پاکستان لاطینی امریکہ تک رسائی کیلئے پیراگوئے میں ٹیکسٹائل یونٹ لگائے

پاکستان لاطینی امریکہ تک رسائی کیلئے پیراگوئے میں ٹیکسٹائل یونٹ لگائے

 فیصل آباد (بیورورپورٹ) پاکستان کو ٹیکسٹائل کے شعبہ میں اپنی مہارت سے فائدہ اٹھانے اور لاطینی امریکہ کی غیر روایتی منڈیوں تک رسائی کیلئے پیراگوائے میں ٹیکسٹائل یونٹ لگانے چاہیءںیہ بات پیراگوائے کے چارج ڈی آفیئرزمسٹرگستاوو مرنڈا آگو سٹور ویلنزیولہ نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پیراگوائے کے چارج ڈی آفیئرز نے کہا کہ ان کا پاکستان کا یہ تیسرا دورہ ہے مگر وہ پہلی مرتبہ فیصل آباد آئے ہیں اور ان کے اس دورے کا مقصد خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبہ میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بڑھانا ہے ۔ انہوں نے اس دورہ کو دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی سمت پہلا قدم قرار دیا اور کہا کہ اس کے نتیجہ میں نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات مضبوط ہونگے بلکہ معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ اس موقع پر پیراگوائے کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس کے بعد اسلام آباد میں پیراگوائے کے اعزازی قونصل جنرل کنور ایم طارق نے کہا کہ پاکستانی تاجراس وقت تک صرف امریکہ یورپ اور عرب کی روائتی منڈیوں پر توجہ دے رہے ہیں جبکہ انہیں اپنی برآمدات بڑھانے کیلئے غیر روائتی منڈیوں تک بھی رسائی حاصل کرنی چاہیئے جہاں دو طرفہ تجارت کوبڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پیراگوائے میں سستی بجلی اور سستی لیبر کے علاوہ سستی کاٹن دستیاب ہے جس کو استعمال کرکے پاکستانی سرمایہ کاری پورے لاطینی امریکہ کی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے طور پر پاکستان میں کراچی اور لاہور کی بجائے فیصل آباد اور سیالکوٹ پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ سیالکوٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کے فٹبال بنانے والی ایک پارٹی نے پیراگوائے میں اپنا یونٹ قائم کیا ہے اور وہ بہت اچھی طرح کاروبار چلا رہی ہے انہوں نے فیصل آباد چیمبر کے صدر انجینئر رضوان اشرف سے کہا کہ وہ مقامی تاجروں کا وفد تشکیل دے کر پیراگوائے کا دورہ کریں تا کہ دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست رابطوں کے ذریعے دو طرفہ تجارتی تعلقات کو بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت اس وقت لاطینی امریکہ کو بڑے پیمانے پر برآمدات کر رہا ہے جبکہ پاکستان پر بعض پابندیوں کی وجہ سے تجارت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں پاکستانی وزارت خارجہ سے رابطے میں ہیں تا کہ ان پابندیوں کو ختم کرکے براہ راست تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیصل آباد چیمبر اور پیراگوائے کے چیمبر کے درمیان مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخطوں کیلئے بھی ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں پیرگوائے کے سفیر نے کہا کہ پیراگوائے کا ایک تجارتی وفد بھی جلد پاکستان کا دورہ کرے گا جبکہ پیراگوائے کے ٹیکسٹائل بارے وزیر بھی فیصل آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور پیراگوائے کے درمیان کوئی تجارتی معاہد ہ نہیں لیکن اس کے باوجود درآمد و برآمد ہو رہی ہے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر رضوان اشرف نے پیراگوائے کے گستاوو مرنڈا آگو سٹور ویلنزیولہ، ان کی اہلیہ اور اعزازی قونصل جنرل کنور ایم طارق کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے محل وقوع کی وجہ سے 3 ارب کی آباد ی تک رسائی کے علاوہ شمالی چین، شمالی بھارت اور وسط ایشیائی ریاستوں کی درآمدی اور برآمدی تجارت کیلئے مختصر ترین روٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح فیصل آباد پاکستان کے عین وسط میں واقع ہے جہاں سے پاکستان کے تمام علاقوں تک رابطے اور رسائی ممکن ہے۔ انہوں نے پیراگوائے کے چارج ڈی آفیئرز کے فیصل آباد کے پہلے دورے کا خیر مقدم کیا اور بتایا کہ 8 ملین کی آباد ی کا یہ شہر اپنی ٹیکسٹائل کی وجہ سے پاکستان کے ٹیکسٹائل کیپیٹل کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل کی 13 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ میں اس شہر کا حصہ 6 ارب ڈالر ہے ۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس کے 5 ہزار ممبران کا تعلق صنعت و تجارت اور سروسز کے تمام شعبوں سے ہے۔ پاکستان اور پیرا گوائے کے درمیان تجارتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2014 میں ہماری تجارت صرف 32.5 ملین ڈالر تھی تاہم اس میں فوری اضافہ کے وسیع امکانات موجود ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی پیرا گوائے کو برآمدات 11.6 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 20.93 ملین ڈالر کے ساتھ پیراگوائے کے حق میں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس خطے میں پاکستان کے محل وقوع کی اہمت کے پیش نظر چین نے یہاں 45بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کئے ہیں جن میں سے 34 ارب ڈالر توانائی ، 24 بلین ڈالر بنیادی ڈھانچے جبکہ 6 بلین ڈالر گوادر کی پورٹ پر خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری مستقبل میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی اہمیت کی مظہر ہے جس کے باعث ہم پاکستان کو بجا طور پر مواقعوں کی سرزمین بھی کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں دریاؤں سے 100,000 میگاواٹ تک سستی پن بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے جبکہ یہاں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا تمام منافع باہر بھیجنے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ سوال و جواب کی نشست میں چوہدری محمد اصغر ، ڈاکٹر حبیب اسلم گابا اور میاں محمد رفیع نے حصہ لیا۔ سابق صدر شیخ خالد حبیب نے چارج ڈی آفیئرز کو چیمبر کی اعزازی شیلڈ پیش کی جبکہ سینئر نائب صدر ندیم اللہ والا نے اعزازی قونصل جنرل کنور ایم طارق کو چیمبر کی پن لگائی ۔ اس موقع پر چیمبر کے صدر نے پیرا گوائے کے چارج ڈی آفیئرز کو فیصل آباد چیمبر کی اعزازی ممبرشپ بھی پیش کی جبکہ مسٹرگستاوو مرنڈا آگو سٹور ویلنزیولہ نے بھی انجینئر رضوان اشرف کو سووینئر پیش کیا۔ آخر میں نائب صدر انعام افضل خان نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

مزید : کامرس