دھان کی بہتر پیداوار کے لئے سفارش کردہ اقسام کاشت کی جائیں‘ ماہرین

دھان کی بہتر پیداوار کے لئے سفارش کردہ اقسام کاشت کی جائیں‘ ماہرین

 فیصل آباد (آئی این پی) تحقیقاتی ادارہ برائے شور زدہ اراضیات پنڈی بھٹیاں کے ماہرین نے بتایا ہے کہ پاکستان کا باسمتی چاول دنیا بھر میں مشہور ہے اور پاکستان کے لیے زرمبادلہ کمانے والی دوسری بڑی فصل ہے ۔ہمارے ملک میں تھور اور کلر سے لاکھو ں ایکڑ رقبہ بے آباد اور بنجر ہے ۔دھان کی فصل کالے کلر کے خلاف زیادہ قوت مدافعت رکھتی ہے اور اس کی کچھ اقسام سفید کلر کے خلاف قوت مدافعت رکھنے کے حوالے سے بھی تیار کی گئی ہیں۔کے ایس 282اور نیاب اری 9موٹے چاولوں کی جبکہ باسمتی 385اور شاہین باسمتی اعلی ٰچاولوں کی اقسام شورزدہ رقبوں پر بہتر پیداوار دیتی ہیں۔ماہرین نے کاشتکاروں کو سفارش کی ہے کہ وہ دھان کی مذکورہ اقسام کی پنیری کلر سے پاک زمینوں میں کاشت کریں اور پنیری کی عمر 35تا45دن ہونے پر کھیت میں منتقل کریں۔ جن زمینوں میں کالے کلر کی مقدار یعنی قابل تبادلہ سوڈیم 40سے زیادہ ہو توان کی اصلاح کے لیے پنیری منتقل کرنے سے پہلے جپسم3ٹن فی ایکڑ استعمال کریں۔ان زمینوں کو پنیری منتقلی سے ایک ماہ پہلے اچھی طرح تیار کریں ۔ اور جپسم کی مطلوبہ مقدار ڈال کر کم ازکم 15سے 20دن کھیت میں پانی کھڑا رکھیں تاکہ جپسم اپنا عمل مکمل کرلے۔پنیر منتقل کرنے سے پہلے گہرا ہل چلائیں اور کھیت میں کدو کا عمل نہ کریں تاکہ پانی لگانے سے نمکیات کی دھلائی ہوسکے۔کلراٹھی زمینوں میں دھان کی پنیری منتقلی کے بعدپودوں کی نشوونما ہر دوسرے یا تیسرے دن چیک کرتے رہیں ۔چونکہ دھان کی نشوونما تیزی سے ہوتی ہے لہذا یہ نمکیات کی زیادتی یا غذائی عناصر کی کمی سے جلد متاثر ہوجاتی ہے۔ سفید کلر والی زمین میں اگر نمکیات کی مقدار پودوں کی قوت برداشت سے زیادہ ہوجائے تو فصل جزوی یا کلی طورپر متاثر ہوسکتی ہے۔سفید کلر والی زمینوں میں لاب منتقلی کے دس سے پندرہ دن میں فصل میں کھڑے پانی کو نکال دیں اور نہری یا ٹیوب ویل کا میٹھا پانی بھر کر لگائیں۔36گھنٹے بعد یہ عمل دہرانے سے فصل کی نشوونما بحال ہوجائے گی۔اگر کھیت کلر تھور سے جزوی طورپر متاثرہ ہوں تو ان میں جپسم کی بجائے گندھک کے تیزاب کا استعمال بہتر نتائج دیتا ہے۔ گندھک کا تیزاب 50کلوگرام فی ایکڑ کے حساب سے پانی سے بھرے ہوئے پلاسٹک کے ٹب میں مکس کرکے قطرہ قطرہ آبپاشی کریں۔

مزید : کامرس