زیادہ نہیں ہوتے جبکہ اس کے برعکس ٹیکس کو متواز بنا دیا جائے اور اس ایک شرح پر متعین کر دیا جائے تو حکومت 819 ملین کا اضافی ٹیکس حاصل کر سکے گی جو کمپیوٹر کی صنعت سے حاصل ہونے والا ایک انتہائی معقول اور قابل ذکر اضافہ ہو گا۔منور اقبال نے کہا اس وقت ایک عام صارف کو کمپیوٹر کی خریداری پر 30 فیصد تک اضافی قیمت ادا کر نی پڑتی ہے جس میں 17فیصد جی ایس ٹی اور متعدد دوسرے ٹیکس شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس اجافے بوجھ کے باعث صارف کمپیوٹر کی غیر قانونی صنعت کی جانب رجوع کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

مزید : کامرس