مارک اپ کی شرح میں کمی سے صنعتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی،ایس ایم منیر

مارک اپ کی شرح میں کمی سے صنعتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی،ایس ایم منیر

 کراچی (این این آئی) کورنگی ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر اور کاٹی کے صدر راشداحمد صدیقی نے اسٹیٹ بینک کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مرکزی بینک ، کمرشل بینکوں کو ہدایت دے کہ وہ نجی شعبے کو زیادہ قرض دیں تاکہ پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مالیاتی مشکلات پر قابو پایا جاسکے ۔ ایس ایم منیر نے کہا کہ مرکزی بینک کے فیصلے سے جہاں عوام کی جانب سے گھر اور کار کے لئے حاصل کیے گئے قرض پر سود کی شرح کم ہوگی وہیں کھاتے داروں اور قومی بچت اسکیم میں سرمایہ کاری کرنے والوں کا منافع بھی کم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود ملکی تاریخ کی کم ترین سطح7فیصد کرنے کا اعلان بہترین اقدام ہے جس سے جاری کھاتے کا خسارہ کم ہوگا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھ جائیگا۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کے خالص160ذخائر جو 30جون 2014کو 9.1ارب ڈالر تھے، 15مئی 2015کو بڑھ کر 12.5ارب ڈالر ہوگئے، ان میں مزید اضافہ متوقع ہے جس کا سبب گڈگورننس اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں کے کم رہنے کا امکان، آئی ایم ایف پروگرام کا کامیابی سے جاری رہنا اور سرکاری بیرونی رقوم کی متوقع آمد ہے۔ صنعتی شعبے کی ترقی کیلئے شرح مارک اپ میں کمی ایک مثبت قدم ہے اس سے صنعتی شعبے میں گروتھ ہوگی،برآمدی سیکٹر کو فائدہ پہنچے گا۔ ،تاہم وزارت خزانہ اس بات کی ہرممکن کوشش کرے کہ ایکسپورٹرز کے سیلزٹیکس کی مد میں طویل عرصہ سے رکے ہوئے ریفنڈز کی ادائیگی انہیں فوری ہو جائے تاکہ شرح مارک اپ میں ایک فیصد کمی کے فائدے دوچند ہوسکیں کیونکہ ایکسپورٹرز ریفنڈز کی مد میں اپنا رکا ہوا سرمایہ انڈسٹری میں لائے گا جس سے صنعتی پہیہ مزید تیزچلے گا۔کاٹی کے صدرراشداحمدصدیقی نے اپنے بیان میں کہا کہ مارک اپ ایک فیصد کم ہونے سے سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز کا اعتماد بحال ہوگا،یہ حکومت کا ایک مستحسن فیصلہ ہے جس کی پذیرائی ہونی چاہیئے اور حکومت کو مزید ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے ایکسپورٹرز عالمی مارکیٹ میں بآسانی اپنی مصنوعات فروخت کرسکیں،ملکی صنعتیں چلیں گی تو ایکسپورٹ بڑھے گی اور لوگوں کو روزگار میسر آئے گا۔انہوں نے کہا کہ مارک اپ کی شرح تاریخ میں پہلی بار7فیصد کی سطح پر آئی ہے اور ایک فیصد شرح سود کم ہونے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا،انفلیشن کم ہوگی،مہنگائی میں بھی کمی آئے گی ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی ایکسپورٹرز کو دنیا کی تمام مارکیٹوں میں سخت مسابقت کا سامنا ہے اورموجودہ مشکل ترین صورتحال میں شرح سود میں ایک فیصد کمی صنعتکاروں کیلئے اطمینان کا باعث ہے اور اس فیصلے سے ملکی معاشی بحالی کا عمل بھی تیز ہوگا جبکہ پیداواری اور تجارتی لاگت میں کمی ہونے سے برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا ، سستا سرمایہ ملے گا تو پیداواری لاگت بھی کم ہوگی ،اس وقت پیداواری لاگت35فیصد زیادہ ہے جس میں اب معمولی کمی کا امکان ہے جبکہ مینوفیکچرنگ اورتجارت میں تیزی آئے گی ۔ سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ ملکی معیشت کو پروان چڑھانے کے لئے اس قسم کے فیصلوں کی اشد ضرورت تھی، تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ، ترقی کی شرح بڑھے گی اور پیداواری لاگت میں کمی کے باعث نئی صنعتوں کے قیام کے رجحان میں اضافہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ شرح سود میں کمی کے فیصلے سے اسمال انڈسٹریز کو فروغ حاصل ہوگا اور نئی صنعتوں کے قیام سے ملک خوشحالی کی طرف گامزن ہوگا، بے روزگاری کے خاتمے میں کمی واقع ہوگی اور شرح سود میں کمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا باعث بنے گااور بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرے گا۔

مزید : کامرس