ملک ریاض اور سلیم صافی کا فکس میچ۔۔۔۔ مگر دلچسپ

ملک ریاض اور سلیم صافی کا فکس میچ۔۔۔۔ مگر دلچسپ
ملک ریاض اور سلیم صافی کا فکس میچ۔۔۔۔ مگر دلچسپ

  

بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین کا نامور اینکر سلیم صافی کے ساتھ انٹرویو شہر میں موضوع بحث رہا۔ بظاہر بہت سخت انٹرویو کے بارے میں دانشوروں کا تجزیہ یہی ہے کہ یہ ایک خوبصورت فکس میچ تھا۔ جس طرح فکس میچز میں آخر تک دلچسپی برقرار رکھی جاتی ہے تا کہ ناظرین کی دلچسپی برقرار رہے۔ ورلڈ ریسلنگ کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ اس کے اکثر میچز فکس ہوتے ہیں۔ لیکن پھر بھی دونوں پہلوان ناظرین کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لئے ایک دوسرے کو خوب مارتے ہیں۔ لیکن کہا جا تا ہے کہ یہ طے ہوتا ہے کہ کس نے جیتنا اور کس نے ہارنا ہے۔ باقی ایک دوسرے کو مارنے کا سارا ڈرامہ ناظرین کی دلچپسی برقرار رکھنے کے لئے ہو تا ہے۔ اس طرح اس انٹرویو میں سوالات ملک ریاض کی مرضی کے تھے تا ہم انہیں پوچھنے کا انداز سلیم صافی کا کمال تھا کہ انہوں نے ملک ریاض کی مرضی کے سوال بھی ایسے پوچھے کہ ناظرین کو لگے کہ فکس میچ نہیں ہے بلکہ اصل میں سخت سوال پوچھے جا رہے ہیں۔

سلیم صافی اس انٹرویو سے پہلے ایک مکمل کالم جنرل(ر) اشفاق پرویز کیانی کی حمائت میں لکھ چکے ہیں۔ جس میں انہوں نے دلائل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کی اور ملک ریاض کی کوئی پارٹنرشپ نہیں ہے۔ دونوں کسی بھی کاروبار میں کسی بھی قسم کے شراکت دار نہیں ہیں۔ سلیم صافی نے اپنے کالم میں یہ واضح کیا کہ نہ تو جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کو ملک سے باہر جانے سے روکا گیا اور نہ ہی ان کی ملک ریاض کے ساتھ کسی بھی پراجیکٹ میں کوئی شراکت داری ہے۔ لیکن شائد یہ کالم کافی نہیں تھا۔ اور اس بات کو مزید واضح کرنے کی ضرورت تھی۔ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی خود اس کی وضاحت کرتے تو معاملہ مزید کلیئر ہونے کی بجائے مشکوک ہو جا تا۔ اس لئے اس انٹرویو میں ملک ریاض نے دو ٹوک اور واضح انداز میں بات صاف کر دی کہ ان کا کیانی خاندان سے کسی بھی قسم کا کوئی کاروباری تعلق نہیں ہے۔ اس لئے سوال تو فکس ہی لگتا تھا کیونکہ یہ ایک تو سلیم سافی کے اپنے کالم کی تصدیق تھی اور دوسرا کیانی خاندان کی ضرورت بھی تھی کہ ملک ریاض خود اس کی وضاحت کر دیں کہ ان کا کیانی خاندان کے ساتھ کوئی کاروباری تعلق نہیں ہے۔ ورنہ اگر سلیم صافی کو حقیقت پہلے سے معلوم تھی تو سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔

ملک ریاض نے ایم کیو ایم کے قائدا لطاف حسین کے نام سے حیدر آباد میں یونیورسٹی بنائی ہے۔ اس یونیورسٹی کو سندھ اسمبلی نے چارٹر بھی فراہم کر دیا تھا۔ لیکن یہ تب کا منظر نامہ تھا جب ایم کیو ایم پر ابھی خطرہ کے بادل منڈلائے نہیں تھے۔ معاملات نارمل تھے۔ نائن زیرو پر ریڈ کا تصور بھی نہیں تھا۔ یہ خبریں بھی آئیں کہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان ملک ریاض مفاہمت کروا رہے ہیں۔ پھر یہ تجزیہ سامنے آیا ہے کہ چونکہ ملک ریاض کراچی میں بڑا پراجیکٹ کر رہے ہیں اس لئے وہ ایم کیوایم کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کے لئے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے نام سے یونیورسٹی قائم کر رہے ہیں۔ سب نے تب اس کو ان کی سمجھداری قرار دیا۔ لیکن اب منظر نامہ بدل گیا ۔ یہ وضاحت ملک ریاض کی ضرورت تھی کہ وہ ایم کیو ایم کے کسی برے کام میں حصہ دار نہیں ہیں۔ ان کی یونیورسٹی کا پراجیکٹ ایم کیو یم کے نہیں عوام کے مفاد کا منصوبہ ہے۔ تا ہم یہ ملک ریاض کی بہادری ہے کہ وہ اس ماحول میں بھی اس یونیورسٹی کا نام بدلنے کے لئے تیار نہیں۔

اسی طرح لاہور کے بلاول ہاؤس کے حوالہ سے بھی بہت خبریں شائع ہو رہی تھیں۔ اس کے پراپرٹی ٹیکس کے حوالہ سے بھی خبریں اخبارات میں شائع ہوئیں۔ اس حوالہ سے ایف بی آر کی تحقیقات کی خبریں بھی اخبارات میں شائع ہوئیں۔ ویسے تو چند روز قبل حامد میر نے سابق صدر آصف زرداری کا انٹرویو کیاتھا اور انہیں ان سے لاہور بلاول ہاؤس کے بارے میں سوال کرنا چاپئے تھا ۔ لیکن انہوں نے مناسب نہ سمجھا۔یہ وضاحت ملک ریاض کی جانب سے ضروری تھی کہ یہ گھر ابھی بھی بحریہ ٹاؤن کی ملکیت ہے۔ اس کا ٹیکس بھی بحریہ ٹاؤن نے ادا کیا ہے۔ اور سابق صدر اس کی قیمت قسطوں میں ادا کر رہے ہیں۔ یہ سوال بھی ملک ریاض کی ضرورت تھی۔ اسی طرح ملک ریاض سے ان کے ٹیکس معاملات کے حوالہ سے سوال بھی عمومی نوعیت کا تھا ۔ اس سوال کے ساتھ کوئی تحقیق نہیں تھی۔ یہ سوال ملک ریاض کے لئے ایک فل ٹاس تھی جس پر انہوں نے گھماء کر چھکا مارا۔ ملک ریاض صاحب کا اس سوال کے جواب میں یہ کہنا کہ مجھے علم تھا کہ آپ مجھ سے یہ سوال کریں گے اس لئے میں اپنا ٹیکس کارڈ ساتھ لا یا ہوں کہ میں پاکستان کے سو بڑے ٹیکس دہندگان میں شامل ہوں۔ ان کا یہ اعلان کہ انہیں علم تھا کہ یہ سوال پوچھا جائے گا کچھ کچھ کہانی بیان کر رہا تھا۔

ملک ریاض کے انٹرویو کی سب سے قابل دید بات یہی ہے کہ انہوں نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ میڈیا قوم کو سچ بتائے ۔ اگر رشوت کا بازار گرم ہے تو بتا یا جائے کہ گرم ہے۔ ہم سب روزانہ اپنے روزمرہ کے کام کروانے کے لئے یا تو سفارش ڈھونڈتے ہیں یا رشوت دیتے ہیں ۔ اس لئے ملک ریاض کو اس بات کی داد تو دینی چاہئے کہ وہ قوم کے سامنے سچ بولنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ اسی طرح ان کا یہ موقف بھی غلط نہیں کہ زندگی کے کسی نہ کسی لمحہ پر بیوی سے بات چھپانی پڑجاتی ہے۔ اس لئے اکثر بیویوں کو اپنے خاوندوں سے یہ شکوہ رہتا ہے کہ وہ ان سے سچ نہیں بولتے ہیں۔ ایسے میں اگر ملک ریاض کی بیگم نے یہ شکوہ کیا ہے تو کوئی ایسی پریشانی کی بات نہیں۔ بلکہ گھر گھر کی کہانی ہے۔ اس انٹرویو میں جو سب سے باریک پیغام ملک ریاض نے دیا ہے وہ انہوں نے چودھری نثار علی خان کو Great man کہا ہے۔ جو معنی خیز بھی ہے اور اس میں ایک سیاسی کہانی بھی موجود ہے۔ بس یہی ایک خبر تھی اس انٹرویو میں ۔

مزید : کالم