الیکشن کمیشن جوڈیشل کمیشن میں فارم 15کا ریکارڈ جمع نہ کروا سکا ،جمعہ تک کی مہلت مانگ لی

الیکشن کمیشن جوڈیشل کمیشن میں فارم 15کا ریکارڈ جمع نہ کروا سکا ،جمعہ تک کی ...

 اسلام آباد(آن لائن،اے این این) عام انتخابات 2013ء میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے روبرو الیکشن کمیشن فارم 15 کا ریکارڈ جمع نہ کرواسکا ۔ جمعہ تک مہلت مانگ لی ۔ جبکہ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ نے فارم نمبر 15 کے حصول کے لئے تمام پولنگ بیگز کھولنے یا نہ کھولنے یا ریٹرننگ افسران سے منگوانے بارے تحریک انصاف کے تحفظات پر فریقین کو آج بدھ کو اپنے چیمبر میں طلب کیا ہے جس میں باہمی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا،چیف جسٹس ناصرالملک نے قراردیاہے کہ ہر ایک حلقے میں دھاندلی کے الزامات دیکھنا انکوائری کمیشن کا مینڈیٹ نہیں، انکوائری کمیشن نے مجموعی طور پر عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو دیکھنا ہے جبکہ تحریک انصاف کے وکیل حفیظ پیرزادہ نے کمیشن کے روبرو موقف اختیار کیا ہے کہ فارم نمبر 15 پولنگ بیگز سے حاصل کیا جائے اس حوالے سے ضلعی عدلیہ کے زیر نگرانی لوکل کمیشن مقرر کیا جائے جو فارم 15 کے لئے بیگز کھولیں سو سے زائد آر اوز کہہ چکے ہیں کہ فارم نمبر 15 ان کے پاس نہیں ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بیگز کھولنے میں قانونی پیچیدگیاں حائل ہوں گی وقت بھی کافی صرف ہوگا تاہم آر اوز سے یہ فارم منگوائے جاسکتے ہیں جو انہوں نے پہلے ہی آرڈر کردیئے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے وکیل شاہد حامد کا کہنا تھا کہ فارم 15 منگوانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جبکہ کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس ناصر الملک نے ریکارڈ الیکشن کمیشن کی بجائے آر اوز کے پاس ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس ہونا چاہیے تھا جبکہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تحریک انصاف کو جب ریٹرننگ افسران پر اعتماد نہیں رہا تو پھر ان کی موجودگی میں لوکل کمیشن کے فیصلہ کو کس طرح قبول کرینگے انہوں نے یہ ریمارکس منگل کے روز دیئے ہیں ۔ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے کارروائی کی سماعت کی ۔ کمیشن کی کارروائی کا آغاز ہوا تو پیرزادہ پیش ہوئے اور انہوں نے فارم نمبر 15 بارے الیکشن کمیشن کی رپورٹ بارے بات کی تو سلمان اکرم راجہ نے اس حوالے سے جواب پیش کیا اور کہا کہ کچھ اضافی دستاویزات بھی جمع کروائی ہیں یہ بلوچستان میں بیلٹ پیپرز کے حوالے سے ہے کمیشن کے سربراہ نے پیرزادہ سے پوچھا کہ کیا پہلے درخواست کا جائزہ لیں یا گواہ پر جرح کی جائے تو اس پر پیرزادہ نے کہا کہ میں ای سی پی کا کونسل نہیں ہوں مجھے 100ڈاکومنٹ دیئے گئے ہیں ۔ سلمان اکرم نے کہا کہ جتنی جلدی ہوسکتی ہے پیرزادہ کو دستاویزات دے رہے ہیں اور یہ سب شفاف طریقے سے ہورہا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ڈاکومنٹس سابق سیکرٹری الیکشن کمشن سے متعلقہ ہیں یا نہیں ۔ سلمان نے کہا کہ اکتالیس ملین بیلٹ پیپرز بغیر بائیڈنگ اور نمبرنگ پاکستان پریس نے پاکستان پوسٹ کو دیئے تھے ہم فارم 15 بارے بات کرینگے تمام تر فارم نمبر 15فراہم کردیئے گئے ہیں ۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ یہ بیلٹ پیپرز کی تفصیلات چاہتے ہیں کہ کس طرح سے یہ بیلٹ پیپرز بھجوائے گئے کس طرح سے سارے معاملات طے کئے گئے ۔ سوال نمبر ایک استعمال شدہ بیلٹ پیپرز سے متعلق بھی ہے یہ فارم نمبر 15نہیں ہے یہیں تمام تر تفصیلات چاہیں پیکنگ انسوائسز بھی دی جائے ۔ چیف جسٹس نے پیرزادہ سے کہا کہ اب الیکشن کمیشن جواب داخل کراچکا ہے کیا اس جواب کی روشنی میں گواہ پر جرح کرینگے ۔ سلمان نے کہا کہ ہم جمعہ کے روز 140 ہزار دستاویزات جمع کروائیں گے پچھلے پانچ دنوں سے مسلسل کام ہورہا ہے سترہ ہزار پولنگ اسٹیشن ہیں اور ان کے پاس دو دو فارمز ہیں جس کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار بنتی ہے ۔ الیکشن کمیشن کے پاس جگہ نہیں ہے عمارت کی ضرورت ہے اس حوالے سے حکومت سے مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ یہ مہر سیل وہاں رکھا جاسکے چیف جسٹس نے کہا کہ تمام تر ریکارڈ ایک ہی جگہ رہنا چاہیے ۔ پیرزادہ نے کہا کہ اگر یہ گواہ اس طرح کے معاملات میں ملوث ہوا تو پھر ان کے جواب کے بغیر کیسے جائزہ لے سکتے ہیں ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میں شروع نہیں کرنا چاہتا میں چاہتا ہوں کہ ریکارڈ آجاتا تو بہتر ہوتا یہ تمام تر ریکارڈ عوام کے لیے دستیاب ہونا چاہیے تھا اور اس حوالے سے معذرت قبول نہیں ہونی چاہیے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ہونا چاہیے تھا میں اس کے اثرات کا بھی جائزہ لیں گے کیا اب گواہ پر جرح کی جانی چاہیے یا نہیں ۔ پیرزادہ نے کہا کہ اگر فارمز کا ریکارڈ جمعہ تک آتا ہے تو اس کا انتظار کرنا چاہیے ۔ انہوں نے درخواست میں کہا ہے کہ کچھ دستاویز موجود نہیں ہیں چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ اگر جمعہ کو ڈاکومنٹ نہ مل سکے تو پھر کیا ہوگا ؟ کیا اس وقت تک جرح نہیں ہوگی ۔ پیرزادہ نے کہا کہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے صحیح کہا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ دو گواہ مزید بھی موجود ہیں ان پر جرح کرلی جائے تو بہتر ہوگا پیرزادہ نے ایک اور استدعا کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کو دیکھنا ہوگا ایکشن پلان جو جاری کیا گیا تھا یہ پہلا ڈاکومنٹ ہے جس کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے یہ پیکنگ انوائس سے متعلقہ ہے ان وائسزکو فارم نمبر 15 کے ساتھ موازنہ کرکے بھجوایا جانا تھا صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب پر جرح کی گئی تھی تو اس نے بتایا تھا کہ تمام تر اضافی میٹریل ریٹرننگ افسران کے پاس تھا نو ملین بیلٹ پیپرز کا معاملہ ہے ان کا جائزہ لینا ضروری ہے اس حوالے سے ریٹرننگ افسران بہتر بتا سکتے ہیں ۔ انہوں نے بیلٹ پیپرز کے ساتھ کیا کیا ہے ڈاکومنٹ آنے دیا جائے ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ آپ بیگز کھلوائیں سب کچھ پتہ چل جائے گا ۔ سب کچھ ان بیگز میں ہے یہ بیگز کھلے ہوئے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ اب صورتحال یہ ہے کہ اب آپ فارم منگوا رہے ہیں یہ کس طرح سے ہوگا سلمان اکرم نے کہا کہ سیکشن 45 کے تحت الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ تمام تر میٹریل دستیاب کرے گا ۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ آپ نے خود کہا کہ کچھ فارمز ریٹرننگ افسران کے پاس ہیں یہ کس طرح سے ہوسکتا ہے کہ یہ ریٹرننگ افسران کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے سلمان نے کہا کہ پولنگ بیگز کے ساتھ فارم چودہ بھی دیئے گئے ان بیگز کو کھولا تک نہیں گیا باقی چیزیں بھی ایسی ہی تھیں اسی وجہ سے یہ سرکاری ریکارڈ آر اوز کے پاس ہیں فارم چودہ اور پندرہ الگ الگ شکلوں میں پیک شکل میں بھجوائے جانے تھے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب آپ یہ فارمز کس طرح اکھٹے کرینگے سلمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آرڈر جاری کردیئے ہیں اگر یہ فارم نہیں ملتے تو تمام تر بیگز کھول دیئے جائیں اور فارم حاصل کئے جائیں صوبائی اور ضلعی افسران کو اس کی اجازت دی گئی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر امیدواروں کی موجودگی میں بیگز نہیں کھولے جاسکتے تو پھر الیکشن کمیشن کس طرح ان کو کھولنے سے احکامات دے گا ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ آپ اصل ایشو کی طرف نہیں آرہے ہیں جسٹس امیر ہانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن اگر پہلے سب کو نوٹس دے گا تو اس میں دو ماہ لگ جائیں گے اس کا حل بتائیں ۔ پیرزادہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو فارم نمبر 15 علیحدہ بھجوایا جاتا ہے اس میں آر اوز کا کیاکام رہ گیا ہے جو یہاں موجود ہیں ا نکے بارے میں بھی بتایا جائے الیکشن کمیشن نے پریس ریلیز جاری کی تھی کہ فارم نمبر 15فلاں ریٹرننگ افسران سے حاصل کیا جائے ان کو معلومات حاصل ہیں بیلٹ پیپرز سمیت تمام تر چیزیں بیگز میں ڈالے جاتے ہیں چودہ اور بھی چیزیں ہیں اس میں شامل ہوتی ہیں ،اب یہ شہادت آ چکی ہے کہ بعض آر اوز نے تفصیلات دی ہیں اور بعض نے صفر تفصیلات دی ہیں۔ آر اوز کے پاس یہ فارم نمبر 15 کیوں اب تک موجود ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آفیشل طور پر فارم نمبر II بیگز میں موجود ہیں ریٹرننگ افسران کے پاس غیر سرکاری ریکارڈ بھی موجود ہے الیکشن کمیشن چاہتا ہے کہ بیگز کھلوانے کی بجائے وہ فارمز منگوا لئے جائیں۔ الیکشن کمیسن نے اب یہ غٖیر سرکاری ریکارڈ منگوایا ہے تاکہ بیگز کھولنے نہ پڑیں۔ میں سمجھ گیا ہوں کہ ایک ریکاردڈآر اوز کے پاس بھی ہے۔ اگر آر اوز کے پاس ریکارڈ ہو گا تو جمعہ تک پتہ چل جائے گا۔ پیرزادہ نے کہا کہ ان کو ہدایت جاری کی جائے کہ بیگز میں موجود بیلٹ پیپرز کو نہ چھوا جائے اس دوران پیرزادہ اور الیکشن کمیشن کے وکیل سلمان کے درمیان کچھ سخت جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔ پیرزادہ نے کہا کہ جب اپ بیگز کھولیں گے تو پھر اس میں اور بھی بہت کچھ نکلے گا۔ دو طرح کے پیکٹس ہیں ایک قومی اور دوسرا صوبائی اسمبلی کے لئے ہے۔ اب یہ کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ ان معاملات کا تحفظ کرے۔ سلمان نے کہا کہ ہمیں شاباش نہیں دے رہے ہیں کہ ہم بعیر بیگ کھولے فارم نمبر 15 دے رہے ہیں۔ سفید بیگز میں فارم نمبر 15 موجود ہیں ہر طرح کے ووٹس کا تذکرہ بھی ہے۔ 3 مختلف رنگوں کی سکیم کے تحت یہ سب چیزیں موجود ہیں صوبائی اسمبلیوں کے معاملات اس سے بھی گنجلک ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ یہ بیگ ہمیں بھی دکھایا جائے جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ 2 بیگز میں غیر حساس جبکہ دو بیگز میں تمام تر مواد موجود ہے فارم‘ پوسٹرز‘ اضافی بیلٹ پیپرز‘ مہریں اور غیر استعمال شدہ پیکٹس شامل ہیں۔ حساس میں فارم نمبر 15 اور دیگر چیزیں شامل ہیں اگر یہ حساس میٹریل ہے تو پھر آر اوز کے پاس کیوں موجود ہے۔ سلمان نے کہا کہ ان بیگز کو ضلعی الیکشن کمیشن آفیسر اپنے پاس رکھ سکتا ہے قانونی طور پر اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگر ان کو کوئی تحفظات ہیں تو اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو درخواست دے سکتے ہیں جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ حوالگی کا مطلب مکمل طور پر ریکارڈ کی الیکشن کمیسن کی جانب سے فزیکلی تحویل میں لینا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فارم بیگز میں ہیں یا آر اوز کے پاس ہیں فارم نمبر 15 کمیشن کو دیئے جائیں۔ سلمان نے کہا کہ ذمہ دار افسران کی موجودگی میں بیگز کھول کر بھی یہ فارم نمبر 15 حاصل کریں گے۔ پیرزادہ نے کہا کہ آپ کمیشن مقرر کر دیں جو ان بیگز کو کھولتے وقت موجود ہو‘ کمیشن نے کہا کہ سب جگہ یہ کمیشن کس طرح جائے گا۔ پیرزادہ نے کہا کہ 130 ضلعوں میں کمیش جائے گا پنجاب کے علاوہ بھی کمیشن کو بھجوا سکتے ہیں۔ شاہد حامد نے کہا کہ یہ جہاں سے فارم نمبر 15 لائیں انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے سلمان نے کہا کہ دیکھ لیتے ہیں کہ آر اوز کتنے فارم بھجواتے ہیں اگر وہ نہ آئے تو پھر بیگز کو کھولنے کامعاملہ دیکھ لیں گے۔ جمعہ تک یہ فارم آجائیں گے چیف جسٹس نے کہا کہ ہم جمعرات کی صبح تک انتظار کریں گے پھر کوئی حکم جاری کریں گے۔ پیرزادہ نے کہا کہ یہ فارم نمبر 15 الیکشن کمیشن کو بھی ارسال کئے گئے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ اصل فارم بیگز میں ہیں باقی کاپیاں ہیں۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ہم سب کچھ الیکشن کمیشن سے طلب کریں گے۔ پیرزادہ نے کہا کہ 10 کے قریب آر اوز نے انکشاف کیا ہے کہ فارم نمبر 15 ان کے پاس نہیں ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ آر اوز کے فارم نمبر 15 قبول کریں گے یا بیگز کھلوائیں گے اگر ہم یہ ایکسرسائز مکمل کر لیتے ہیں اور آپ اس کو مسترد کر دیتے ہیں تو پھر کیا ہو گا آپ 10 منٹ تک اپنے موکل سے مشورہ کر لیں اور جواب دیں۔ وقفے کے بعد کمیشن نے دوبارہ کارروائی شروع کی تو پیرزادہ کے ساتھی وکیل نے چند منٹ حاصل کئے۔ اس دوران شاہد حامد نے بات کرنے کی کوشس کی تو کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ ہم پیرزادہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ فارم نمبر 14 چار مختلف جگہوں پر ہیں ایک آر او کے پاس‘ ایک امیدواروں‘ الیکشن کمیشن اور بیگز میں ہیں۔ سلمان کہہ رہے ہیں کہ 99 فیصد فارم 14 موجود ہیں باقی بھی آجائیں گے۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ یہ پیرزادہ کا پوائنٹ اور موقف نہیں ہے۔ شاہد حامد نے کہا کہ فارم 15 قطعی ضرورت نہیں ہے۔ اگر بیگز کھولنے ہیں تو پھر صوبائی اور قومی ا سمبلی دونوں کے کھولنے پڑیں گے کیونکہ بعض اوقات غلطی سے دونوں ایک بیگ سے دوسرے بیگ میں چلے جاتے ہیں پیرزادہ نے کہا کہ فارم نمبر 15 پولنگ بیگز سے حاصل کئے جائیں آر اوز کا معاملہ بعد میں مشکوک ہو سکتا ہے لوکل کمیشن جو عدالتی افسران پر مشتمل ہو ان کی نگرانی میں یہ بیگز کھولے جائیں جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ آپ پھر عدالتی افسران کی بات کر رہے ہیں پہلے بھی آپ کو عدالتی افسران پر سنجیدہ تحفظات ہیں پھر کیسے ان سے کام لیا جائے۔ پیرزادہ نے کہا کہ اس کام میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ فارم سیل کور میں ہو گا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ یہ سب کام کتنے عرصے میں مکمل ہو گا اس دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے بات کرنے کی اجازت مانگی جو نہیں دی گئی۔ پیرزادہ نے کہا کہ اس میں وقت لگایا جائے سب کچھ سامنے آ جائے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل روشن ہو اور اس ملک میں جمہوریت چل سکے۔ یہ جمہوریت کے لئے بہت ضروری ہے۔ یہ کام 3 ہفتوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں الیکشن کمیشن کی معاونت درکار ہو گی۔ سلمان نے کہا کہ آر اوز نے یہ فارم تیار کئے ہیں اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے فارم 15 جو قومی اسمبلی کا ہے وہ صوبائی اسمبلی کے بیگز میں ہو کھولنا تو بیگز کو پڑے گا۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ خود ان کی جانب سے پیش ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چیمبر میں میٹنگ کر لیتے ہیں جس میں وکلاء اور ماہرین کو طلب کر لیتے ہیں اور مشاورت کر لیتے ہیں۔ گیارہ بجے میٹنگ رکھ لیتے ہیں شاہد حامد نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اس کے لئے تیار ہیں مگر یہ وقت 9 بجے کا رکھ لیا جائے کارروائی آج بدھ تک ملتوی کر دی

مزید : صفحہ اول