نکاح نامے کی کمپیوٹرائزڈ نقل ما نگنا سا نحہ ڈ سکہ کا سبب بنا

نکاح نامے کی کمپیوٹرائزڈ نقل ما نگنا سا نحہ ڈ سکہ کا سبب بنا

ڈسکہ(نامہ نگار،تحصیل رپورٹر) ڈ سکہ کے مقامی وکیل عا مر بشارت باجوہ اپنے سائل کے نکاح نامہ کی کمپیوٹرائزڈ نقل لینے کے لیئے ٹی ایم اے آفس کی نقل برانچ میں کلرک فاروق احمدکے پاس آیا اور نکاح نامہ کی نقل مانگی جس پر کلرک فاروق نے کہا کہ اس کا ریکارڈمل نہیں رہا ہے جیسے ہی ریکارڈ رجسٹر مل جائے گا توکمپیوٹر نقل دے دیں گے وکیل نے اصرار کیا کہ میرے پاس جو نقل ہے اس سے ہی کمپیوٹرائز نقل بنا کر دیں جس پر فاروق کا کہنا تھا کہ اگر اس پر اوور رائٹنگ نہ ہو تی تو میں اس سے ہی آپ کو کمپیوٹرائزڈ نقل بنا کر دے دیتا جس پر ان کے درمیان توتکرار ہو ئی ،وکلاء اور عملہ کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی ٹی ایم اے نے اس واقعہ کی اطلاع تھانہ سٹی پولیس کو دی جس پر تھانہ سٹی پولیس موقع پر پہنچی، وکلاء کی پولیس سے بھی توتکرار شروع ہو گئی ایس ایچ او سٹی شہزاد وڑائچ نے دونوں پارٹیوں کو تھانے آنے کو کہا اسی دوران صدر بار رانا خالد عباس و دیگر وکلاء بھی آگئے اور انہوں نے ٹی ایم اے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا سٹی پولیس کے منع کر نے پر پولیس اور وکلاء کے درمیان بھی تلخ کلامی ہو گئی جس پر وکلاء نے سٹی پولیس اور ایس ایچ او سٹی کے خلاف بھی نعرہ بازی شروع کردی وکلاء کی نعرہ بازی سے مشتعل ہو کر ایس ایچ او سٹی شہزاد وڑائچ نے وکلاء پر فائرنگ کردی جس کی زد میں آکر صدر بار رانا خالد عباس ،عرفان چوہان ایڈووکیٹ ،زیب ساہی ایڈووکیٹ اور ایک راہگیر عباس مسیح بھی زخمی ہو گیاتھا ۔

مزید : صفحہ اول