جعلی پولنگ سے بچنے کیلئے نادرا کا ڈیٹا بیس مکمل اور درست کیا جائے

جعلی پولنگ سے بچنے کیلئے نادرا کا ڈیٹا بیس مکمل اور درست کیا جائے
  • جعلی پولنگ سے بچنے کیلئے نادرا کا ڈیٹا بیس مکمل اور درست کیا جائے
  • جعلی پولنگ سے بچنے کیلئے نادرا کا ڈیٹا بیس مکمل اور درست کیا جائے

 واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف)جعلی پولنگ سے بچنے کا سب سے قابل عمل اورمناسب طریقہ یہ ہے کہ ایک فول پروف درست اورمکمل ڈیٹا بیس کے ذریعے نادرا جو ووٹرز لسٹ فراہم کرے اس کے مطابق ہر پولنگ سٹیشن پر ووٹ ڈالنے کو یقینی بنایا جائے۔پاکستان کے انتخابات کو جائز اورمنصفانہ طریقے سے منعقدکرنے کے بارے میں اس رائے کا اظہار فرانزک سسٹم کے پاکستانی نژاد نامورامریکی ماہر یونس چودھری نے واشنگٹن میں روزنامہ ’’پاکستان ‘‘ کو ایک خصوصی انٹرویودیتے ہوئے کیا۔وہ امریکی فوج کی کریمینل برانچ میں فرانزک کے سینئر ماہر کے طورپر کام کر چکے ہیں اور حال ہی میں ’’پاکستانی امریکن کانگریس‘‘ کے نائب صدرمنتخب ہوئے ہیں۔وہ فرانزک سسٹم کے بارے میں مشاورت کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی طرف سے ماضی میں پاکستان کا دورہ بھی کر چکے ہیں جس کے دوران انہوں نے لاہور،کراچی،کوئٹہ،پشاور میں پولیس کی کرمینل لیبارٹریز کے علاوہ اسلام آباد میں نیشنل پولیس اکیڈمی کا معائنہ بھی کیا اورمجرموں کی شناخت کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز بھی دیں۔ یونس چودھری نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ پتہ نہیں پاکستان میں ووٹوں کی تصدیق کے لئے انگوٹھوں کے نشان لگانے ،ان کا جائزہ لینے اور مقناطیسی سیاہیاں استعمال کرنے کا تصورکہاں سے آگیا؟ وہ کہتے ہیں یہ ایک انتہائی فضول طریقہ اور وقت کا ضیاع ہے جو مجرموں کی شناخت کے لئے تو استعمال ہو سکتاہے لیکن مہذب معاشروں میں عام ووٹروں پراسے آزمانے کا کوئی رواج نہیں ہے۔یونس چودھری کہتے ہیں کہ جعلی ووٹ ڈالنے کے عمل کو روکنے کے لئے پاکستان میں یہ غلط تصور بنالیا گیا ہے کہ اس کا بنیادی طریقہ مقناطیسی یا دوسری سیاہی سے ووٹروں کے انگوٹھوں کے نشان حاصل کرکے ان کی تصدیق کرنا ہے ۔ اس لئے سارے انتخابی نظام کی توجہ اس بے مقصداورلاحاصل عمل پر مرکوزہو رہی ہے۔یہ طریقہ نہ صرف ناقابل عمل ہے بلکہ اس پر فالتو میں قیمتی سرمایہ ضائع کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں یونس چودھری نے بتایا کہ نادرا شناختی کارڈ اورپاسپورٹ بنانے کے لئے جو انگوٹھوں کے نشانات لیتا ہے وہ درست ہے اور اسے جاری رکھنا چاہیے تاہم جب شہری اس مقصد کے لئے نادرا کے دفتر جائیں تو یہ بات یقینی کر لی جائے کہ نشان درست ہو اور لکیریں واضح ہوں۔اگرلکیریں واضح نہیں ہوئیں تو پھر مصدقہ شناختی کارڈنہیں بن سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے برس پاکستان میں مردم شماری ہونے والی ہے ۔وہ حکومت اورعوام سب کے لئے قومی ڈیٹابیس کو درست اورمکمل بنانے اورغلطیوں سے پاک کرنے کابہترین موقع ہے۔نادرا کی سطح پر انگوٹھوں کے نشان یا بائیومیٹرک سسٹم کے دوسرے ذرائع سے پاکستان کے شہریوں اورووٹروں کا تصدیق شدہ اپ ڈیٹڈ ڈیٹابیس موجود ہونا یقیناًبہت ضروری ہے۔لیکن پولنگ سٹیشن پر انگوٹھے لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔یونس چودھری کہتے ہیں کہ پولنگ سٹیشن میں موجود ووٹرلسٹ اگرنادرا کے ایک سائینٹفک فول پروف سسٹم کے ذریعے بنائی گئی ہے تو پھر اہمیت صرف شناختی کارڈ نمبرکی ہے۔ اگر پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں پولنگ افسر ایک ووٹراوراس کے شناختی کارڈ نمبر کے استعمال ہونے پر اندراج کر دیا تو پھر یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ووٹردوبارہ ووٹ ڈال سکے۔غلط اورجعلی شناختی کارڈوں کے ذریعے ووٹ ڈالنے کو روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ نادرا کے ڈیٹا بیس میں سے وہ تمام شناختی کارڈ خارج ہو جائیں جو درست نہ ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں یونس چودھری نے بتایا کہ اگر ایک ووٹر اصلی ہے اور اس کا درست ووٹ فہرست میں موجود ہے اور وہ کسی وجہ سے اپنا شناختی کارڈ پولنگ سٹیشن پر نہیں لا سکا تو اس کوبھی دیگر تصدیق فراہم کرکے ووٹ ڈالنے کی اجازت ہو سکتی ہے۔ پولنگ افسر فہرست میں اس پر عبوری نشان لگا سکتاہے تاکہ بعد میں کوئی اور اس کی جگہ ووٹ نہ ڈال سکے۔یونس چودھری نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ دنیا بھر میں انگوٹھوں کے نشانوں کے ذریعے شناخت کا نظام جو AFISکہلاتاہے صرف نامعلوم افراد اور مجرموں کی شناخت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔یہ کام کریمینل لیبارٹریز میں ہوتا ہے اوراس پر بہت وقت صرف ہوتاہے ۔ مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ پاکستان میں یہ نظام عام ووٹروں کی تصدیق کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے جہاں درست نشان لگانے کی تربیت ہے اورنہ شعور۔ اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں صحیح ووٹ پڑنے کو یقینی بنانے کے لئے نادر ا کے پاس موجود انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا کو درست رکھا جائے اور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ کسی تبدیلی کی صورت میں بر وقت نادرا کو اطلاع دیں۔ میری تو یہ سفارش ہے کہ ووٹ ڈالنے کے لئے انگوٹھوں کے نشان لگانے کی شرط یکسر ختم کر دی جائے کیونکہ یہ وقت کے ضیا ع کے سوا کچھ نہیں ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ووٹ ڈالنے کے نظام کو کمپیوٹرائزڈکر دیا جائے تو ان کا جواب تھا کہ ہرگز نہیں۔یہ نظام یقیناًآئیڈیل ہے لیکن پاکستان میں اس کا تجربہ بالکل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ یہاں قابل عمل ہی نہیں ہے۔ اس کے لئے تمام ووٹروں کے لئے اتنا تعلیم یافتہ ہونا اور ذہنی اعتبار سے اتنا ہوشیارہوناضروری ہے کہ وہ کمپیوٹر پر اپنے امیدوارکاانتخاب کر سکیں۔اس کے لئے ضروری ساز و سامان خریدنے اورعملے کی تربیت کی بھی ضرورت ہوگی جس پر بہت خرچ آئے گا۔فرض کریں یہ سب کچھ کرلیاجاتاہے تو پھر اسے استعمال کرنے کے لئے ووٹروں کی بے شمار غلطیوں کے باعث نئے تنازعے کھڑے ہوجائیں گے۔اگرآئندہ انتخابات میں بیرون ملک پاکستانیوں کوووٹ ڈالنے کا حق مل جاتاہے تو پھر بیرون ملک پولنگ سٹیشنوں پر کمپیوٹرائزڈسسٹم کا تجربہ کیا جا سکتاہے کیونکہ بیرون ملک ووٹرز اپنے اپنے ممالک کے انتخابات میں اسی طرح ووٹ ڈالتے ہیں اورانہیں اس سسٹم کو استعمال کرنے کا تجربہ ملک کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے اورجرائم پیشہ افراد کی شناخت کے لئے پاکستان میں پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے اپنی تجربہ گاہوں اور ہوائی اڈوں پر جو سسٹم استعمال ہو رہاہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے یونس چودھری نے کہا کہ یہ نظام کافی حد تک تسلی بخش ہے لیکن اسے عالمی معیار تک لانے کے لئے مزید بہتربنانے کی ضرورت ہے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں کچھ اصطلاحات کوغلط طورپراستعمال کیا جاتاہے۔مثال کے طور پر انگوٹھوں کے نشانات کے ذریعے شناخت کو میڈیامیں بائیو میٹرک سسٹم قراردیاجاتاہے جو درست نہیں ہے۔یہ اصل میں AFISہے اورمیرے علم کے مطابق گزشتہ انتخابات میں بہت سے نشانات محض سیاہی کے نشان ہیں جس میں انگوٹھوں کی لکیریں نظرنہیںآئیں تو پھر یہ سب بے کار ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک جرائم پیشہ یامشکوک افراد کی شناخت کے لئے بائیومیٹرک سسٹم کا تعلق ہے تو اس میں انگوٹھوں کے علاوہ دونوں ہاتھوں اورپیروں کے پنجوں کے نشان اورآنکھ کی پتلیوں کی تصاویرشامل ہیں۔شناختی کارڈاورپاسپورٹ بنانے کے لئے بھی AFISنظام تو استعمال ہوتاہے ۔جزوی طورپر بائیومیٹرک سسٹم بھی استعمال کیاجاسکتاہے ۔یونس چودھری کاکہنا ہے کہ درست پولنگ اورملک کی سکیورٹی کے لئے جہاں نادرا کو تمام شہریوں اور ووٹروں کاڈیٹابیس مکمل اورغلطیوں سے پاک بنانا چاہیے وہاں سکیورٹی اداروں کوبھی کریمینل لیبارٹریز اور اس کے بعد اسلام آبادمیں مرکزی نیشنل لیبارٹری کاڈیٹا بیس بھی مضبوط بنانا چاہیے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ نارا کی صلاحیت میں اضافہ کرکے اسے قابل بنادیا جائے اوروہاں بد عنوانی ختم کرکے یہ یقینی بنایا جائے کہ جعلی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بنانا ناممکن ہوجائے۔نادراکاڈیٹابیس مضبوط اوردرست ہوگا تو پھر ووٹروں کے لئے انگوٹھوں کے نشانات لگانے کی شرط ختم کی جا سکتی ہے۔ نادرا کا ڈیٹا

مزید : صفحہ آخر