محکمہ پولیس میں کرپٹ افسروں کو اہم عہدوں پر تعینات نہ کرنے کا فیصلہ

محکمہ پولیس میں کرپٹ افسروں کو اہم عہدوں پر تعینات نہ کرنے کا فیصلہ

 لاہور(وقائع نگار خصوصی)نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد، ٹریفک پولیس کی از سرِ نوء تشکیل، زیر التواء پروموشن کیسز اور صوبے میں جاری ترقیاتی پراجیکٹس پر کام کرنے والے غیر ملکی ماہرین خصوصی طور پر چینی ماہرین کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے لئے آئی جی پنجاب ، مشتاق احمد سکھیرا نے سو ل سیکریٹریٹ ، لاہور میں ویڈیو لنک کے ذریعے تمام آرپی او زسے خطاب کیا۔اس موقع پر سنٹرل پولیس آفس لاہور سے ایڈیشنل آئی جی ، اسٹیبلشمنٹ پنجاب، نسیم الزمان، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز، کیپٹن (ر) عارف نواز ، ایڈیشنل آئی جی ویلفےئر اینڈ فنانس، سہیل خان، ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ، عثمان خٹک، ایڈیشنل آئی جی انوسٹی گیشن پنجاب، طارق مسعود ےٰسین،ایڈیشنل آئی جی PHP، جاوید اسلام اور ایڈیشنل آئی جی ٹریفک پنجاب، رائے الطاف، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب، ڈاکٹر عارف مشتاق، ایڈیشنل آئی جی ،سی ٹی ڈی، رائے طاہر، کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری، حسین اصغر شامل تھے۔آئی جی پنجاب نے تمام آر پی اوز کو ہدایات جاری کیں کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے میں بطور فرنٹ لائن فورس کی حیثیت سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد مزید تیز کریں اور اس قومی فریضے کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اس پر بھرپور ایکشن لیں۔ویڈیو کانفرنس میں ٹریفک پولیس پنجاب کی تشکیل نوء کا فیصلہ کیا گیا۔ جس کے مطابق صوبے بھر میں ٹریفک کے نظام میں بہتری اور بڑھتی ہوئی عوامی شکایات کے خاتمے اور ٹریفک کی روانی میں درپیش مسائل کے خاتمے کے پیش نظر صوبے بھر میں ایک جیسا ٹریفک وارڈن سسٹم متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔اس کے علاوہ گزشتہ کئی سالوں سے ایک ہی جگہ پر تعینات ٹریفک آفیسرز کو ٹرانسفر کرنے اور آئندہ عرصہ تعیناتی کو تین سال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔آئی جی پنجاب کو بتایا گیا کہ ا س سلسلے میں اب تک 500ٹریفک آفیسرز کو ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔کانفرنس میں تمام شعبوں سے ٹریفک پولیس میں تین سال سے زائد کے زیادہ عرصے سے تعینات اہلکاروں کو ان کے اصل محکموں میں واپس کرنے اور ان کی جگہ نئے اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام ڈی پی اوز اپنے اپنے اضلاع میں موجود لائسنس برانچز کی خود مانیٹرنگ کریں گے اور وہاں کام کرنے والی کالی بھیڑوں اور محکمے کے لئے بدنامی کا باعث بننے والے اہلکاروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کریں گے اور تمام اضلا ع میں اچھی شہرت رکھنے والے افسروں کو تعینات کیا جائے گا اور کریمنل ریکارڈ رکھنے والے اورکرپٹ افسروں اور اہلکاروں کو اہم پوسٹنگ نہ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔کانفرنس میں تمام شعبوں میں ملازمین کے زیر التواء پروموشن کیسزکے عمل کو ایک ماہ کے اندر مکمل کر کے سنٹرل پولیس آفس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ ترقیوں کے منتظر افسروں اور اہلکاروں میں پائی جانے والی بے چینی کو ختم کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پولیس کی تحویل سے بھاگنے والے ملزمان کی رو ک تھام اور تھانوں میں حوالاتوں کی سیکورٹی کو بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔کانفرنس میں پولیس ناکوں پر 1-4کی نفری لگانے اور ناکوں کے دونوں طرف مورچے بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ فیلڈ افسران کو ہدایات دی گئیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ناکوں پر تعینات اہلکار بلٹ پروف جیکٹس کا استعمال اور جدید ترین اسلحے سے لیس ہونگے۔کانفرنس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام فیلڈ افسران اپنے اپنے اضلاع میں سنگین جرائم کے مقدمات کی مانیٹرنگ براہِ راست خود کریں گے اور اس سلسلے میں روزانہ کی بنیادوں پر تفتیشی افسران سے میٹنگ کرنے کے بعد آئی جی پنجاب کو رپورٹ پیش کریں گے۔صوبے میں جاری ترقیاتی پراجیکٹس اور ان پر کام کرنے والے غیر ملکی خصوصی طور پر چینی ماہرین کی سیکیورٹی کے حوالے سے فیلڈ افسران کو دئیے گئے سیکیورٹی پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کا فیصلہ بھی کیا گیا۔کانفرنس میں پنجاب بھر میں جرائم اور امن و امان کے جائزے کی روشنی میں صوبے میں موجود اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنانے کے لئے سخت ترین حفاظتی اقدامات لینے کابھی فیصلہ کیا گیااور تمام آرپی اوز کو ہدایت کی گئی کہ وہ مختلف ایجنسز سے موصول ہونے والی ہر Threat Alertsکو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس کی روشنی میں سیکیورٹی حکمت عملی ترتیب دیں اس کے علاوہ اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں ۔ کانفرنس میں سرچ آپریشنز، جنرل ہولڈاپس ، سنیپ چیکنگ کا سلسلہ جاری رکھنے اور اہم مقامات ہوائی اڈے، اہم دفاتر ، ریلوے سٹیشنز اور بس ٹرمینلز پرلگے ہوئےCCTV کیمروں کی مستقل مانیٹرنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ محکمہ پولیس

مزید : صفحہ آخر