وکلاء کا احتجاج اور پرتشدد ۔ اتفاق سے؟

وکلاء کا احتجاج اور پرتشدد ۔ اتفاق سے؟
وکلاء کا احتجاج اور پرتشدد ۔ اتفاق سے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ : چودھری خادم حسین

کیا یہ اتفاق ہے؟ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومتوں کو تخریب کاری اور دہشت گردی کے سوا کسی اور خطرے کا سامنا نہیں اور دونوں صوبائی حکومتوں کے حکمران اتحادوں میں اختلاف کی خبریں منظر عام پر آنے کے باوجود حکومتوں کو خطرہ یا کسی بڑے بحران کا سامنا نہیں اور کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ سندھ حکومت کو اندر سے زخم لگ رہے ہیں اور اکثر گورنر راج کی آواز آتی رہتی ہے اور یہ بھی اب اتفاق ہے کہ ڈسکہ کے سانحہ پر احتجاج نے مختلف شکل اختیار کرلی ہے اور یہ بھی اتفاق ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے جن کے درمیان جمہوری مدت پوری کرنے پر اتفاق ہے۔

چند روز سے جنرل (ر) پرویز مشرف جو عدالت میں پیش کئے جانے والے ریکارڈ کے مطابق شدید علیل ہیں کہ سفر کرکے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے اپنے گھر پر بہت مصروف ہوگئے۔ مسلم لیگوں کو اکٹھا کرنے کا پرانا کام شروع ہوگیا، اور اب ایک انٹرویو میں کہتے ہیں،دو بڑی پارٹیوں نے باریاں لگائی ہوئی ہیں، اب کوئی تیسری قوت آنا چاہیے۔

یہ ایک معمولی سا جائزہ ہے جس پر بہت تفصیل سے بھی بات ہوسکتی ہے تاہم اب صوت حال ذرا مختلف ہے اور کسی نہ کسی وجہ سے کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا ہوتا جا رہا ہے، کیا آصف علی زرداری کی ’’بلے‘‘ والی نصیحت پر عمل نہ ہونا ہی وجہ ہوسکتی ہے؟ یہ بھی ایک بڑا سوال ہے، جو قوتیں جمع ہونے کو پھر پھڑا رہی ہیں ان کا پس منظر بھی کچھ ایسے ہی اشارے دیتا ہے، غور کی ضرورت ہے۔

یہ سب کو علم تھا اور چودھری نثار کے قریبی صحافی تو واضح طور پر کہتے تھے وہ بعض پالیسیوں پر تحفظات کے باعث ناراض ہیں باغی نہیں اور کسی بھی لمحے پھر حالات جوں کے توں ہوسکتے ہیں اورایسا ہی ہوا۔ پھر شہباز شریف کام آئے، گزشتہ روز (منگل) صبح وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی ملاقات ہوگئی، چودھری نثار چلے گئے۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے تو ہونا تھا، اسحق ڈار بھی موجود تھے، اور یہ گھریلو میٹنگ صلح پر منتج ہوئی لیکن یہ علم نہیں ہوسکا کہ ناراضی کیا تھی اور تحفظات کس حد تک دور ہوگئے، البتہ یہ بات تصدیق شدہ ہے کہ تحفظات کا تعلق محترم اسحق ڈار کی ذات سے بھی تھا۔

حکمرانوں کو نئی صورت حال کا سامنا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ یہ بحران کیا رخ اختیار کرتا ہے اور کتنی دیر میں ختم ہوتا ہے، معاملہ وکلاء کا ہے، جو متحرک اور پڑھے لکھے اور قانون کے پاسبان ہیں، ان کے احتجاج میں اتنا شدید تشدد۔ یاالٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔

آج کے تجزئیے میں اشارے کئے اور سوالات چھوڑے ہیں۔ قارئین خود بھی نتائج اخذ کریں۔ ہمارا یقین ہے کہ عوام زیادہ باشعور ہیں۔

وکلاء کا احتجاج

مزید : تجزیہ