سانحہ ڈسکہ کیخلاف وکلاء کے احتجاجی مظاہرے ،ہنگامے ،ہڑتال میں 2روز کی توسیع ،مقتولین سپرد خاک

سانحہ ڈسکہ کیخلاف وکلاء کے احتجاجی مظاہرے ،ہنگامے ،ہڑتال میں 2روز کی توسیع ...

 ڈسکہ/ پھالیہ/ سمبڑیال /گجرات (نامہ نگار،تحصیل رپورٹر)سانحہ ڈسکہ کے خلاف ملک بھر میں وکلاء نے احتجاجی مظاہرے کئیے اس دوران نوجوان وکلاء نے ہنگامے بھی کئے،ڈسکہ میں وکلاء نے پر امن احتجاجی ریلی نکالی جونیو کچہری سے شروع ہو ئی اور پل نہر چیمہ کے قریب وکلاء نے ٹائر جلا کرٹریفک بلا ک کر دی، ریلی لاری اڈا پہنچی تو وہاں پر پہلے سے موجود رینجر ز اہلکاروں نے انہیں شہر کی جانب جانے سے منع کیا جس پر ریلی کے شرکاء نیو کچہری کی جانب واپس چلے گئے، ریلی کے شرکاء نے پولیس ،اے سی ،ٹی ایم او کے خلاف نعرہ بازی کی اورریلی نیو کچہری واپس پہنچ کر پرامن طور پر اختتام پذیر ہو گئی ریلی سے سابق صدر بار احسان اللہ گھمن ایڈووکیٹ ،جنرل سیکرٹری اویس اسلم سندھو،سابق جنرل سیکرٹری ناصر گھمن و دیگر وکلاء نے خطاب کیا انہوں نے کہا کہ مقدمہ کے فیصلہ اور ملزمان کو سزا ملنے تک احتجاج جا ری رہے گا آج بروز بدھ کو بھی ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا ۔ پھالیہ بار نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے منڈی بہاؤالدین ،گجرات روڈ بلاک کردی اس دوران پولیس اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی ، قبل ازیں پھالیہ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سابق صدر بار نصراقبال تارڑ نے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی بہیمانہ غنڈہ گردی کی مذمت کرتے ہیں،اجلاس سے سیکرٹری جنرل پھالیہ بارصفدراقبال ،نائب صدر بارظفر اقبال تارڑ،چوہدری بشیر احمد گوندل ،ثناء اللہ تارڑ نوید اقبال تارڑ،میاں نصیراحمد،طارق محمود آرائیں اور دیگر وکلاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا پنجاب پولیس نے شہزاد وڑائچ جیسے ریکارڈ یافتہ مجرموں کو پال رکھا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ظالم ایس ایچ او اور ذمہ داران کو وکلا قتل کرنے پاداش میں قرار واقعی سزا دی جائے۔ سمبڑیال میں وکلاء نے یوم سوگ منایا ،تمام تر عدالتی کارروائیاں معطل رہی ۔وکلاء برادری کا سیالکوٹ،وزیرآباد،ڈسکہ روڈ،ائیرپورٹ روڈ پر ٹائر جلا کر ٹریفک بلا ک کرکے 2گھنٹے تک احجاجی مظاہرہ کیا ۔گجرات سیشن کورٹ میں مقتولین کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں وکلا ‘ سیشن جج اور دیگر ججز بھی شریک ہوئے ،علاوہ ازیں بار ایسوسی ایشن کی طرف سے متفقہ طور پر مذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی ۔ تحصیل کھاریاں بار کی طر ف سے بھی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جبکہ آج احتجاجی ریلی بھی نکالی جائیگی ،تحصیل سرائے عالمگیر بار کے وکلا نے بھی پولیس گردی کیخلاف ریلی نکالی اور سڑک بند کر کے احتجاج کیا، گجرات بار کے صدر چوہدری حبیب اللہ اور سیکرٹری آصف مسعود آصف نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کی ظالمانہ واردات ریاست اور قوم کے خلاف سنگین جرم ہے پولیس اصل ذمہ داریوں سے غافل ہو کر ہماری جان و مال کی دشمن بن بیٹھی ہے ہم متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔قبل ازیں پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہو نے والے صدر بار سمیت دونوں وکلاء کی نماز جنازہ اد اکر دی گئی صدر بار رانا خالد عباس کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں سیخواں اور عرفان چوہان ایڈووکیٹ کی نماز جنازہ موضع چھانگا میں کی گئی نماز جنازہ میں سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور ،پی ٹی آئی لاہور کے صدرعلیم خاں ،مرکزی ڈپٹی سیکرٹری عمر ڈار ،عمر مائر ،طاہر ہندلی ، ارمغان سبحانی ،اکمل چیمہ ،قاری ذوالفقارعلی سیالوی، محمد افضل منشاء ،پنجاب بھر کے ممبر پنجاب بار کونسل،ناصر چیمہ ،سیشن جج سیالکوٹ شاہد رفیق ،ایڈیشنل اینڈ سیشن جج محمد اعجاز بٹ ،ریجنل چیئرمین گیپکو میاں جمیل ،سید ظہیر الحسن رضوی ،وقاص بٹ گوجرانوالہ ڈویژن ،عدلیہ کے جج صاحبان ،وکلاء تاجران رانا افضل،آصف باجوہ ایم پی اے ،الیاس ریحان ،جلیل قیصر ناگرہ ممبر ان با رکونسل ،سیکرٹری پنجاب بار کونسل لاہور،وارث گجر،ضلعی امیر جماعت اسلامی شیخ عتیق الرحمن ،جنرل سیکرٹری ،انور مغل ایڈووکیٹ ،عبدالرحمن بہگل ،امیر زون 130افضل لون ،پرویز عالم بٹ ،صحافیوں ،تاجروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی /نامہ نگار)ڈسکہ بار کے صدر سمیت 2وکلاء کی تھانیدار کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف ملک بھر کے وکلاء نے مکمل ہڑتال کی اور دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جس کے دوران جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے ۔ہڑتال کی کال پاکستان بار کونسل نے دی تھی ۔وکلاء نے احتجاجی ریلیاں نکالیں ، بار ایسوسی ایشنز کے دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے گئے ۔وکلاء نے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کے لئے پنجاب حکومت کے اعلان کو مسترد کردیا جبکہ ملز موں کو قرار واقعی سزا ملنے تک احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔بار ایسوسی ایشنز نے مذمتی قرار دادیں بھی منظور کیں جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملزموں کا چالان فوری طور پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے اور انہیں 15روز کے اندر قانون کے مطابق سزا دی جائے ۔احتجاجی مظاہروں کے دوران مقررین نے آئی جی پنجاب ،ڈی پی اوسیالکوٹ اور ڈی پی او قصور کی معطلی کا مطالبہ بھی کیا ،ڈی پی او قصور کی معطلی کا مطالبہ کنگن پور کے ایک وکیل کی گرفتاری اور چونیاں میں وکلاء پر پولیس کے مبینہ تشدد کی بناء پر کیا گیا ہے ۔بار ایسوسی ایشنز میں مقتول وکلاء کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی ،لاہور ہائی کورٹ بار میں ادا کی جانے والی غائبانہ نماز جنازہ میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس منظور احمد ملک اور لاہور ہائی کورٹ کے دیگر جج صاحبان نے بھی شرکت کی ۔ہڑتال اس قدر موثر تھی کہ لاہور ہائی کورٹ میں اہم اور فوری سماعت کے متقاضی مقدمات میں بھی وکلاء پیش نہیں ہوئے ۔لاہورمیں ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار کے وکلاء نے پنجاب اسمبلی تک ریلی نکالی ،وہاں وکلاء مشتعل ہوگئے اور اسمبلی کا گیٹ توڑنے کی کوشش کی ،وکلاء نے اسمبلی حال کے باہر پولیس کے خیموں کو آگ لگا دی اور وہاں توڑ پھوڑ کی ۔بعد میں وکلاء نے لاہور ہائی کورٹ کے ججز گیٹ کے سامنے دھرنا دیا ،اس موقع پر وہاں موجود پولیس وین کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی تووکلاء راہنماؤں نے نوجوان وکلاء کو ایسا کرنے سے روک دیا تاہم مشتعل وکلاء نے گاڑی کے شیشے توڑ دیئے اور اسے الٹا دیا۔لاہور بار نے ہونے والے وکلاء کے اجلاس کی صدارت قائم مقام صدر جہانگیر بھٹی نے کی ،اجلاس میں آئی جی پنجاب کو خبردار کیا گیا کہ وکلاء کے خلاف کارروائیاں بند نہ کی گئیں تو آئی جی ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا۔لاہور ہائی کورٹ بار نے صدر پیر مسعود چشتی کی سربراہی میں وکلاء کا اجلاس ہوا ۔ اجلاس سے سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عاصمہ جہانگیر ، وائس چیئرپرسن پنجاب بار کونسل فرح اعجاز بیگ اور سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن محمد احمد قیوم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس غنڈہ گردی، وحشت و بربریت اور ظلم کا نشان بن چکی ہے۔ سانحہ ڈسکہ کے خلاف سراپا احتجاج کرتے وکلاء کو پنجاب بھر میں پولیس کے تشدد اور بربریت کا سامنا ہے ۔ انہوں نے آئی جی پنجاب پولیس کو متنبہ کیا کہ صوبہ بھر کی پولیس کو وکلاء پر تشدد سے باز رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم او ڈسکہ کو معطل کرنے سے بات نہیں بنے گی کیونکہ سانحہ ڈسکہ کا اصل مجرم وہی ہے، انہوں نے کہا کہ سانحہ ڈسکہ کیلئے کسی جوڈیشل انکوائری کی ضرورت نہیں تمام واقعات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اس سانحہ میں ملوث تمام مجرموں کا ہر ایک کو علم ہے لہٰذا ان کے خلاف چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر کے 15دنوں کے اندر فیصلہ ہونا چاہئے کیونکہ وکلاء خون کا بدلہ خون نہیں بلکہ صاف اور شفاف انصاف چاہتے ہیں۔ صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پیر مسعود چشتی نے رائے شماری کیلئے مندرجہ ذیل قرارداد ہاؤس کے سامنے پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ سانحہ ڈسکہ کیلئے جوڈیشل انکوائری کی ضرورت نہیں سانحہ میں ملوث تمام ملزمان کا سب کو علم ہے ۔ اجلاس میں ملزموں کے ٹرائل کے لئے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جس میں ہائی کورٹ بار کے صدر پیر مسعود چشتی ،سیالکوٹ بار کے صدر خواجہ اویس مشتاق اورپنجاب بار کونسل کی وائس چیئرپرسن فرح اعجاز بیگ شامل ہیں ،یہ کمیٹی ڈسکہ بار کے عہدیداروں کے اشتراک سے ملزموں کے خلاف استغاثہ کی پیروی کرے گی ۔اجلاس میں ایک دوسری قرار داد بھی منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ بار ایسوسی ایشن چونیاں کے واقعہ پر اگر آئی جی پنجاب پولیس بروقت پولیس کے خلاف کاروائی عمل میں لاتے تو سانحہ ڈسکہ پیش نہ آتا۔ یہ ہاؤس مطالبہ کرتا ہے کہ ایس ایچ او چونیاں کو معطل کیا جائے وکلاء کے خلاف پرچے واپس لئے جائیں۔ وکلاء نے اعلان کیا کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ پنجاب بار کونسل نے ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کے صدررانا خالد عباس سمیت 2وکلاء کی تھانیدار کے ہاتھوں ہلاکت کے واقعہ کے خلاف پنجاب بھر کے وکلاء کو مزید2دن کے لئے ہڑتال کی کال دے دی ہے جبکہ اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ڈی پی او سیالکوٹ اور ڈی ایس پی ڈسکہ کی فی الفورمعطلی اور ملزم انسپکٹر کوپھانسی دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔ پنجاب بار کونسل نے حکومت سے قتل ہونے والے وکلاء کے ورثاء کی کفالت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔پنجاب بار کونسل کی وائس چیئرپرسن فرح اعجاز بیگ ،چیئر مین ایگزیکٹو کمیٹی اور پنجاب بار کونسل کے دیگر ارکان کی طرف سے جاری کئے گئے یان میں کہا گیا ہے کہ وکلاء سے 27 اور 28 مئی کو بھی احتجاج جاری رکھیں اور عدالتوں میں پیش نہ ہوں ۔انہوں نے قتل ہونے والے وکلاء کی روح کو ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی جبکہ زخمی وکلاء کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا۔وائس چیئر پرسن پنجاب بار کونسل نے وکلاء برادری کے اظہاریکجہتی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وکلاء برادری اس جذبے کو برقرار رکھتے ہوئے بھر پور احتجاج کے سلسلے کواس وقت تک جاری رکھے گی جب تک اس دلخراش واقعہ کے ذمہ داران اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتے۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) پنجاب حکومت نے ڈسکہ بار کے صدر سمیت 2وکلاء کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کے لئے لاہور ہائی کورٹ کو بھیجی گئی درخواست واپس لے لی ہے۔حکومت پنجاب کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجی گئی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ جوڈیشل انکوائری کے لئے عدالت عالیہ کے کسی ایک جج کو نامزد کیا جائے ،وکلاء نے اس واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کے اقدام کو مسترد کردیا تھا جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کے تحت ملزموں کے خلاف تھانہ سٹی ڈسکہ میں ایف آئی آر بھی درج ہوچکی ہے جبکہ انکوائری کے لئے تشکیل دی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے بھی کارروائی شروع کردی ہے ،ان حالات کے پیش نظر پنجاب حکومت نے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست واپس لے لی ہے ۔

مزید : صفحہ اول