سانحہ ڈسکہ نے یہ ثابت کردیا ہے ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں، محمد کامران

سانحہ ڈسکہ نے یہ ثابت کردیا ہے ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں، محمد ...
سانحہ ڈسکہ نے یہ ثابت کردیا ہے ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں، محمد کامران

  

 لاہور ( پ ر ) پاکستان میں اْبھرتی ہوئی سیاسی جماعت موو آن پاکستان کے چیرمین محمد کامران نے کہا ہے کہ ڈسکہ میں پولیس کے ہاتھوں دو وکلا ء کی ہلاکت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے دعویدار موجودہ حکمرانوں نے پاکستان کو خوشحال اور جمہوری ملک بنانے کی بجائے درحقیقت ایک پولیس سٹیٹ میں تبدیل کردیا ہے جہاں نہ کسی کی عزت اور نہ ہی جان محفوظ ہے۔ اب تو وکالت کے معزز پیشہ سے منسلک وکلا ۶ بھی پولیس کی سیدھی گولیوں کا نشانہ بننا شروع ہوگئے ہیں۔ ایک بیان میں محمد کامران نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے پولیس کلچرل تبدیل کرنے کے نام پر قومی خزانے سے اربوں روپے برباد کرکے عوام کو یہ نوید سنائی کے صوبہ میں پولیس کلچر کو تبدیل کر عوام دوست بنایا جائے گا۔ تاہم یہ واقعہ بتاتا ہے کہ یہ پیسہ درحقیقت کرپشن کے نظر ہوگیا۔ عوام ہوں یہ میڈیا کے لوگ یا پھر وکلا۶ تھانوں میں عزت حاصل کرنے کی بجائے ا?ج بھی پولیس کی گولیوں اور لاٹھیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ محمد کامران نے کہا کہ پولیس کا نظام تب تک تبدیل نہیں ہوسکتا جب تک حکمرانوں کی جاگیردارنہ سوچ نہیں بدلے گی۔ حکمران پولیس اورریاست کے دیگر اداروں کی مدد سے عوام کو ہمیشہ غلام بنا کے رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پولیس کو بھی ذہنی طور پر اپنا غلام بنا لیا ہے۔ پولیس ہو یا پھر دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف اور صرف حکمرانوں کی خدمت اور ان کے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے کام کررہے ہیں۔ عوام کا کوئی پْرسان حال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد احتجاج کرنا وکلا۶ کا جمہوری حق ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس واقعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے

مزید : میٹروپولیٹن 4