فطرانہ، زکوۃ اور عطیات کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کا بڑا ذریعہ بن گئے

فطرانہ، زکوۃ اور عطیات کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کا بڑا ذریعہ بن گئے

 لا ہور (شعیب بھٹی )رمضان المبارک میں فطرانہ، زکوٰاۃ اور عطیات کالعدم تنظیموں کیلئے مالی معاونت کا بڑا ذریعہ بن گئے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی زیر حراست کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کا ایک بڑا ذریعہ مختلف مخیر حضرات سے دی جانیوالی زکواۃ ،خیرات اور عطیات ہیں جو کالعدم تنظیمیں کسی فلاحی تنظیم کے نام پر اکٹھے کر رہی ہیں ۔ جس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے نے انٹیلی جنس بنیادوں پر کالعدم تنظیموں اورجرائم پیشہ عناصر کے مالی ذرائع کی روک تھام کیلئے کام کرنا شروع کر دیا ہے اور کھوج لگانا شروع کر دیا ہے کہ وہ کونسے اداراے ہیں جن کے نام پر کالعدم تنظیمیں فنڈز اکٹھا کر رہی ہیں تاکہ دہشتگردوں اور کالعدم تنظیموں کی مالی امداد کا سلسلہ ختم کیا جائے ۔ ذرا ئع نے مزید بتایا کہ ملک کے مختلف اضلاع میں گرفتارٹارگٹ کلرزاور خطرناک دہشت گردوں سے تحقیقات کے دوران انکشاف ہواہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کابڑا ذریعہ قبضہ گروپ ، بینک ڈکیتیاں، اغواء برائے تاوان، منشیات فروشی اوربھتہ خوری ہے جبکہ دہشتگرد اور کالعدم تنظیمیں ان ذرائع کے علاوہ عطیات،خیرات اور صدقات کی صورت میں بھی فنڈز اکٹھے کر رہی ہیں ۔۔ یہ نیٹ ورک مختلف گروپس چلارہے ہیں جنھیں مختلف کالعدم تنظیموں اوربعض مبینہ سیاسی ومذہبی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ خصوصاً رمضان المبارک میں یہ گروپس مختلف طریقے سے زیادہ سے زیادہ فطرانہ، زکوٰاۃ، عطیات اور دیگرطریقوں سے رقوم کی وصولی کے لیے مختلف انداز میں کام کرتے ہیں۔با وثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ عطیات وصول کرنے والی تنظیموں کے بینک اکاونٹس کی تفصیلات بھی حاصل کر لیں گئی ہیں ۔رمضان المبارک اور عیدالفطر کے موقع پرعطیات کی وصولی کے لیے بعدرجسٹرڈ فلاحی تنظیموں اوردیگر اداروں کواجازت نامہ قانون کے مطابق جاری کیاجائے گا۔زبردستی عطیات وصول کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے اور رمضان المبارک میں صرف رجسٹرڈ فلاحی اوردیگر اداروں کومکمل سیکیورٹی کلیئرنس کے بعدعطیات کی وصولی کے لیے متعلقہ ادارے اجازت نامہ جاری کریں گے۔ بعض تنظیموں کے ایسے افرادجن کی سرگرمیاں خلاف قانون ہوئیں، سیکیورٹی اداروں کی جانب سے نشاندہی کے بعدان کی سرگرمیوں پرنظر رکھنے کے لیے ان کوفورتھ شیڈول لسٹ میں شامل کیا جائے گااور 16ایم پی اوکے تحت نظربند کرنے سمیت قانون کے مطابق ان کوگرفتار کرنے کی پالیسی اختیارکی جائے گی ۔

مزید : صفحہ آخر