پارلیمنٹ کا اٹھار ہویں ترمیم کا اختیار نہیں تھا ،سپریم کورٹ

پارلیمنٹ کا اٹھار ہویں ترمیم کا اختیار نہیں تھا ،سپریم کورٹ

 اسلام آباد (آن لائن) اٹھارہویں اوراکیسویں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر جسٹس اعجاز چودھری نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم میں پارلیمنٹ کی جانب سے ایک سے زائد آرٹیکلز میں ترمیم پورے آئین پر نظرثانی کے مترادف ہے جس کا پارلیمنٹ کے پاس مینڈیٹ ہے نہ اختیار۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے جو اختیار استعمال کیا وہ آئینی نہیں۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا ہے کہ آرٹیکل 17 کے سب آرٹیکل 2 کو ختم کرنے سے سیاسی جماعتوں کی مرضی جو وہ کرتی پھریں انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ اچھے کردار کا حامل صرف مسلمان تو نہیں ہو سکتا اچھا کردار تو کسی غیر مسلم کا بھی ہو سکتا ہے۔ ججز کی نامزدگی کا نیا طریقہ کیا ایلیٹ کلاس کا طریقہ ہے؟ اگر پھر کوئی آمر آ گیا اور اس نے سارا آئین اٹھا کر پھینک دیا تو پھر آئین کے حوالے سے دیئے گئے دلائل اور فیصلوں کا کیا ہو گا۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا ہے کہ جن کو پانچ سال کے لئے نااہل قرار دے دیا جاتا ہے ممکن ہے کہ وہ اپنے گناہوں اور خامیوں پر نادم ہو جائیں اور پھر اچھے کردار کے ساتھ اسمبلیوں میں آ جائیں اس لئے ان کو 5 سال بعد اہل قرار دیا گیا جبکہ اے کے ڈوگر نے دلائل میں صرف چیف جسٹس کے ذریعے ججز کی نامزدگی‘ وزیراعظم کا کئی بار اس عہدے کے لئے منتخب ہونے کو جائز قرار دینا‘ سیاسی جماعتوں میں پارٹی انتخابات نہ ہونا‘ اور 5 سال کی نااہلی کے بعد کسی شخص کو پارلیمنٹ کا رکن بننے کی اجازت دینے کو غیر آئینی‘ غیر قانونی اور غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ اب میری ضرورت نہیں رہی کیونکہ میرے جانشین سیاستدان آ چکے ہیں۔ موجودہ جمہوریت نہیں امیروں کی امیروں کے ذریعے امیروں کے لئے حکومت ہے۔فوجی عدالتوں اور دیگر معاملات بارے مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو اے کے ڈوگر نے پچھلے روز کے دلائل کا مختصر خاکہ پیش کیا ۔انہوں نے کہا فیصلہ میں آئین کے بنیادی خدوخال کا معاملہ ایک اکیڈمک سوال قرار دیا گیا‘ ہم اکیڈمک کام نہیں کر رہے ہیں ہم پارلیمنٹ کے مستقبل کے اختیارات کا جائزہ لے رہے ہیں کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو فاؤنڈیشن کے خلاف ہو۔ قانون سازی کے اختیار اورآئین سازی کے اختیارمیں فرق ہے‘ قانون سازی کا اختیارپارلیمنٹ کو قانون بنانے کی اجازت دیتا ہے جبکہ آئین سازی کااختیارآئین کے تحت کوئی ترمیم کرتا ہے۔ انہوں نے وکلاء محاذ کیس کا بھی حوالہ دیااورکہا یہ طے شدہ ہے کہ آئین کی ترمیم کو آئین ساز ی کااختیارقرار دیا گیا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آئین میں اس طرح سے الفاظ کا استعمال نہیں ہوا۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ سابق جج فضل کریم نے کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے بھارتی آئین کی بات کی ہے۔جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ اب جبکہ دونوں میں فرق کر رہے ہیں ہمارا تین طرح کا آئین ہے ایک بھٹو نے بنایا ایک آئین ساز اسمبلی نے بنایا تو اب اس اختیار کا کہاں سے فرق کریں گے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ آپ کے منہ میں گھی شکر اور منہ میں خاک‘ آپ پھر ایک اور مارشل لاء کی بات کر رہے ہیں جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ اگر کوئی اور آ گیا اور اس نے ہم کو مار کر نیا کچھ بنا دیا تو کیا ہو گا۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ اس ملک میں آئین و قانون اسلامی حیثیت میں برقرار رہے گا۔ اس طرح کی کوشش اب نہیں ہو سکتی، جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ 1956ء اور 1962ء کے بعد 1973ء کے آئین کی کیا ضرورت تھی ؟اگر 1973ء کا آئین ہی بہتر تھا تو پہلے دونوں دستوروں کو غلط قرار دینا ہو گا۔ اگر کوئی آ گیا انہوں نے سارے کا سارا تبدیل کر دیا تو پھر دلائل رہ جائیں گے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ یہ سب نئے آنے والے پر ہے کہ وہ کیا کرے گا؟ اے کے ڈوگر نے کہا کہ 1998ء میں سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا یہ طے شدہ بات ہے کہ آئین میں دی گئی تمام پروویژنز ایک مقام رکھتی ہیں ،ان کا ایک جیسا مقام نہیں ہے آرٹیکل 209 کے بارے میں جسٹس اجمل میاں کے سامنے معاملہ آیا تھا کہ جو جج صاحب فیڈرل شریعت کورٹ جانے سے انکار کریں گے وہ ہائی کورٹ کے ججز نہیں رہیں گے اس پر سوال اٹھاکہ آرٹیکل 209 کہاں جائے گا آرٹیکل 203 سی اور 209 کا موازنہ کیا گیا تو آرٹیکل 209 کو لے لیا گیا کہ یہ عدلیہ کی آزادی کے قریب ہے اس لئے 209 آرٹیکل برقرار رہے گا اور آرٹیکل 203 سی ساکت رہے گا۔ 18 ویں ترمیم بارے کہا گیا کہ اس کے ہٹانے کا طریقہ کار صحیح نہیں تھا صحیح طور پر مشاورت نہیں کی گئی اگر ان کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تب بھی کچھ معاملات پر بات ہو سکتی ہے۔ جسٹس اعجاز چودھری نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں ایک آرٹیکل میں ترمیم نہیں کی گئی تمام تر آئین پرنظرثانی کر دی گئی ہے جس کا پارلیمنٹ کو استحقاق اور اختیار نہیں تھا، یہ قانون ساز اسمبلی کا اختیار تھا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کرتے ہوئے آئینی اختیار استعمال کیا گیا جس کا ان کو اختیار نہیں تھا آئینی اختیار اور آئین کے تحت اختیار میں فرق ہے۔ یہ بھی اصلاحات ہیں یہ قانون سازی کا اختیار ہے آئینی اختیار نہیں ہے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ آئین کے تمام آرٹیکلز مساوی حیثیت رکھتے ہیں جب آئین بنتا ہے تو آئین بنانے کا اختیار جس کو پرائمری اور لامحدود اختیار کا نام دیا گیا آئین بننے کے بعد وہ ختم ہو گیا عام قانون بنانے اور آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار مختلف چیزیں ہیں ،اعلیٰ حقوق اور ادنیٰ حقوق کی بھی اصطلاح استعمال کی گئی ہے ،اعلیٰ حقوق عدلیہ کی آزادی کے قریب ہے۔ انہوں نے 2005ء کے سپریم کورٹ فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔ آئینی ترمیم کو سیاسی سوال قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اس کا اصل بھی پارلیمانی جمہوریت کے ذریعے ہی دیا جائے گا۔ یہ غلط ہے کہ 3 دہائیو ں سے آئین اس طرح سے چلاتا رہا ہے۔ آئینی پروویژنز اور ترمیمی پروویژنز میں کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا۔ آئینی پروویژنز کو کوئی نہیں چھیڑ سکتا وہ عوامی خواہشات کے تحت بنی ہیں جن کو ترمیم کے ساتھ متنازعہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بعض آرٹیکلز میں نہ صرف میں خود متاثر ہوں بلکہ اس ملک کے لوگ بھی متاثر ہوئے ہیں انہوں نے آرٹیکل 17(4) کا تذکرہ کیا سب آرٹیکل 4 کو ختم کر دیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سب آرٹیکل 4 اصل آئین کا حصہ تھا اے کے ڈوگر نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت پنی جماعت کے اندر انٹرا پارٹی انتخابات کرائے گی اور رہنماؤں کے درمیان انتخابات کرائے گی جس میں پارٹی عہدیدار رہنما بھی شامل ہوں گے۔ یہ بعد میں شامل کیا گیا اور ایل ایف او کا حصہ تھا۔ ہمارے ملک کے سیاستدانوں کے حوالے سے گزارشات کروں گا کہ لوگوں کے ان کے بارے میں خیالات اچھے نہیں ہیں ۔علامہ اقبال بھی ان سے مطمئن نہیں تھے اور جملہ کہا تھا جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاستدان۔ شیطان نے خدا سے کہا کہ میری اب ضرورت نہیں رہی کیونکہ میرے جانشین سیاستدان آ چکے ہیں۔ جسٹس اعجاز چودھری نے کہا کہ آپ ایک طرف تو سیاستدانوں کو سپورٹ کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ انہیں شیطان قرار دے رہے ہیں۔ اس پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ یہ جملہ صرف مجھے کاؤنٹر کرنے کے لئے آپ نے بولا ہے سب آرٹیکل ختم کرنا غیر آئینی و غیر قانونی ہے جمہوریت ہمارے ملک کا ایک ستون ہے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ سب آرٹیکل 2 بھی ختم کر دیا گیا یہ بھی ایل ایف او کے تحت ختم کیا گیا، اب کوئی پارٹی بھی نفرت پیدا کر سکتی ہے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ آپ نے صحیح جانب توجہ دلائی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو مسلح جتھے بنانے کی اجازت دے دی گئی۔ جسٹس سرمد نے کہا کہ اب یہ ختم کر کے سیاسی جماعتوں کو ہر طرح کی آزادی دے دی کہ وہ پارٹی انتخابات بھی نہ کرائیں اور جو مرضی کرتی پھریں۔ بنیادی آئینی ڈھانچے کے تو یہ بھی خلاف ہے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ آپ کے نزدیک کیا ہے۔ جسٹس سرمد نے کہا کہ ہم تو آپ کے دلائل کی بات کر رہے ہیں ،اے کے ڈوگر نے کہا کہ پہلے معاملہ درست تھا۔ جو ترمیم آئینی ڈھانچے کے مطابق وہ درست ہے۔ جمہوریت کا تو یہ خاصا ہے۔ جسٹس سرمد نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سب آرٹیکل 2 کو ختم نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ سب آرٹیکل 4 کو ختم کرنا غیر آئین ہے جو جمہوریت کو ختم کرنے کے مترادف ہے سیاسی انصاف بھی بنیادی حقوق میں سے ہے یہ اقدام بنیادی حقوق کے بھی خلاف ہے۔ اب عام لوگ لیڈر نہیں بن سکیں گے۔ انگلستان میں سیاسی جماعتوں کی لیڈر سپ پارٹی زونز اور سیکٹرز سے ابھر کر آتی ہے۔ پاکستان میں رہنما اپنی امارت کی وجہس ے آگے آتے ہیں وہ بدعنوانی کے راستے اپنا کر اختیار حاصل کرتے ہیں یہ بھی آمریت کی ایک شکل ہے۔ قائد اعظم کی زندگی بارے دو کتابوں کے حوالے بھی دیئے ۔ کسی نے جناح کو تجویز دی میرے پاس اس کتاب کی کاپی ہے جس میں کہا گیاہے کہ آپ زندگی بھر صدر نہیں بن سکتے ۔ ہم آپ کو ہر سال منتخب کریں گے ۔ پارٹی انتخابات ہونا ضروری ہیں ۔ نہ صرف یہ انتخابات ہونے چاہئیں بلکہ ان کی نگرانی الیکشن کمیشن کرے ۔انگلستان میں 92 فیصد عام لوگ ہوتے ہیں،58 فیصد ورکرز اور 11 فیصد مائنز میں کام کرتے ہیں ۔ ہاؤس آف کامن کے 50 فیصد لوگ وکلاء ہوتے ہیں ۔ مارگریٹ تھیچر اتنی غریب تھیں کہ وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی ان کا کوئی باورچی تھا نہ ہی کوئی اور خدمت گار ۔ گراؤنڈ فلور پر ان کا آفس تھا اور فرسٹ فلور پر ان کی رہائش گاہ تھی ۔ بار ایسوسی ایشنز اس لئے مضبوط ہیں کہ ان کے درمیان انتخابات ہوتے ہیں اور وہ عدلیہ کو مضبوط رکھتے ہیں ۔ پارٹی سربراہ کو تمام تر اختیارات دے دیئے گئے جو غیر جمہوری ہیں ایک شخص کو تمام اختیارات نہیں دینے چاہئیں ۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ایک شخص کو دی گئی قوت خطرناک ہے ۔ اے سی کپور پرنسپل آف پولیٹیکل سائنس کہتے ہیں کہ وہ اختیارات انتہائی خطرناک جو کوئی ایک استعمال کرتا ہے ۔ ہمارے ملک میں جمہوریت نہیں پلوٹو کریسی ہے امیروں کی حکومت امیروں کے ذریعے ۔ انہوں نے 63 بی کا بھی حوالہ دیا ۔ ایک شخص کو 5 سال قیدکی سزا سکیورٹی آف پاکستان یا غداری کی وجہ سے دی جائے اور اسے نااہل قرار دیا جائے مگر 5 سال کے بعد اسے پھر سے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور وہ پھر سے سیاست کرنا شروع کر دیتا ہے اور وہ اہل قرار دے دیا جاتا ہے ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اس کا سزا یافتہ ہونا برقرار رہے گا ۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ ممبر اسمبلی کے لئے ایماندار ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ جسٹس سرمد نے کہا کہ اگر کوئی غیر مسلم ہو گا تو وہ اچھے کردار کا حامل ہونا ضروری ہے لیکن یہ بدکردار بھی تو ہو سکتا ہے وہ بھی منتخب ہو جاتا ہے ۔ کیا صرف مسلمانوں کا ہی اچھا کردار ہوتا ہے اور باقیوں کا نہیں ہوتا ۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ آپ کا فرمانا بجا ہے ۔جسٹس سرمد نے کہا کہ ہمارے پارلیمنٹیرینز ہیں ہم ان کے محبوس اور قیدی ہیں ۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے گناہوں کو صاف شفاف اور دھونے کا موقع دیا ہے کہ وہ پانچ برسوں میں خود کو صحیح کرے ۔ اے کے ڈوگر نے کہا ممکن ہے کہ ایسا ہو ہو مگر اب ہوتا نہیں ۔ انہوں نے آرٹیکل 19 اے کا ذکر کیا۔ اب وزیرا عظم جب چاہے اور جتنا عرصہ چاہے وزیر اعظم رہ سکتا ہے ،اگر اتھارٹی میں تبدیلی نہیں ہو گی معاملات بھی نہیں بدلیں گے ۔ جمہوریت ایسا نظام ہے جس میں اتھارٹی کو بدلتے رہنا چاہئے ایک شخص کا ہر وقت صاحب اختیار رہنا خطرناک ہے اور یہ جمہوریت نہیں ہے ۔ ایک شخص کو کئی بار وزیر اعظم بننے کی اجازت دینا غلط ہے ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے جب ایک شخص کے پاس زیادہ دیر اختیار رہیں گے تو یہ اختیارات بدعنوانی کے لئے استعمال ہوں گے ۔ اداروں کا ہے پیام اور میرا اور اور کے درمندوں کا پیام ہے اور ۔ انہوں نے آرٹیکل 175 اے پر بھی دلائل دیئے ۔ جوڈیشل کمیشن میں ججز کے تقرر میں ایک شخص کو ناموں کے انتخاب کی اجازت دی گئی ہے جوڈیشل کمیشن پر میرے سنجیدہ قسم کے تحفظات ہیں ایک شخص چیف جسٹس کس طرح سے یہ سب ناموں کا انتخاب کر سکتا ہے جو ناموں کا انتخاب کرتا ہے جن کو جوڈیشل کمیشن کے بعد منظوری کے لئے پارلیمانی کمیشن کو ارسال کر دیا جاتا ہے ۔ فیڈرل شریعت کورٹ اور ہائی کورٹس میں ججز کی خالی اسامیوں پر چیف جسٹس صاحبان ہیں جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین کو یہ نام لکھ کر بھیج دیتاہے اور نامزدگی کی سفارش کرتا ہے ۔ مجھے اس لئے جج نہیں بنایا گیا چونکہ میرا تعلق ایک عام خاندان اور غریب خاندان سے تھا ۔ میں یہ مثال دے رہا ہوں ہزاروں وکلاء موجود ہیں کوئی بھی ان کے ناموں کو پیش نہیں کرتا کیونکہ یہ طریقہ کار نہیں ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 176 کی سب سیکشن 8 کے خلاف ہیں یا رولز کے بھی خلاف ہیں ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ آپ نے تجویز کیا تھا کہ پہلے درخواستیں مانگی جائیں پھر ان کا امتحان کے بعد انتخاب ہونا چاہئے ۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ انگلستان میں جج کیسے بناتے ہیں ۔ لارڈ چانسلر پورے انگلستان سے ججز کی خالی نشستوں کے حوالے سے درخواستیں مانگتا ہے ۔ اس میں سیاستدان ، وکلا اور پروفیسرز تک شامل ہیں اور یہ 900 سال سے چلا آ رہا ہے ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ 900 سال سے نہیں 2005 ء میں یہ قانون بنا ہے ۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ صرف چیف جسٹس کو ہی نامزدگی کا اختیار کیوں ؟سب وکلاء کا یہ بنیادی حق ہے آرٹیکل (3)192 اے کے تحت وہ وکالت کی پریکٹس کرتے ہیں ۔ 10 سال تک وہ ہائی کورٹ کے وکیل بنتے ہیں تب وہ ہائی کورٹ کے ججز بن سکتے ہیں ۔ آرٹیکل 175 اے کو اس آرٹیکل کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے ، 2 اے کو بھی ملایا جائے ۔ جسٹس سرمد نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ ایلیٹ کلب ہے اور چیف جسٹس اپنی مرضی کا ججز نامزد کرتا ہے ۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ آربیٹریری نامزدگی بغیر کسی نظام کے انتخاب کی ایک شکل ہے جو کہ غیر قانونی غیر آئینی کے ساتھ ساتھ غیر اسلامی بھی ہے ۔ انہوں نے 2005 ء کے ایک مقدمے کا حوالہ بھی دیا ۔ ملازمین کے انتخاب میں چناؤ کی پالیسی اور مستقل کرنے کا معاملہ آرٹیکل 2 اے کا کردار رکھا گیا ہے ۔ ریاست پاکستان میں تمام لوگوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے گا اور اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھ کر مساویانہ پالیسی پر عمل کرنا ہوگا ۔ موجودہ پالیسی پک اینڈ چوز ( ذاتی پسند ) کی ہے ۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے مجھے کہا تھا کہ آپ جج بنانے کے لئے نام بتائیں کہ جن کی عمر 50 سال سے زائد ہو ۔ میں نے کہا کہ میں کیا نام بتاؤں ۔ یہ تو پک اینڈ چوز ہے ۔ یہ نظام ذاتی پسند اور اقرباء پروری کی مثال ہے ۔ تمام وکلاء جو 10 سال بطور وکیل ہائی کورٹ پریکٹس کر چکے ہیں انہیں برابری کی سطح پر ججز کے لئے نامزد ہونا چاہئے اور یہ ان کا حق ہے ۔ ڈاکٹر مبشر حسن کیس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی اقدام جو آرٹیکل 25کی خلاف ورزی ہے وہ آئین کی خلاف ورزی ہے ۔ آرٹیکل 4 کے تحت تمام شہریوں پر مساویانہ انداز میں آئین و قانون لوگو کیا جائے گا ۔ این آر او کو امتیازی قرار دیا گیا اس لئے اس میں امتیازی سلوک رویہ رکھا گیا ۔ اگر ملک کے اندر 10 سے 20 ہزار وکلاء کا یہ حق ہے کہ ان کے درمیان کوئی فرق تھوڑی ہے سینئر جونیئر ضرور ہیں ان کو برابر یہ حق ہے کہ ان کو بھی جج کے لئے نامزد کیا جائے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جج کی جو حقیقت ہے وہ بہت باوقار ہے آپ چپ رہیں کہ کسی کا حق نہیں جس کے سر پر ہما بیٹھ گیا وہی جج بن گیا ۔ ایک کلیم اور حق میں فرق ہے ۔ مجھے بھی اپنی قوم کی بطور جج خدمت کا حق ہے ،یہ میرا کلیم نہیں ہے ۔ چیف جسٹس صاحبان اگر ہزاروں وکلاء کو سرے سے جائزہ ہی نہیں لیتے وہ قانون کی خلاف ورزی ہے جو اب بھی ہیں وہ قانون سے ہٹ کر کر رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز چودھری نے کہاکہ آپ نے بڑی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی ۔ اے کے ڈوگرنے کہا کہ چونکہ میں ججزکی کہکشاں میں ہوں وہ درخواست آپ یہاں منگوا لیں ۔ انہوں نے 1996 کیس کا بھی حوالہ دیا ۔ قرآن پاک اور حدیث نبویؐ میں کہا گیا ہے میں وہ بتانا چاہتا ہوں ۔ اے کے ڈوگر نے ججز کے تقرر کے حوالے سے برطانوی طریقہ کار بتایا۔ زیادہ تر پوزیشنز کا اشتہار دیا جاتا ہے۔ یہ میرا فرض ہے کہ میں اس عدالت کے نوٹس میں لاؤ برطانیہ میں ججز کو کوئی کار‘ پروٹوکول اور ڈرائیور تک نہیں دیا جاتا زیادہ تر ججز انڈر گراؤنڈ ریل گاڑیوں اور بسوں میں آتے ہیں‘ بھارت میں ججز کی تنخواہ 80 ہزار ہے اور زیادہ سے زیادہ حد ایک لاکھ 20 ہزار ہے جبکہ ہمارے ہاں ایک ہائی کورٹ ججز کی تنخواہ 7 لاکھ روپے سے بھی زائد ہے جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ اس بات کا آپ کے دلائل سے کیا تعلق بنتا ہے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ ججز کے تقرر کا طریقہ ہمارے ہاں غیر اسلامی ہے۔جسٹس انور نے کہا کہ کیا اس وجہ سے ہم اس آرٹیکل کی ترمیم کو ختم کر دیں کہ ججز کی تنخواہیں زیادہ ہیں اور وہ کاریں اور پروٹوکول استعمال کر رہے ہیں۔ اے کے ڈوگر نے کہا میرا مقصد یہ ہے کہ سب معاملات دیکھنا چاہئیں۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آپ انگلستان کا نظام چاہتے ہیں یا اسلامی قانون ۔ اگر اسلامی طریقہ چاہئے تو اس کے لئے اشتہار بازی اور یہ سب کیا ہے یہ تو اسلامی طریقہ سے نہیں ہے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ اسلام پسند ناپسند کے خلاف ہے جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جج کے تقرر کا اسلام میں کیا طریقہ کار ہے جسٹس جواد نے کہا کہ روایات سے بھی کوئی چیز اخذ ہو جاتی ہے ۔آپﷺ کے خطوط سے بھی مدد لی جا سکتی ہے آداب ثانی بھی دیکھے جا سکتے ہیں شاہد اس میں موجود چیزیں نہیں آ سکتی ہیں وکیل کہاں سے آئے ہیں اسلام کے مطابق معاملہ قاضی کے روبرو پیش کیا جاتا ہے وہاں وکیل پیش نہیں ہوتے وہ سن کر فیصلہ کر دیتے ہیں یہ نہیں ایک طرف ایک وکیل اور دوسری طرف دوسرا وکیل کھڑا ہو اور دلائل دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک فیصلہ اردو میں تحریر کیا ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ وکیلوں کی مدد کے بغیر اچھا فیصلہ آیا۔ اے کے ڈوگرنے کہا کہ عبداللہ خان کیس میں جج کو حقائق کے مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ دینا چاہئے وہاں وکیل مقرر کرنے کی ضرورت نہیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اسلام میں وکیل کی نہیں مفتی کی ضرورت ہے قاضی کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ ان سے مشاورت کر سکتے ہیں۔ دارالمفتاح سے رابطہ کیا جا سکتا ہے جسٹس اعجاز چودھری نے وکلاء کا سات سات دنوں تک گواہوں پر جرح کرنا اسلامی نہیں ججز کو جرح کا اختیار ہے اس نظام میں یہی تو خرابی ہے سول مقدمات میں 40‘ 40 سال لگ جاتے ہیں اے کے ڈوگر نے کہا کہ پسند ناپسند کا نظام ختم ہونا چاہئے۔ جسٹس اعجاز چودھری نے کہا کہ اگر کوئی ججز کو مقرر کرتے ہوئے ذاتی پسند ناپسند کو اپنائے گا تو یہ غلط ہو گا۔اے کے ڈوگر نے کہا کہ نظام بدلنا چاہئے کئی پڑھے لکھے لوگ آج بھی ججز بننے سے محروم ہیں کیونکہ نظام نہیں ہے۔ اصل میں ہم غلامانہ ذہنیت رکھتے ہیں جسٹس اعجاز چوہدری نے کہا کہ ہم اس نظام کے اسیر ہوتے ہیں کہ جس سے انصاف مل رہا ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے ہیں کہ اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ ہم چونکہ آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پر اڑنا‘ منزل ہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں۔ 1980 سے قانون میں لکھا ہوا ہے کہ کوئی مائی لارد نہیں کہے گا مگر آج بھی کہا جاتا ہے ،ٹائی عیسائیوں کی مہربانی ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اس کے فائدے بھی ہیں کہ ہمارے استاد کہتے ہیں کہ اس ٹائی سے ہم اپنی ناک بھی پونچھ سکتے ہیں۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ اردو کا نفاذ نہ ہونا بھی غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے ہے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ چلتے چلتے ایک سوال کرتا ہوں انگریز چلتے چلتے اپنا نظام دے گئے اور خود اسلامی نظام پر چل رہے ہیں ،اے کے ڈوگر نے کہا کہ حضرت عمرؓ ساری رات لوگوں کی چوکیداری کرتے تھے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ایک فیصلہ ہمیں اسلام نے بھی دے دیا ہے وہ بھی پڑھ لیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی اور درخواست گزار باقی رہ گیا ہے کہ کسی کو دلائل دینا ہوں تو کوئی بھی وکیل سامنے نہ آیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل (جمعرات) ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کر دی۔

مزید : صفحہ اول